بنت عبد الحق 🕋
رجسٹرڈ ممبر
اے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ!اے مسلمانو کے ماموں!اے کاتب قرآن!اے عظیم ترین اور مظلوم ترین صحابی رسول!آپ کے مقام مرتبے شان فضیلت کو جاننے کے لئے بس ایک یہ بات ہی کافی ہے کہ آپ صحابی رسول ہیں......آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا،انکی صحبت اٹھائی،اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسلام کی نعمت کے لیے قبول کیا،آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمع اللہ لمن حمدہ فرمایا تو آپ نے ربنا و لک الحمد کہا،آپ نے وہ عظیم دور دیکھا جب جبرئیلؑ وحی لے کر اترتے تھے اور نبی کریم ﷺ خود امت کی رہنمائی فرما رہے تھے۔ وہ زمانہ ایمان کی بہار تھا، محبتِ رسول ﷺ کی روشنی تھی،آپ اسی نورانی عہد کے گواہ تھے.....آپ نے والضحی والے چہرے کو دیکھا،واللیل والی زلفوں کو دیکھا،ان آنکھوں کو دیکھا جن آنکھوں نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا تھا،.......آپ کی شان کے لئے ایک یہی بات کافی ہے......اے امیر معاویہ!آپ کی شان کے کیا کہنے،آپ کی رفعت کے کیا کہنے،آپ کی عظمت کے کیا کہنے،آپ کی سیاست کو سلام،آپ کی خطابت کو سلام،آپ کی فصاحت کو سلام.آپ کی خلافت کو سلام.آپ کی قیادت کو سلام،آپ کی سخاوت کو سلام........آپ کا نام سن کر ہمارے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں.......نام لے کر منہ میں مٹھاس گھل جاتی ہے....آپ کا نام لینا ہم سعادت سمجتھے ہیں نجات کا ذریہ سمجھتے ہیں.....آپ سے محبت کرنا ہمارے ایمان کی پہچان ہے.....ہمارے ایمان کا حصّہ ہے...ہمارے دل کا ٹکرا ٹکرا آپ کی محبت میں جھکا ہوا ہے......آپ تو وہ عظیم ہستی ہیں جنکے لئے نبوت والے پاکیزہ ہاتھ کئی مرتبہ دعا کے لئے اٹھے......آپ نبی علیہ السلام کی محفل میں ہر وقت رہے،آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا،آپ نے اس چہرے کو دیکھا جس کو دیکھنے کے لئے مومن مال جان سب کچھ لٹا کر ایک نظر دیکھنے کی تمنا کرتا ہے....آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرواتے تھے،آپ کے حلم کی گواہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دی،آپ اس حال میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے کہ آپ کا پیٹ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر مبارک سے ملا ہوا تھا.....اے امیر معاویہ!آپ نے قرآن کریم لکھ کر ہمیں دیا،...آپ نے ایک سو چون احادیث کو لکھا،مسلمان آج آپ کا مقام و مرتبہ بھول گیا،دشمن کے پروپگنڈے سے متاثر ہو کر اس نے آپ پر تنقید تبرے شروع کردیے.....اے امیر معاویہ!آج کے مسلمان نے آپ پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی ہے....آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اٹھائی،خدمت کی،آپ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لاڈلے بھی تھے،پیارے بھی تھے،قریبی بھی تھے،خادم بھی تھے،سپاہی بھی تھے،شیدائی بھی تھے،کاتب ہی تھے،منشی بھی تھے......مگر آج کوئی آپ کا نام سننا نہیں چاہتا،آپ کا نام لینے سے انکاری ہوجاتا ہے.آپ کو متنازع شخصیت کہتا ہے......وہ آپ کا مقام بھول گیا رتبہ بھول گیا.....تاریخ کی نیچ کتابوں کو پڑھ کر وہ اللھم اجعله ہادیہ مھدیا واھد به بھول گیا.....اے امیر معاویہ!ہمارا دل خون کے آنسو روتا ہے....دل کانپ جاتا ہے، آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور روح سسک اٹھتی ہے کہ آپ نے نبی کریم ﷺ کے قدموں میں بیٹھ کر ایمان پایا، آج انہی کے بارے میں زبانیں زہر اگلتی ہیں۔.....اے امیر معاویہ!وہ ہاتھ جو وحی الٰہی لکھتے تھے، کیا وہ ہاتھ خیانت کر سکتے ہیں؟جب آپ کا نام آتا ہے تو تصور میں یوں لگتا ہے جیسے مدینے کی گلیوں میں کوئی خاموش صحابیؓ سر جھکائے چل رہا ہو،...اور امت کی بےحسی پر آنکھیں بھیگ رہی ہوں..امت نے اپنے محسن کو بھلادیا.....ہم روتے ہیں اے امیر معاویہؓ جب آپ کو گالیاں دی جاتی ہیں.....ہم سسکتے ہیں جب کاتبِ وحی کو سیاست کا طعنہ دیا جاتا ہے،ہم شرمندہ ہوتے ہیں........آپ تنہا ہو گئے....مگر امت کو تنہا نہ ہونے دیا....آپ نے وہ بوجھ اٹھایا.....جو پہاڑ بھی اٹھانے سے کانپ جائیں.....امت کو جوڑنے کا بوجھ.....فتنوں کے بیچ کھڑے ہونے کا بوجھ.....اےامیر معاویہؓ! آپ نے تو کبھی اپنے دشمن کا نام لے کر بھی بددعا نہ دی....مگر آج آپ کو امت کی زبانوں پر مجرم کیوں بنا دیا گیا؟جو رسول ﷺ کے قریب تھا، وہ ہم سے اتنا دور کیوں کر دیا گیا؟اے امیر معاویہ!امت نے آپ کے احسانات کو بھلا دیا.....آپ وہ چمکتا ستارہ ہیں کہ آپ لیظھرہ علی الدین کلہ کی عملی تفسیر بنے.....آپ نے پینسٹھ لاکھ مربع میل زمین پر اسلام کا جھنڈا لہرادیا......آپ ے ہر سو اسلام نافذ کردیا.....مدینے کی خوشبو ہم تک پہنچا چھوڑی.....روم فتح کیا.قصطنطینیہ کے بازاروں سے لے کر افغانستان کے پہاڑوں تک اسلام نافذ کردیا.....افریقه کے جنگلات میں اسلام کی روشنی پہنچادی.....آپ سمندر کے سینے کو چیڑ گئے،بحری اڈے قائم کر کے ﺍﻭّﻝ ﺟﯿﺶ ﻣﻦ ﺍﻣﺘّﯽ ﯾﻐﺰﻭﻥ ﺍﻟﺒﺤﺮ ﻗﺪﺍﻭﺟﺒﻮﺍ کی بشارت کے مصداق بن گئے.....کفر کو آپ نے کچل ڈالا،یہودیت آپ کے نام سے لرزنے لگی،آپ کا نام سن کر عیسائیت کے پسینے چھوٹ گئے......اے امیر معاویہ کیا ان کم عقلوں کی عقلوں پر پردہ پڑ گیا ہے؟کیا انکے دلوں پر مہر لگادی گئی ہے.....وہ قرآن پڑھتے ہیں مگر یہ نہیں جانتے کہ یہ آپ نے لکھا ہے.....کاتبین وحی میں چھٹا نمبر آپ کا تھا....اے امیر معاویہ!ان لوگوں نے آپ کے کسی معاملے کو نہیں چھوڑا،آپ کی ہر چیز پر اعتراض،آپ کے نام پر اعتراض،آپ کی خلافت پر اعتراض حالانکہ امام احمد بن حنبل اعلان فرما گئے تھے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے.....اے امیر معاویہ!اے ہمارے دلوں کی دھڑکن!آپ پر کروڑوں رحمتیں ہوں..آپ نے امت کے لیے اپنے دل کا سکون قربان کیا...آپ کے وجود اطہر پر تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک ہے اور قیامت تک رہے گی.....اے امیر معاویہ!نی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں ایک مدینہ کے مظلوم عثمان غنی مظلوم تھے ایک کربلا کے مظلوم تھے،مگر ایک آپ بھی تو مظلوم ہیں....ایسے مظلوم کہ آج تک کسی نے آپ کو مظلوم مانا ہی نہیں،تسلیم ہی نہیں کیا،آپ کا قصور کیا تھا جو آپ پر ہر وقت سب و شتم کے تیر برسائے جاتے ہیں...کیا یہ قصور تھا کہ آپ نے اسلام کو غالب کیا تھا،کیا یہ قصور تھا ک آپ نے کلمہ ہم کو دیا،نماز ہم کو دی،روزہ ہم کو دیا،زکات ہم کو دی،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان لکھا ہم کو دیا،قرآن ہم کو دیا،آج چہروں پر داڑھی آپ کا صدقه ہے،یہ منبر محراب آپ کا صدقه ہے،یہ دین اسلام آپ کا صدقه ہے..... آپ کا قصور کیا یہ تھا کہ آپ نے خاندان نبوت پر مال نچھاور کر دیا،حسن و حسین رضی اللہ عنہما پر مال نچھاور کردیا،مدینہ کے لیے نہر بنوائی،اماموں کی تنخواہوں کو ڈبل کردیا،قیصریہ میں عظیم الشان مسجد بنوا کر اللہ کے دین کو غالب کرنے کا لمبا منصوبہ بنالیا،اے امیر معاویہ!یہ نیچ لوگ ان نبی سے کیو ں نہیں پوچھتے کہ آپ کا قصور کیا ہے؟جنہوں نے بارہ احادیث میں آپ کا نام لیا، جن کی ایک سو چون احادیث کوآپ نے لکھا، جنہوں نے ایک سو تیرہ خط مختلف کافر بادشاہوں کو لکھے،اور ان میں سے ستر خط لکھنے والے آپ تھے،.... جن کے کاتبین قرآن میں سے چھٹا نمبر آپکا تھا.............اے امیر معاویہ!آج دشمن نے دل میں آپ سے بغض بھر لیا،اور دوسروں کے دلوں میں ہی بھرا....کیا اس نے قران میں کرام بررہ نہیں پڑھا؟بایدی سفرہ نہیں پڑھا؟اللَّهُمَّ اجْعَلْ مُعَاوِيَةَ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ کیوں نہیں پڑھا؟أَ وَّلُ جَيْشٍ مِنْ أُمَّتِي يَغْزُونَ الْبَحْرَ قَدْ أَوْجَبُوا کیوں نہیں پڑھا؟ اللَّهُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِيَةَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ، وَقِهِ الْعَذَابَ کیوں نہیں پڑھا؟جب آپکی بات آئی تو یہ تاریخ کے پیچھے بھاگے..... ان نیچ لوگوں کے پیچھے بھاگے جنہوں نے تین صدیوں بعد تاریخ کو تروڑ مروڑ کر پیش کیا..کیا یہ ظلم نہیں؟؟؟...ایسی تاریخ پاؤں کی نوک پر جو آپ کی شان کو گھٹائے...اس نے آپکو تاریخی سخصیت سمجھ لیا حالانکہ آپ تو قرانی شخصیت ہیں.....اے امیر معاویہ!دشمن آپ کا نام لگا کر کہتا ہے کہ آپ علی کو گالیاں دیتے تھے....اس نے آپ پر جھوٹے الزامات لگائے....ہم آپ کی عظمت پر قربان.....ہماری اولاد قربا،ہماری جان قربان.....اے امیر معاویہ دشمن اہل بیت سے محبت کا لیبل لگا کر آپ پر تنقید کرتا ہے...آپ کے خلاف زہر اگلتا ہے.....وہ حقائق کو نہیں جانتا،جانتا ہے تو مانتا نہیں،....اے امیر معاویہ آپ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تربیت یافتہ تھے...یہ کیسے ممکن تھا کہ آپ لمحے بھر کو بھی ڈگمگا جاتے......ایمان آپ کے دل میں پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط .....آپ کا قلب اطہر ایسا پاکیزہ مثل آئنہ صاف شفاف تھا کہ باوجود اختلاف کے آپ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت تھی کہ انکو یابن عمی اے میرے چچا زاد بھائی کہہ کر پکارتے تھے....اہل عرب جانتے ہیں کہ یہ کتنی محبت سے کہا جاتا ہے.....حضرت علی کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ کے ایک خادم سے ان کے حالات دریافت کیے۔
جب خادم نے حضرت علیؓ کی عبادت، زہد اور گریہ و خشوع کا ذکر کیا تویہ سب سنتے سنتے آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،اور اس قدر روئے کہ آپؓ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی..اور آواز حلق میں گھٹنے لگی.....پھر فرمایا:“رحم اللہ ابا الحسن، کان واللہ کذٰلک”
(اللہ ابو الحسن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ واقعی ایسے ہی تھے).........اے امیرمعاویہ!کیا یہ آپ دکھاوے کے لئے کرتے تھے معاذ اللہ؟......حسن رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت تھی کہ ایک ہی دفعہ میں دس لاکھ درہم کا ہدیہ دیا......اے امیر معاویہ!سارے واقعات حقائق اظہر من الشمس ہیں...دشمن اختلاف بتاتا ہے مگر یہ محبت نہی بتاتا........اے صحابیِ رسول ﷺ! ہمارا ایمان آپ سے محبت میں ہے.....ہماری محبتیں،ہماری عقیدتیں آپ کے نام.....اے امیرِ معاویہؓ! ہم سب دل و جان سے آپ کے غلام............
اے حضرتِ امیرِ معاویہؓ! جب بات آپ کے حلم پر آتی ہے تو دل بھر آتا ہے۔ آپ نے طاقت پا کر بھی درگزر کو اپنایا، اختیار ملنے پر بھی صبر کو تھاما، اور مخالفت کے شور میں بھی خاموشی کو وقار بنایا۔ آپ کا حلم وہ چراغ تھا جو نفرت کے اندھیروں میں بھی بجھا نہیں۔ اے کاتبِ وحیؓ! آپ نے جواب میں سختی نہیں، بدلے میں بددعا نہیں، بلکہ صبر، بردباری اور امت کی بھلائی کو چُنا۔ ہم آپ پر قربان۔..واللہ آپ کے گھوڑے کی ناک کی غبار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ سے ہزار درجہ افضل ہے..آپ کو لاکھوں سلام......!!اے حضرتِ معاویہؓ! آپ کی ذات پر ہونے والی ہر گستاخی پر ہمارے دل شرمندگی سے جھک جاتے ہیں، ہم اس امت کی طرف سے معذرت خواہ ہیں اور آپ سے محبت پر قائم ہیں۔آپ پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں....رضی اللہ عنہ و رضو عنہ.......
جب خادم نے حضرت علیؓ کی عبادت، زہد اور گریہ و خشوع کا ذکر کیا تویہ سب سنتے سنتے آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے،اور اس قدر روئے کہ آپؓ کی داڑھی مبارک آنسوؤں سے تر ہو گئی..اور آواز حلق میں گھٹنے لگی.....پھر فرمایا:“رحم اللہ ابا الحسن، کان واللہ کذٰلک”
(اللہ ابو الحسن پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! وہ واقعی ایسے ہی تھے).........اے امیرمعاویہ!کیا یہ آپ دکھاوے کے لئے کرتے تھے معاذ اللہ؟......حسن رضی اللہ عنہ سے اتنی محبت تھی کہ ایک ہی دفعہ میں دس لاکھ درہم کا ہدیہ دیا......اے امیر معاویہ!سارے واقعات حقائق اظہر من الشمس ہیں...دشمن اختلاف بتاتا ہے مگر یہ محبت نہی بتاتا........اے صحابیِ رسول ﷺ! ہمارا ایمان آپ سے محبت میں ہے.....ہماری محبتیں،ہماری عقیدتیں آپ کے نام.....اے امیرِ معاویہؓ! ہم سب دل و جان سے آپ کے غلام............
اے حضرتِ امیرِ معاویہؓ! جب بات آپ کے حلم پر آتی ہے تو دل بھر آتا ہے۔ آپ نے طاقت پا کر بھی درگزر کو اپنایا، اختیار ملنے پر بھی صبر کو تھاما، اور مخالفت کے شور میں بھی خاموشی کو وقار بنایا۔ آپ کا حلم وہ چراغ تھا جو نفرت کے اندھیروں میں بھی بجھا نہیں۔ اے کاتبِ وحیؓ! آپ نے جواب میں سختی نہیں، بدلے میں بددعا نہیں، بلکہ صبر، بردباری اور امت کی بھلائی کو چُنا۔ ہم آپ پر قربان۔..واللہ آپ کے گھوڑے کی ناک کی غبار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ سے ہزار درجہ افضل ہے..آپ کو لاکھوں سلام......!!اے حضرتِ معاویہؓ! آپ کی ذات پر ہونے والی ہر گستاخی پر ہمارے دل شرمندگی سے جھک جاتے ہیں، ہم اس امت کی طرف سے معذرت خواہ ہیں اور آپ سے محبت پر قائم ہیں۔آپ پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں....رضی اللہ عنہ و رضو عنہ.......