بنت عبد الحق 🕋
رجسٹرڈ ممبر
میری اماں جانی کا پچھلے ہفتے رضائے الہی سے انتقال ہوگیا.....انکے آخری دنوں کے کچھ خوبصورت حالات قلم بند کرنے کو دل چاہا.........
" پیاری اماں جانی کے آخری دنوں کے کچھ حالات




"اماں جانی کے زندگی کے اتنے واقعات ہیں جو لکھے جایئں تو ضخیم کتاب تیار ہوجاۓ،ابھی اسکا موقع نہیں سو آخری دنوں کے اور وفا کے بعد کے کچھ قابل رشک حالات ملاحظہ ہوں:!*
اماں جانی نے دنیا میں اس طرح وقت گزارا ہے کہ اس پر پورا اترتی تھیں"کن فی الدنیا کانک غریب او عابر السبیل"...ایک مسافر اور راہ چلتے کی طرح انہوں نے زندگی گزاری ہے.....ہمیشہ دیکھا کہ اللہ نے اتنا دیا تھا مگر کسی چیز کی محبت لالچ ہوس دل میں نہیں تھی....اس زمانے میں دنیا سے ایسے ہاتھ جھاڑ کر گئی ہیں کہ ایک پیسہ انکی ملکیت میں نہیں تھا....وراثت تقسیم ہی نہیں کرنی پڑی،ایک روپے نہیں ملا ہمیں....انکی عادت تھی جہاں سے پیسے آتے فورا صدقه کر دیتیں غزہ وغیرہ میں.....اسکے علاوہ جتنا سامان زیور وغیرہ تھا،سب کا مالک ابو کو بنادیا تھا......*
سنتوں سے اتنی محبت تھی،لاشعور میں سنتیں ایسے رچ بس گئی تھیں کہ آخری بار جب ہاسپٹل ایڈمٹ ہوئیں تو حالت بہت خراب تھی،آکسیجن ماسک لگا ہوا تھا،ہوش بھی نہیں تھا ،مگر جب نرس نے ہاسپٹل ڈریس پہنانے کیلیے کپڑے اتارنا چاہے تو اسکو تاکید کی کہ پہلے الٹا پاؤں اتارو......ہر معاملے میں سنت استخارہ کرنے کی ایسی عادت تھی کہ آخری دنوں میں چھوٹا سا کتابچہ بھی نہیں پکڑا جاتا تھا،کتاب ہاتھ سے گر جاتی تھی مگر پھر بھی ہر کام میں استخارہ کرتی تھیں دوا وغیرہ کے معاملے میں...انتقال سے قبل انکے سامنے بات کر رہے تھے جس ہاسپٹل جایئں تو مجھ سے استخارے کی کتاب مانگی..... *ا
ماں جانی چھے ماہ بیمار رہیں،اس قدر تکلیف اور بے چینی تھی کہ ہم سے دیکھا نہیں جاتا تھا.....اور میں اللہ کو گواہ بنا کر اس بات کی گواہی دے سکتی ہوں کہ ایک دن،ایک لفظ انکی زبان سے ناشکری اظہار کا نہیں سنا.....حتی کہ بابا ناراض بھی ہوتے تھے پریشانی میں کہ کچھ تو بتائیں کیا ہورہا ہے،کدھر تکلیف ہے ،ہم بھی پوچھتے تھے تو ناراض ہوتی تھیں کہ کیوں زبردستی مجھ سے سننا چاہ رہی ہو؟میں نہیں بتانا چاہتی نا... کبھی اماں نے نہیں بتائی اپنی تکلیف......حتی کہ اپنے عزیز و اقارب ابو بھائی بہن کو بھی بتانے کی اجازت نہ دی تھی کہ مصیبت کے اخفاء میں اجر ہے....وفات سے دو دن قبل حالت بہت خراب ہوگئی تو ہم نے ان سے پوچھے بغیر ہی رشتہ داروں کو اطلاع دے دی.....ورنہ اس وقت بھی انکار کر دیتیں......*
وفات سے چار دن قبل دو بہت انوکھی باتیں ہوئی...بہن .منیزہ کو بلا کر کہنے لگیں منیزہ مجھے تیار کردو ...وہ حیران رہ گئی کہ مما کل ہی آپکے کپڑے بدل کر تیار کیا ہے آپ بلکل صاف ہیں...کہنے لگیں نہیں مجھے تیار کردو جلدی کرو،بہن نے دوبارہ اطمینان کرانا چاہا تو کہنے لگیں اچھا پھر زنیرہ سے کہو میرے بال بنادے..... اسی طرح ایک دن کہنے لگیں ہمیں بلا کر کہ کھڑکی بند کردو،روشنی آرہی ہے....ہم حیران رہ گئے کیونکہ رات کا وقت تھا.کھڑکی پر پردے بھی تھے،روشنی کہاں سے آسکتی تھی؟ہم نے کہا مما کوئی روشنی نہیں آرہی آپ پریشان نہ ہوں تو کہنے لگیں نہیں آرہی ہے روشنی...ہم نے انکی تسلی کے لیے پھر دوبارہ پردے ڈال دیے......*
وفات سے ایک دن قبل آنکھیں کھلی ہوئی تھیں آسمان کی طرح اٹھی ہوئی....اس وقت ہم بہت حیران ہوئے کہ یہ کیسی بے ہوشی ہے جس میں آنکھیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی ہیں....وہ تو بعد میں نشر الطیب میں پڑھا کہ میت کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھی ہوئی ہوتی ہیں،وہ اپنی روح کو اوپر چڑھتا دیکھ رہا ہوتا ہے....ہم گھبرا کر آنکھیں بند کرتے تو خود بخود دوبارہ کھل جاتیں.....*
انتقال سے چند لمحے قبل والد صاحب بہت پریشان ہو کر ڈاکٹر کو بار بار کہتے رہے کہ کچھ کریں کچھ کریں انکی سانس بحال کریں....اسکی وجہ والد صاحب نے یہ بتائی بعد میں کہ میں دیکھ رہا تھا کہ انکے ہونٹ ایسے ہل رہے تھے جیسے کوئی کچھ بول رہا ہو ،اسلیے میں ڈاکٹر کو یوں کہہ رہا تھا کہ یہ تو زندہ ہیں انکی سانس بحال کریں.......بعد میں یہ علم ہوا کہ وہ سو فیصد کلمہ طیبہ کا ورد کر رہی تھیں،اس بات کی گواہی انکے ہاتھ نے دی کہ جب غسل دے رہے تھے تو دیکھا کہ تشہد کی حالت کی طرح انکی انگلی اٹھی ہوئی تھی......اللہ اکبر!!*
اماں جانی کا جنازہ جن امام صاحب نے پڑھایا وہ شاہ فیصل مسجد کے امام و خطیب ہیں...اپنا اسکول مدرسہ اور مسجد ہے..........انہوں نے جنازہ سے پہلے اعلان فرمایا کہ ابھی ایک بہت نیک عورت کا جنازہ ہے اور ان کے جنازہ میں شرکت کرنا بذات خود بہت بڑی سعادت اور بخشش کی بات ہے ........بابا کہہ رہے تھے کے میں نے کبھی ان سے مما کا کوئی ذکر نہیں کیا،نہ ان کے کسی بھی گھر والوں سے ہمارا کسی قسم کا ملنا جلنا یا تعلق ہے ................لوگوں نے یہ سن کر جلدی جلدی صفیں بنائیں اور لوگ بھی جو جا رہے تھے فورا شریک ہوگئے .......بہت برا مجمع تھا جنازہ میں...........امام صاحب کی اس بات سے ابابا بھی بہت حیران ہوۓ کیونکہ ان سے بابا نہ کبھی ایسی کوئی بات نہیں کی،بیماری کا بھی بس آخری بار ہی بتایا جب ہسپتال میں ایڈمٹ تھیں.......اللهم اغفر لها، وهب لها من أجرك ما لا يحصى ومِن غفرانك عفواً لا يفنى، اللهم إنا ودعناها في رحمتك ونعلم أن رحمتك بها أوسع مما يتوارد في أذهاننا، اللهم ارحمها وجميع موتانا و موتى المسلمين يارب العالمين ..












میری ماں مجھ کو ہر لمحہ ستاتی ہیں تیری یادیں
صبح ہو شام ہو مجھ کو رولاتی ہیں تیری یادیںبہت بے چین کرتا ہے مجھے شب بھر غمِ فرقت
ذرا سی آنکھ لگنے پر جگاتی ہیں تیری یادیں
مجھے بچپن میں تو جیسے اٹھاتی تھی محبت سے
ابھی سوتا ہوں تو آ کر اٹھاتی ہیں تیری یادیں
آخری بار ترمیم: