بنت عبد الحق 🕋
رجسٹرڈ ممبر
سوال:آجکل بہت سے لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ یکم محرم کو نہیں بلکہ چھبیس ذی الحجہ کو شہید ہوۓ تھے، اہل سنت نے تاریخ بدل دی ہے اور اسکا مقصد محرم الحرام میں ہونے والے سانحہ عظیم ،شہادتِ امام حُسین ؓ سے عوام الناس کی توجہ ہٹانا ہے. اور اس لیے کہ انہیں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقابلہ کرنا ہے (أَسْتَغْفِرُ اللّٰه).الجواب: یہ بات "اہل باطل" کرتے ہیں....یہ خالص باطل نظریہ ہے.... چھبیس ذی الحج کو زخمی ہوئے تھے جب ابو لولؤ فیروز ملعون نے خنجر کا وار کیا تھا اور زخمی رہنے کے بعد یکم محرم کو شہید ہوۓ تھے،اہل سنت والجماعت کے نزدیک یکم محرم ہی ہے...اس سے معلوم ہوا اسلامی سال شروع بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ سے ہوتا ہے اور ختم بھی فاروق اعظم رضی اللہ عنہ پر ہوتا ہے ۔ اس لیے بہت سے مبغضین صحابہ کو تکلیفِ شدید ہوتی ہے ۔لہٰذا انکا اہل سنت والجماعت کو اس بات پر بُرا بھلا کہنا اِن کی اپنی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے............، دوسری بات کہ بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ یکم محرم کو شہید نہیں ہوۓ تھے،بالفرض کا لفظ یاد رکھیں،تب بھی یکم محرم کا دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام....وہ کیسے؟تو ایک بات غور سے سنیے،پہلے اسلامی تاریخ کا کوئی کانسپٹ نہیں تھا....حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں مشورہ ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ اسلامی تاریخ بنائی جائے....کسی نے کہا کہ ہجرت کے سال سے شروع کیا جائے،کسی نے مشورہ دیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت جب ہوئی اس تاریخ سے سال کا آغاز کیا جائے....مختلف آراء سامنے آئیں..... خیر اتفاق کے بعد یکم محرم کو اسلامی تاریخ کی بنیاد ڈالی گئی....اگر آج اہل باطل کہتے ہیں کہ یکم محرم کو کوئی شہید نہیں ہوۓ تھے تب بھی یکم محرم کو انکو خراج تحسین پیش کرنا تو بنتا ہی ہے،.......ایک دن انکے نام کرنے پر اہل باطل کو تکلیف ہوتی ہے جبکہ ایک دن کیا ہم تو کہتے ہیں کہ سال کے ٣٦٠ دن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام!کیونکہ اس اسلامی سال/تاریخ کی بنیاد رکھنے والی شخصیت ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ہے!! (اسلامی سال والا نکتہ:بیان جانثار صحابہ حضرت مولانا مسعود الرحمن عثمانی صاحب رحمہ اللہ کے بیان سے انتخاب)