معاشرتی سطح پر اغیار کی سازشوں سے لگائی جانے والی آگ کے شعلوں کو بجھا دینے کی سعی میں ایک ننھا سا قطرہ جو اللہ رب العزت کے فضل اور توفیق سے میمونہ نعمان بنت محمد ہارون انصاری ریاض کے قلم سے روشنائی کی صورت میں اپنی ننھی کاوش کے طور پر پیش کیا گیا جسے بفضلہ تعالی پاکستان کے کئی اخباروں نے اپنے کالموں میں جگہ دی۔خیر خواہی کی امید پراب دین کی خدمت میں مشغول اس پلیٹ فارم پہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔
*فیمينزم کا فریب* پہلا حصہ۔
*تحرير: ميمونه نعمان بنت محمد ہارون انصاری ریاض
یہ تحریر ان بہنوں کے نام ہےجو خود اپنے خمیر کی آواز سننے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے کانوں میں دجل اور فریب کی مکاریوں کا سیسہ بھر دیا گیا ہے-
عورت تو گویا کہ خمیرِ وفا سے گندھی ہوئی ہہے ایثار سے مہکتا ہوا گلاب ہے."عورت" ہی تو اطاعت کا پیکر، ایمان کا منبر، خلوص کا مرہم بنی تو خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں، عزت و شرف کی حفاظت میں جذبہِ شجاعت کی حدوں کو پار کیا تو حضرت ضرار رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں- دین و حق پرستی و معرفت و اعترافِ حق میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں تو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں، قربانی کی انتہاؤں کو مسخر کیا تو بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں۔
یہ اِن ہی پاکیزہ ماؤں اور کامیاب عورتوں کی اطاعت اور بے لوث قربانیاں تھیں کے نفاذِ شریعتِ محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے محاذ پر اپنے تن، من، دھن ،محنت، محبت، قربانی، وفائیں، عطائیں، خواب اور تعبیریں الغرض رشتے ناطے شوہر، باپ، بیٹے اور بھائی سب کا سب ایک مقصدِ عظیمہ پر ایسا پیش کیا کہ نصرتِ خداوندی کے طور پر ایسے مضبوط خاندانی اور نتیجتاً سیاسی و سماجی ، معاشی اور معاشرتی نظاموں نے جنم لیا کہ عالمِ کفر و شرک کے ایوان اس طاقت سے بے قرار اور خوفزدہ نظر آئے۔
دوسری طرف چونکہ ان دشمنان کے اپنے دامن اس نعمتِ بیش بہا سے محروم تھے تو حسد کی آگ ان کے گھروں سے ہمارے گھروں تک پھیلی اور اب اس کی چنگاریوں میں ہم جلتے ہوئے کئی جذبے دیکھ سکتے ہیں۔
مثلاً ..... *میرا جسم میری مرضی، میں کھانا تو گرم کردوں تم اپنا بستر خود گرم کرو، وغیرہ*
یہ نعرے دراصل مغرب کے کچھ عیار، ہوس پرستوں کی سازش کی پیداوار ہیں جو اب مشرق بلخصوص پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔
یہ نعرے جس تحریک کا شاخصانہ ہیں اسے کبھی "تحریکِ آزادیِ نسواں" کہا جاتا تھا اور اب "فیمینزم" کی جدید اصطلاح سے بدل دیا گیا ہے- اس تحریک کو جن مقاصد کے لئے چلایا گیا اس میں سے ایک بے حد اہم مقصد ڈھکی چھپی پاکیزہ عورتوں کو ان کے گھروں سے باہر نکالنا تھا تاکہ ہوس پرست قدم قدم پر اس کے وجود سے لطف اندوز ہوسکیں اور ساتھ ساتھ عورت کو نان نفقہ مہیا کرنے کی ذمّہ داری سے بھی سبکدوشی کا پروانہ مل جائے۔
ایسی ذہنیت کے افراد کے لئے عورت کا چار دیواری میں رہنا بہت بڑی مصیبت تھا لہذا مکّارانہ اشتہار بازیوں سے جنون کو کچھ اس انداز سے خرد کے عوض بیچا گیا کہ ناسمجھ طبقہ کے یہاں عزت و ذلت اور آزادی و غلامی کے سب ہی فلسفہ بدل گئے ۔
باپ، بھائی، بیٹے اور شوہر کی روٹی پکائے تو غلام ریستورانوں اور جہازوں کی میزوں پر کھانا کھلائے تو آزاد!!، شوہر کے لیے سجے سنورے تو غلام اپنے افسر صاحب کا دل بہلائے تو آزاد!!،
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عورت کو جس دلفریب دھوکے کے ساتھ گھروں سے باہر لایا گیا وہ یہ تھا کہ تم تو غلامی میں ہو، چار دیواری میں قید بے کار پڑی ہو اعلی عہدے اور مناصب تمہارے منتظر ہیں۔ اور جب ع:
*ہوس کو ہے نِشاط کار کیا کیا*
کے تحت اَبدانِ صنفِ نازک تک رسائی ممکن ہوئی تو انعام میں سٹینو ٹائپسٹ، ریسپشنسٹ، ٹیلی فون آپریٹر اور پرسنل سیکریٹری جیسے *اعلیٰ مناصب* عطا کئے گئے- اعداد و شمار کے مطابق آج بھی نہ صرف مشرق میں بلکہ مغرب میں بھی صدر، وزیراعظم، جج اور اسی قسم کی پوزیشنز پر فائز خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں لاکھوں میں چند کے بقدر ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی تحریکوں کے زیرِاثر عورت کثرت سے گھروں سے نکل کر یونیورسٹیز کی زینت بنی ۔اعلی تعلیم نے ڈاکٹروں، انجینئروں ،اور پروفیسروں کی تعداد میں خاطر خواہ عورتوں کا اضافہ بھی کیا ہے مگر اس کے باوجود عورت کو جس مقصدِ تخلیق کے ساتھ متصف کیا گیا تھا اور ذمہ داریِ کفالت اور غمِ روزگار سے اس کے نازک کندھوں کو آزاد رکھا گیا تھا اس کے تحت وہ تمام تر ڈگریوں اور عہدوں کے باوجود اس شعر کا عملی نمونہ نظر آتی ہے کہ:
*اے جوہریوں آ ؤ پرکھو مجھے دیکھو*
*ہیرا ہوں میں پتھر کی چٹانوں میں پڑا ہوں*
اس زہر یلی تحریک کے زہر کو پینے والیوں کا حال یہ ہوگیا کہ ع:
*قاتل بھی مقتول بھی میں ہوں*
بے چاری اپنے ہی مفادات کے خلاف صف آرا نظر آتی ہیں۔ تشنگی کو تسکین، غلامی کو آزادی اور تحفظ کو تحقیر سمجھنے کا طلسم ان ہی جادوگروں کی شعبدہ بازی ہے!
*وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے*
*مجنوں نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے*
عصرِ حاضر کے تناظر میں اس تحریک کو دیکھا جائے تو اس تحریک کا دائرہِ عمل علم و ادب کے ایوانوں سے لے کر گھروں کی چار دیواری، دفتروں، سیاست، معاشرت اور قانون ہر طرف ہی پھیلا ہے گویا اس کے ہاتھ نہایت لمبے ہیں!!
اس تحریک کا پہلا ہدف علمائے کرام اور مدارس رہے ہیں مگر صد شکر جب اس مقام پر انہیں اپنے حصولِ مقصد میں پوری طرح کامیابی نہ ہو سکی تو انہوں نے معاشرتی جسم میں موجود ریڑھ کی ہڈی کو زبردست طریقہ سے ہلانے اور بے کار کرنے کی سازش تیار کی اور یہ وار پہلے وار سے بھی کہیں زیادہ کاری ثابت ہو سکتا ہے اور یہ وار ہے پورے معاشرے بالخصوص عورت کے نظریات اور تفکرات میں زبردست تغیُّر و تبدّل کی سازش!!
ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے بھاری بھرکم فیسیں دے کر اپنی نسلوں کو پچھلے دس پندرہ بلکہ بیس سالوں میں اسی تحریک کے علمبرداروں اور ان سے متاثر یا ان کے معاونین بلکہ خالقین ذہنوں کا تیار کردہ نصاب خوب محنت، توجہ اور دلجمعی سے پڑھوا کر جو طبقہ تیار کیا وہ انوکھے نفسیاتی، جذباتی اور دینی طور پر بیمار ذہنیتوں کو پیدا کرنے کا باعث بنا جس کی باز گشت ایل- جی- بی- ٹی- جیسی تحریکوں کی آواز میں سنی جا سکتی ہے-
یعنی لطف و تسکین کے معیار و حدود عجیب بے مزا نہیں بلکہ بدمزہ دکھائی دیتے ہیں! یعنی مرد کو مرد سے اور عورت کو عورت سے جنسی تسکین کا حصول!!
یہ تحریک ایک دو دھاری نہیں بلکہ ان گنت دھاری تلوار ہے جس کی کاٹ پاکیزگی و طہارتِ بدنِ نازک سے شروع ہو کر گھریلو زندگی، خا نگی سکون، خاندانی نظام نتیجۃً معاشرتی ، سماجی، سیاسی اور ملکی نظام تک ہے کیونکہ کوئی بھی فرد خواہ وہ ڈاکٹر ہو ، انجینئر ہو ، استاد ہو ، بزنس سے تعلق رکھتا ہو عالم ہو، ادیب ہو یا شاعر یا سیاسی لیڈر اس کی ارتقاء کا سفر جہاں سے شروع ہوتا ہے *وہ ایک عورت کی گود ہے* اور اس سفر میں مُتعدّد منازل پر وہ جہاں جہاں جذباتی ٹیک لے کر تھکنِ زمانہ سے غسلِ تازگی حاصل کرتا ہے کہیں اس شرابِ محبت کا نام بیوی ہے، کہیں یہ پاکیزہ و مطھر روپ بہن کا ہے، کہیں زیست کی مفاد پرست دھوپ میں یہ بے غرض سایہ بیٹی ہے۔
مگر اس تحریک کے عیار علمبرداروں نے ایک طرف تو ہمارےمخلص رشتوں میں نفرت کی آگ لگانے کے لئے بدگمانی کے جلتے ہوئے شہتیر پھینکے ہیں تو دوسری طرف خود عورت کو ہی اپنے جذباتی اور جسمانی تقاضوں کو سمجھنے میں کنفیوز کر کے ان کی عدم دستیابی کا سامان کیا ہے جس کے نتیجے میں اُسے روز بروز کھوکھلا اور بَنجر کرنے کی سازش ہے ۔ تاکہ وہ ایک نفسیاتی مریضہ بن کر مفید معاشرے میں عضوِ معطل ہو جائے۔
رہی بات پوری دنیا میں بالعموم اور ہمارے ملک پاکستان میں بالخصوص عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں ، حق تلفیوں اور مظالم کی تو ہمیں نا صرف ان کا اعتراف ہے بلکہ قلب اور روح اس احساس سے چھلنی ہیں مگر قابلِ تذکرہ بات یہ ہے کہ یہ درد جس خیرات کا ذرہ ہے وہ درد "دردِ غمِ امتی" سے ملا ہے-
اس احساس اور درد کی کوئی رمق ہرگز ہرگز بھی اس تحریک کے جھنڈے تلے مظلوم عورتوں کے ان نام نہاد ہمدردوں کے کسی پلیٹ فارم پر نہیں ملتی۔
بلکہ یہ تو وہ معاملہ ہے کہ فیمينزم کے پرکشش نام پر جھوٹ اور ملمع سازی کے جال میں خود مظلومہ یوں جکڑی ہے کہ وہ اپنے تقاضے ہی بھول بیٹھی اور ان حقوق کی بات کرتی ہے جو اس کے حقوق ہی نہیں پھر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ "*دشمنانِ دخترانِ ملت*" بصورتِ نجات دہندہ ظاہر کر رہے ہیں۔
*میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب*
*اس ہی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں*
کبھی یہی دشمن ناسمجھ عورت کو پروفیشنلزم کا فریب دے کر سنہری باغ دکھاتا ہے اور اس کے گھر کے چمن میں کھلے پھولوں کو بے توجہی اور قلتِ وقت کے سبب اخلاق کی خوشبو سے محروم کروا دیتا ہے تو کبھی اسی تحریک کے نام پر عورت تحفظ، محبت، احساس اور عزت کے عظیم میثاق "نکاح" ہی سے بیزار نظر آتی ہے . یہ بیزارگی کبھی حقیقی ہوتی ہے تو کبھی جذباتی !! پھر اس جذباتی علیحدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے جسم تک دسترس کا راستہ اس راہزن کے لیے کافی سہل ہو جاتا ہے۔
پھر یہی نہیں بلکہ عورت جو کہ افزائش نسل اور تربیت نسل کا عظیم منصب دے کر تخلیق کی گئی اس سے فیمينسٹ کا یہ منصب کوکھ کی قربانی کا متقاضی ہے ۔ یعنی ایک فیمينسٹ عورت کی کامیابی کے لیے اس کو تولید و تناسل سے ابارشن کے ذریعے آزادی حاصل کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ لہذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ فیمينزم کی یہ تحریک عورت کو اس کے مسائل سے نجات دلانے کی اور اس کے حقوق کی محافظ تحریک ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ اس کی حقیقی سوچ اور نظریات میں جھوٹی اشتہار بازیوں بلکہ جنونی یلغار کے ذریعے تغیّر و تبدّل کی تحریک ہے تاکہ خود عورت کو اپنی ذات سے خود فراموشی کی کیفیت میں مبتلا کر کے ایک ایسے ریموٹ کنٹرول کھلونے کی صورت حاصل کر لی جائے جس سے مرضی کا کھیل کھیلا جا سکے ۔
بہر کیف عورت کے حقیقی مسائل اور ان کے حل کی طرف نظر کی جائے تو ہدایت کا سرچشمہ قرآن عظیم الشان میں حکم ربانی ہے:
*وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ- الاية*
(ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو)
کون ہے جو تخلیق کار سے زیادہ اپنی مخلوق کی فطرت سے واقف ہو؟ اور کون ہے خالق کے علاوہ جو مخلوق کا مقصدِ تخلیق اس سے زیادہ جانتا ہو؟
تو جب فرمایا عورتوں کو کہ *قرار پکڑو* اور قرار سے اپنے گھروں میں رہو تو اہلِ علم اور مفسرین بتاتے ہیں کہ اس میں اشارہ ہےکہ عورتوں کو باہر کے کام، روزگار اور معاش کی تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش فرما دیا گیا اور دوسرا یہ کہ جب گھر میں قرار پکڑے گی تو گھر کے امور اس کے ذمے ہوں گے ۔
اس تقسیم کار کا دوسرا ثبوت خود مرد اور عورت کے جسم کی تخلیقی صورتوں میں ہے- ہم اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ
Differently designed so differently assigned.
*فیمينزم کا فریب* پہلا حصہ۔
*تحرير: ميمونه نعمان بنت محمد ہارون انصاری ریاض
یہ تحریر ان بہنوں کے نام ہےجو خود اپنے خمیر کی آواز سننے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے کانوں میں دجل اور فریب کی مکاریوں کا سیسہ بھر دیا گیا ہے-
عورت تو گویا کہ خمیرِ وفا سے گندھی ہوئی ہہے ایثار سے مہکتا ہوا گلاب ہے."عورت" ہی تو اطاعت کا پیکر، ایمان کا منبر، خلوص کا مرہم بنی تو خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں، عزت و شرف کی حفاظت میں جذبہِ شجاعت کی حدوں کو پار کیا تو حضرت ضرار رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن حضرت خولہ بنت ازور رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں- دین و حق پرستی و معرفت و اعترافِ حق میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنیں تو حضرت بریرہ رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں، قربانی کی انتہاؤں کو مسخر کیا تو بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کہلائیں۔
یہ اِن ہی پاکیزہ ماؤں اور کامیاب عورتوں کی اطاعت اور بے لوث قربانیاں تھیں کے نفاذِ شریعتِ محمدی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے محاذ پر اپنے تن، من، دھن ،محنت، محبت، قربانی، وفائیں، عطائیں، خواب اور تعبیریں الغرض رشتے ناطے شوہر، باپ، بیٹے اور بھائی سب کا سب ایک مقصدِ عظیمہ پر ایسا پیش کیا کہ نصرتِ خداوندی کے طور پر ایسے مضبوط خاندانی اور نتیجتاً سیاسی و سماجی ، معاشی اور معاشرتی نظاموں نے جنم لیا کہ عالمِ کفر و شرک کے ایوان اس طاقت سے بے قرار اور خوفزدہ نظر آئے۔
دوسری طرف چونکہ ان دشمنان کے اپنے دامن اس نعمتِ بیش بہا سے محروم تھے تو حسد کی آگ ان کے گھروں سے ہمارے گھروں تک پھیلی اور اب اس کی چنگاریوں میں ہم جلتے ہوئے کئی جذبے دیکھ سکتے ہیں۔
مثلاً ..... *میرا جسم میری مرضی، میں کھانا تو گرم کردوں تم اپنا بستر خود گرم کرو، وغیرہ*
یہ نعرے دراصل مغرب کے کچھ عیار، ہوس پرستوں کی سازش کی پیداوار ہیں جو اب مشرق بلخصوص پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔
یہ نعرے جس تحریک کا شاخصانہ ہیں اسے کبھی "تحریکِ آزادیِ نسواں" کہا جاتا تھا اور اب "فیمینزم" کی جدید اصطلاح سے بدل دیا گیا ہے- اس تحریک کو جن مقاصد کے لئے چلایا گیا اس میں سے ایک بے حد اہم مقصد ڈھکی چھپی پاکیزہ عورتوں کو ان کے گھروں سے باہر نکالنا تھا تاکہ ہوس پرست قدم قدم پر اس کے وجود سے لطف اندوز ہوسکیں اور ساتھ ساتھ عورت کو نان نفقہ مہیا کرنے کی ذمّہ داری سے بھی سبکدوشی کا پروانہ مل جائے۔
ایسی ذہنیت کے افراد کے لئے عورت کا چار دیواری میں رہنا بہت بڑی مصیبت تھا لہذا مکّارانہ اشتہار بازیوں سے جنون کو کچھ اس انداز سے خرد کے عوض بیچا گیا کہ ناسمجھ طبقہ کے یہاں عزت و ذلت اور آزادی و غلامی کے سب ہی فلسفہ بدل گئے ۔
باپ، بھائی، بیٹے اور شوہر کی روٹی پکائے تو غلام ریستورانوں اور جہازوں کی میزوں پر کھانا کھلائے تو آزاد!!، شوہر کے لیے سجے سنورے تو غلام اپنے افسر صاحب کا دل بہلائے تو آزاد!!،
اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عورت کو جس دلفریب دھوکے کے ساتھ گھروں سے باہر لایا گیا وہ یہ تھا کہ تم تو غلامی میں ہو، چار دیواری میں قید بے کار پڑی ہو اعلی عہدے اور مناصب تمہارے منتظر ہیں۔ اور جب ع:
*ہوس کو ہے نِشاط کار کیا کیا*
کے تحت اَبدانِ صنفِ نازک تک رسائی ممکن ہوئی تو انعام میں سٹینو ٹائپسٹ، ریسپشنسٹ، ٹیلی فون آپریٹر اور پرسنل سیکریٹری جیسے *اعلیٰ مناصب* عطا کئے گئے- اعداد و شمار کے مطابق آج بھی نہ صرف مشرق میں بلکہ مغرب میں بھی صدر، وزیراعظم، جج اور اسی قسم کی پوزیشنز پر فائز خواتین کی تعداد مردوں کے مقابلے میں لاکھوں میں چند کے بقدر ہیں۔ اگرچہ اس قسم کی تحریکوں کے زیرِاثر عورت کثرت سے گھروں سے نکل کر یونیورسٹیز کی زینت بنی ۔اعلی تعلیم نے ڈاکٹروں، انجینئروں ،اور پروفیسروں کی تعداد میں خاطر خواہ عورتوں کا اضافہ بھی کیا ہے مگر اس کے باوجود عورت کو جس مقصدِ تخلیق کے ساتھ متصف کیا گیا تھا اور ذمہ داریِ کفالت اور غمِ روزگار سے اس کے نازک کندھوں کو آزاد رکھا گیا تھا اس کے تحت وہ تمام تر ڈگریوں اور عہدوں کے باوجود اس شعر کا عملی نمونہ نظر آتی ہے کہ:
*اے جوہریوں آ ؤ پرکھو مجھے دیکھو*
*ہیرا ہوں میں پتھر کی چٹانوں میں پڑا ہوں*
اس زہر یلی تحریک کے زہر کو پینے والیوں کا حال یہ ہوگیا کہ ع:
*قاتل بھی مقتول بھی میں ہوں*
بے چاری اپنے ہی مفادات کے خلاف صف آرا نظر آتی ہیں۔ تشنگی کو تسکین، غلامی کو آزادی اور تحفظ کو تحقیر سمجھنے کا طلسم ان ہی جادوگروں کی شعبدہ بازی ہے!
*وحشت میں ہر اک نقشہ الٹا نظر آتا ہے*
*مجنوں نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے*
عصرِ حاضر کے تناظر میں اس تحریک کو دیکھا جائے تو اس تحریک کا دائرہِ عمل علم و ادب کے ایوانوں سے لے کر گھروں کی چار دیواری، دفتروں، سیاست، معاشرت اور قانون ہر طرف ہی پھیلا ہے گویا اس کے ہاتھ نہایت لمبے ہیں!!
اس تحریک کا پہلا ہدف علمائے کرام اور مدارس رہے ہیں مگر صد شکر جب اس مقام پر انہیں اپنے حصولِ مقصد میں پوری طرح کامیابی نہ ہو سکی تو انہوں نے معاشرتی جسم میں موجود ریڑھ کی ہڈی کو زبردست طریقہ سے ہلانے اور بے کار کرنے کی سازش تیار کی اور یہ وار پہلے وار سے بھی کہیں زیادہ کاری ثابت ہو سکتا ہے اور یہ وار ہے پورے معاشرے بالخصوص عورت کے نظریات اور تفکرات میں زبردست تغیُّر و تبدّل کی سازش!!
ہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے بھاری بھرکم فیسیں دے کر اپنی نسلوں کو پچھلے دس پندرہ بلکہ بیس سالوں میں اسی تحریک کے علمبرداروں اور ان سے متاثر یا ان کے معاونین بلکہ خالقین ذہنوں کا تیار کردہ نصاب خوب محنت، توجہ اور دلجمعی سے پڑھوا کر جو طبقہ تیار کیا وہ انوکھے نفسیاتی، جذباتی اور دینی طور پر بیمار ذہنیتوں کو پیدا کرنے کا باعث بنا جس کی باز گشت ایل- جی- بی- ٹی- جیسی تحریکوں کی آواز میں سنی جا سکتی ہے-
یعنی لطف و تسکین کے معیار و حدود عجیب بے مزا نہیں بلکہ بدمزہ دکھائی دیتے ہیں! یعنی مرد کو مرد سے اور عورت کو عورت سے جنسی تسکین کا حصول!!
یہ تحریک ایک دو دھاری نہیں بلکہ ان گنت دھاری تلوار ہے جس کی کاٹ پاکیزگی و طہارتِ بدنِ نازک سے شروع ہو کر گھریلو زندگی، خا نگی سکون، خاندانی نظام نتیجۃً معاشرتی ، سماجی، سیاسی اور ملکی نظام تک ہے کیونکہ کوئی بھی فرد خواہ وہ ڈاکٹر ہو ، انجینئر ہو ، استاد ہو ، بزنس سے تعلق رکھتا ہو عالم ہو، ادیب ہو یا شاعر یا سیاسی لیڈر اس کی ارتقاء کا سفر جہاں سے شروع ہوتا ہے *وہ ایک عورت کی گود ہے* اور اس سفر میں مُتعدّد منازل پر وہ جہاں جہاں جذباتی ٹیک لے کر تھکنِ زمانہ سے غسلِ تازگی حاصل کرتا ہے کہیں اس شرابِ محبت کا نام بیوی ہے، کہیں یہ پاکیزہ و مطھر روپ بہن کا ہے، کہیں زیست کی مفاد پرست دھوپ میں یہ بے غرض سایہ بیٹی ہے۔
مگر اس تحریک کے عیار علمبرداروں نے ایک طرف تو ہمارےمخلص رشتوں میں نفرت کی آگ لگانے کے لئے بدگمانی کے جلتے ہوئے شہتیر پھینکے ہیں تو دوسری طرف خود عورت کو ہی اپنے جذباتی اور جسمانی تقاضوں کو سمجھنے میں کنفیوز کر کے ان کی عدم دستیابی کا سامان کیا ہے جس کے نتیجے میں اُسے روز بروز کھوکھلا اور بَنجر کرنے کی سازش ہے ۔ تاکہ وہ ایک نفسیاتی مریضہ بن کر مفید معاشرے میں عضوِ معطل ہو جائے۔
رہی بات پوری دنیا میں بالعموم اور ہمارے ملک پاکستان میں بالخصوص عورت کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں ، حق تلفیوں اور مظالم کی تو ہمیں نا صرف ان کا اعتراف ہے بلکہ قلب اور روح اس احساس سے چھلنی ہیں مگر قابلِ تذکرہ بات یہ ہے کہ یہ درد جس خیرات کا ذرہ ہے وہ درد "دردِ غمِ امتی" سے ملا ہے-
اس احساس اور درد کی کوئی رمق ہرگز ہرگز بھی اس تحریک کے جھنڈے تلے مظلوم عورتوں کے ان نام نہاد ہمدردوں کے کسی پلیٹ فارم پر نہیں ملتی۔
بلکہ یہ تو وہ معاملہ ہے کہ فیمينزم کے پرکشش نام پر جھوٹ اور ملمع سازی کے جال میں خود مظلومہ یوں جکڑی ہے کہ وہ اپنے تقاضے ہی بھول بیٹھی اور ان حقوق کی بات کرتی ہے جو اس کے حقوق ہی نہیں پھر سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ "*دشمنانِ دخترانِ ملت*" بصورتِ نجات دہندہ ظاہر کر رہے ہیں۔
*میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب*
*اس ہی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں*
کبھی یہی دشمن ناسمجھ عورت کو پروفیشنلزم کا فریب دے کر سنہری باغ دکھاتا ہے اور اس کے گھر کے چمن میں کھلے پھولوں کو بے توجہی اور قلتِ وقت کے سبب اخلاق کی خوشبو سے محروم کروا دیتا ہے تو کبھی اسی تحریک کے نام پر عورت تحفظ، محبت، احساس اور عزت کے عظیم میثاق "نکاح" ہی سے بیزار نظر آتی ہے . یہ بیزارگی کبھی حقیقی ہوتی ہے تو کبھی جذباتی !! پھر اس جذباتی علیحدگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے جسم تک دسترس کا راستہ اس راہزن کے لیے کافی سہل ہو جاتا ہے۔
پھر یہی نہیں بلکہ عورت جو کہ افزائش نسل اور تربیت نسل کا عظیم منصب دے کر تخلیق کی گئی اس سے فیمينسٹ کا یہ منصب کوکھ کی قربانی کا متقاضی ہے ۔ یعنی ایک فیمينسٹ عورت کی کامیابی کے لیے اس کو تولید و تناسل سے ابارشن کے ذریعے آزادی حاصل کرنے پر اکسایا جاتا ہے۔ لہذا یہ بات بالکل واضح ہے کہ فیمينزم کی یہ تحریک عورت کو اس کے مسائل سے نجات دلانے کی اور اس کے حقوق کی محافظ تحریک ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ اس کی حقیقی سوچ اور نظریات میں جھوٹی اشتہار بازیوں بلکہ جنونی یلغار کے ذریعے تغیّر و تبدّل کی تحریک ہے تاکہ خود عورت کو اپنی ذات سے خود فراموشی کی کیفیت میں مبتلا کر کے ایک ایسے ریموٹ کنٹرول کھلونے کی صورت حاصل کر لی جائے جس سے مرضی کا کھیل کھیلا جا سکے ۔
بہر کیف عورت کے حقیقی مسائل اور ان کے حل کی طرف نظر کی جائے تو ہدایت کا سرچشمہ قرآن عظیم الشان میں حکم ربانی ہے:
*وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ- الاية*
(ترجمہ: اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو)
کون ہے جو تخلیق کار سے زیادہ اپنی مخلوق کی فطرت سے واقف ہو؟ اور کون ہے خالق کے علاوہ جو مخلوق کا مقصدِ تخلیق اس سے زیادہ جانتا ہو؟
تو جب فرمایا عورتوں کو کہ *قرار پکڑو* اور قرار سے اپنے گھروں میں رہو تو اہلِ علم اور مفسرین بتاتے ہیں کہ اس میں اشارہ ہےکہ عورتوں کو باہر کے کام، روزگار اور معاش کی تمام ذمہ داریوں سے سبکدوش فرما دیا گیا اور دوسرا یہ کہ جب گھر میں قرار پکڑے گی تو گھر کے امور اس کے ذمے ہوں گے ۔
اس تقسیم کار کا دوسرا ثبوت خود مرد اور عورت کے جسم کی تخلیقی صورتوں میں ہے- ہم اسے یوں بھی سمجھ سکتے ہیں کہ
Differently designed so differently assigned.