
*غزوۂ بدر*

یومِ بدریومُ الفرقان 17رمضان دنیا کے اندر وہ دن ہے کہ جس دن حق و باطل کے درمیان جنگ ہوئی تھی اور حق باطل کے مقابلے میں کامیاب ہوا اسی پر مغرب کے ایک بڑے محقق نے لکھا ’’بدر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب اور ریاست تھا،مگر بدر کے بعد وہ مذہبِ ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا‘‘ ۔بدر کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ یہاں بدر بن یخلد بن النضر بن کنانہ آباد ہوا تھا۔ بعض کہتے ہیں کی بدر بن حارث نے یہاں کنواں لگوایا تھا۔ بیئر بدر کی وجہ سے اس جگہ کو بھی بدر کہنے لگے ۔ اللہ نے رسول اللہﷺ کو دنیا کے تمام لوگوں کے لیے رحمۃ اللعالمین بنا کے بھیجا ہے۔ رسول اللہﷺ نے لوگوں کو سمجھاتے ہوئے کہا کہ تمہاری مثال ایسی ہے تم پروانوں کی طرح آگ پر گر رہے ہو اور میں تمہیں اس آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں۔

اس کوشش میں مکہ کے 13 سال میں آپﷺ اورصحابہؓ کو بہت ستایا گیا کہ رسول اللہﷺ نے کہا دین کے معاملے میں جتنا مجھے ستایا گیا ہے کوئی اور پیغمبر نہیں ستایا گیا۔ بازار کے اندر آپ ﷺ لوگوں کو دعوت دیتے پیچھے ابو لہب لوگوں کو کہتا یہ میرا بھتیجا ہے یہ جھوٹ کہتا ہے۔ خانہ کعبہ میں سجدے کی حالت میں سر پر اونٹ کی اوجھری ڈالی گئی۔ گردن میں چادر ڈال کرختم کر دینے کی کوشش کی گئی۔ دو بیٹیوں رقیہؓ اور ام کلثومؓ کوچچا ابولہب کے بیٹوں نے طلاق دی۔ طائف میں لہولہان کیا گیا۔ رسول اللہﷺ کا بیٹا عبداللہ فوت ہوا تو چچا ابولہب خوش ہوا۔ دوستوں کو خوشخبری دی کہ محمد ﷺ ابتر ہو گیا ہے۔

اس پر قرآن شریف میں اللہ نے فرمایا’’ابولہب کے ہاتھ ٹوٹے اور وہ ہلاک ہوا(سورہ نمبر 111،آیت نمبر 1)‘‘ابولہب کی بیوی جو ابوسفیانؓ کی بہن تھی رسول اللہ ﷺ کے راستے میں کانٹے ڈالتی تھی۔آپ ﷺ کے کافر پڑوسی جب آپ ﷺ گھر میں نماز پڑھ رہے ہوتے تو وہ آپﷺ کے سر پر بکری کی بچہ دانی ڈال دیتے۔ چولھے پر ہانڈی چڑھائی جاتی تو بچہ دانی اس طرح پھینکتے کہ سیدھے ہانڈی میں جا گرتی۔امیہ بن خلف کا وطیرہ تھا جب رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا تو لعن طعن کرتااس پر آیت اتری ہر لعن طعن اور برائیاں کرنے والے کے لیے تباہی ہے‘‘(الھمزۃ )۔اخنس بن شریق ثقفی بھی آپ ﷺ کو ستاتا تھا اس پر یہ آیت اتری ’’تم بات نہ مانو کسی قسم کھانے والے ذلیل کی جو لعن طعن کرتا ہے ،چغلیاں کھاتا ہے۔ بھلائی سے روکتا ہے، حد درجہ ظالم، بد عمل اور جفا کار ہے۔اوراس کے بعد بداصل بھی ہے‘‘(القلم13،10)۔

ابوجہل بھی آپﷺ کو تکلیفیں پہنچاتا تھا ایک دفعہ آپ ﷺ نماز کی حالت میں تھے کہ آپ ﷺ پر مٹی ڈالنے آیا مگر اللہ کے حکم سے درمیان میں آگ اُسے آگے نہیں جانے دے رہی تھی۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر یہ قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو اُچک لیتے۔ 3 سال تک شعب ابوطالب میں محصور رکھا گیا، قتل کرنے کی اور ملک بدر کرنے کی سازش کی گئی، مخالفت میں کیا کچھ نہ کیا گیا ۔ابوجہل نے حضرت سمیہؓ کو برچھا مار کر شہید کیا۔ حضرت مصعب بن عمیرؓ کا دانہ پانی بند کیا گیا۔ حضرت عثمان بن عفانؓ کو چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیا گیا۔ آلِ یاسر کو تکلیفیں دی گئیں۔ حضرت بلالؓ کو گرم ریت پر لٹایا گیا گھسیٹا گیا ان کے سینے پر بھاری پتھر رکھے گئے۔ حضرت خبیبؓ کو گرم کوئلوں پر لٹایا گیا ،کیا کیا بیان کیا جائے۔ ان مظالم کی وجہ سے حبشہ کی طرف دو دفعہ ہجرت کی گئی.

13سال مکہ میں اللہ کے رسولﷺ نے مشرکین اور سردارانِ قریش کو ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی وہ ایمان کیا لاتے ،الٹا نادانوں نے رسول اللہﷺ کے قتل کا پروگرام ترتیب دیا سب قبیلوں میں سے ایک ایک نوجوان کو اس کام کے لیے چنا گیا، اور ان سے کہا گیا کہ یک بارگی سے رسول اللہ ﷺ پر حملہ کر کے انہیں قتل کر دیا جائے اس طرح بنو ہاشم سب قبیلوں سے لڑ نہیں سکیں گے اور خون بہا پر راضی ہو جائیں گے۔ اسی موقعے پراللہ نے نبیﷺ کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت دے دی۔ رسول اللہﷺ حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر لیٹنے کا کہہ کر مدینہ ہجرت کر گئے حضرت علیؓ سے کہا تمام لوگوں کی امانتیں ان کو واپس کر دینا جب قریش مکہ کے سب نوجوان قتل کے لیے پہنچے تو وہاں حضرت علیؓ کو پایا اس پر پشیمان ہو کر واپس چلے گئے۔

ظالموں نے رسول اللہ ﷺ کو مدینہ میں بھی چین سے نہیں رہنے دیا، اور طرح طرح کی سازشیں کرنے لگے۔ اس کے بعد قریش نے ارادہ کرلیا تھا کہ فوجی طاقت سے مسلمانوں کی اجتماعی قوت کو فنا کر دیا جائے اور ایسا ناگہانی حملہ کیا جائے جو مسلمانوں کو پامال ہی کر دے قریش مکہ نے عبداللہ بن اُبی رئیس المنافقین (یہ وہ شخص ہے جسے رسول اللہﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے مدینہ والے اپنا سردار بنانے والے تھے اس کا تاج بھی تیار ہو گیا تھا) کوخط لکھاتم لوگوں نے ہمارے آدمی(رسول اللہ ﷺ) کو اپنے ہاں پناہ دی ہے ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ یا تو خود اس سے لڑو اور اِسے نکال دو، ورنہ ہم تم سے لڑیں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور تمہاری عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے۔ عبداللہ بن اُبی شر پر آمادہ ہوا مگر رسول اللہ ﷺ نے اس کے شر کی روک تھام کردی۔

پھر سعدبن معاذؓ رئیسِ مدینہ عمرے کے لیے مکہ گئے وہاں حرم کے دروازے پر ابوجہل نے ان کو ٹوک کر کہا تم ہمارے دین کے مرتدوں کو پناہ دو اور ہم تمہیں اطمینان سے مکہ میں طواف کرنے دیں اگر تم امیہ بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو یہاں سے نہیں جا سکتے تھے۔ سعد بن معاذؓ نے جواب دیا اگر تم نے مجھے اس سے روکا تو میں تمہیں اس چیز سے روک دوں گا جو اس سے شدید تر ہے۔ یعنی مدینہ پر سے تمہاری تجارتی رہ گزر۔ گویا یہ اس بات کا اعلان تھا کہ اگر تم نے مسلمانوں کو مکہ آنے سے روکا تو تمہیں ہم مدینہ کے راستے شامی تجارت سے روک دیں گے حالات یہاں تک پہنچ گئے کہ شعبان 2 ھ مطابق 623 ء میں قریش کا ایک بڑا تجارتی قافلہ ابوسفیان کی سرکردگی میں شام سے مکہ آرہا تھا۔

جب یہ قافلہ مدینہ کے قریب آنے لگا تو ابوسفیان نے مکہ سے اپنے لوگوں کو مدد کے لیے کہا۔ جب ایلچی مدد کے لیے مکہ پہنچا تو سردرانِ مکہ نے مشورہ کیا اس مدینہ کی بستی پر حملہ کیا جائے تاکہ روز روز کی پریشانی سے جان چھوٹ جائے اور مسلمانوں کا خاتمہ کر دیا جائے اس غرض کے لیے مکہ کے سارے سردار اپنے ساتھ 1000 مردان جنگی جن میں 600 سو زرہ پوش تھے جن میں 100 سواروں کا قافلہ بھی شامل تھا پوری شان وشوکت کے ساتھ مسلمانوں کا خاتمہ کرنے نکلے تھے اُدھر رسول ﷺ نے انصار و مہاجرین کو جمع کیا اور کہا ایک طرف لشکر ہے دوسری طرف تجارتی قافلہ کس طرف جانا چاہتے ہو اللہ کا وعدہ ہے دونوں میں ایک تمہیں مل جائے گا ایک بڑے گروہ نے قافلے کی طرف جانے کا کہا مگر رسول ﷺ کی خواہش تھی کے لشکر کے مقابلے میں چلنا چاہیے۔
اس پر رسولﷺ نے ایک بار پھر سوال دہرایا اس پر مہاجرین میں سے حضرت مقداد بن عمروؓ نے اٹھ کر کہا رسولﷺ جدھر آپ کو اللہ کا حکم ہے چلیں ہم آپ ﷺ کے ساتھ ہیں ۔ہم بنی اسرائیل کی طرح یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ تم اور تمہارا خدا لڑیں ہم یہاں بیٹھے ہیں۔ اس پر سب کی رائے ایک ہو گئی اور صحابہؓ لشکر قریش کی طرف روانہ ہوئے ۔ان کی تعداد 83 مہاجرین 61 قبیلہ اوس اور 152 قبیلہ خزرج 79 متعلقین ہر دو قبائل(اصحابِ بدر مولانا محمد سلیمان منصور پوری) جن میں صرف دو تین کے پاس گھوڑے باقی آدمیوں کے لیے 70 اونٹ تھے سامانِ جنگ بلکل ناکافی تھا ۔17رمضان کو بدر کے مقام پر فریقین کا مقابلہ ہوا ۔رسولﷺ نے اللہ سے دعا کی’’ یااللہ یہ ہیں قریش اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول کو جھوٹا ثابت کریں یارب بس آجائے تیری وہ مدد جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا اے اللہ اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو رُوئے زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہو گی‘‘حق وباطل کی پہلی جنگ میں مسلمانوں کے مد مقابل کسی کا باپ،کسی کا بیٹا،کسی کا چچا،کسی کا ماموں،کسی کا بھائی اس کی اپنی تلوار کی زد میں آرہا تھا اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کاٹنے پڑرہے تھے نبی ﷺ نے اُمت کی شیرازہ بندی اس طرح کی تھی کہ جنگ بدر کے موقع پر صحابہ کرامؓ نے اپنے رشتہ داروں سے جنگ کی اور انہیں قتل کیا۔

حضرت معصب بن عمیرؓ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا۔حضر ت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے اپنے باپ عبداللہ بن جراح کو قتل کیا۔حضرت عمرؓ نے اپنے ماموں عاص بن ہشام کو قتل کیا۔حضرت علیؓ نے شیبہ کو قتل کیا۔حضرت حمزہؓ نے ہندہ کے باپ عتبہ کو قتل کیا۔حضرت عبیدؓبن حارث نے ولید بن عُتبہ کو قتل کیا۔ ابو جہل کو حضرت معوذ اور معاذؓ دونوں نے قتل کیا۔ حق اور دین کی حفاظت کے لیے اپنے قریبی رشتہ داروں کو قتل کیا۔ یہ حق اور باطل کی جنگ تھی۔اس جنگ میں قریش مکہ کے 70 آدمی مارے گئے اور 70 قید ہوئے قریش کے بڑے بڑے سردار اس جنگ میں مارے گئے اسی پر جیسے ہم نے پہلے کہا ہے کہ مغرب کے ایک بڑے محقق نے لکھا ’’ بدر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب اور ریاست تھا ،مگر بدر کے بعد وہ مذہبِ ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا‘‘

قارئین کرام!اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے بدری صحابہ کرامؓ کی قربانیوں کی وجہ سے آج دنیا کے اندر ایک ارب پچاس کروڑ سے زائد مسلمان آباد ہیں 58 سے زائد آزاد مسلم ممالک ،تیل اور معدنیات کے ذخائر، آبی گزر گاہیں،ہوائی گزر گاہیں اور دولت سے مالا مال مگر دشمن ہر جگہ ہمیں ذلیل و خوار کر رہا ہے جب کہ اللہ کا وعدہ ہے تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو ۔دنیا جہاں کی برائیاں مسلمانوں میں در آئی ہیں۔بقول شاعرِ اسلام علامہ اقبالؒ۔’’ *تم مسلمان ہو تمہیں دیکھ کے شرمائیں یہود*‘‘اُمتِ مُسلمہ کو پھر سے اپنے کھوئے ہوئے مقام کی کوشش کرنی چاہیے مگر اس کے بغیر نہیں ہو سکتا جب تک ہم مومن نہیں بن جاتے۔ہم بہتر مسلمان بننے کی کوشش نہیں کرتے۔
*

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سیدھے راستے پر چلائے ۔آمین۔*

حافظ محمد عبداللہ
