بنت عبد الحق 🕋
رجسٹرڈ ممبر
صحابۂ کرامؓ کی ناموس کا دفاع… مشکلات سے نجات کا بھی ذریعہ
یہ ایک سچا واقعہ ہے۔
ایک شخص کو نہایت سخت آزمائش اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر طرف سے راستے بند دکھائی دے رہے تھے۔ وہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور ان کے دفاع کے لیے کام کرتا تھا…
اس نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے، مگر شدتِ غم کی وجہ سے سمجھ نہ آیا کہ کیا عرض کرے۔ بے اختیار اس کی زبان سے یہ الفاظ نکلے:
"یا اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ جب تیرے محبوب ﷺ کے پیارے صحابہ کرام خصوصا ایک جلیل القدر صحابی ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر لوگ زبان درازی کرتے تھے، لعنتیں بھیجتے تھے، تب میں نے اپنی بساط کے مطابق ہمیشہ ان کا دفاع کیا۔انکی محبت کو عام کیا،تو سب کچھ جانتا ہے… اے میرے رب! اگر میرا یہ عمل تیری بارگاہ میں مقبول ہے تو اسی عمل کے وسیلے سے میری یہ مشکل آسان فرما ،انہی صحابہ کا واسطہ کہ میری مشکل دور کردے…
اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیے کہ تقریباً پندرہ منٹ کے اندر اندر اس کی مشکل ایسے دور ہوگئی کہ وہ خود بھی حیران رہ گیا۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے سچی محبت، ان کی ناموس کا دفاع ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے ساتھ ساتھ آسانیوں کا ذریہ بھی بنتا ہے. … جب بندہ اخلاص کے ساتھ اہلِ ایمان کے ان برگزیدہ نفوس کی عزت کا تحفظ کرتا ہے خاص طور پر آج کل کے زمانے میں جب ان ہستیوں پر معاذ اللہ لعن طعن کی جارہی ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کی بھلائیاں، بے شمار نعمتیں اور اپنی رحمتوں کے ساتھ ساتھ اپنے فضل و کرم سے اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا ذریعہ بھی بنا دیتے ہیں۔
اللہ پاک ہمارا آپکا حامی و ناصر ہو آمین …
تحفظ ناموس صحابہ رضی اللہ عنہم وہ تجارت ہے جس میں خسارے کا کوئی امکان ہی نہیں، اسکا بدلہ اللہ جل جلالہ کی طرف سے رحمتیں برکتیں رضا و سلامتی ہے… ۔
اب جس کے جی میں آئے، وہی پائے روشنی…ہم نے تو دل جلا کے، سرِ عام رکھ دیا:
: