بنت عبد الحق اسلام آباد
رجسٹرڈ ممبر
قیامت سے قبل قیامت کا منظر تھا...مسلسل کی بمباری نے کانوں کو بہرہ کردیا تھا.....مہینے سے یہ ستم نجانے کب تک جاری رہنا تھا....اس اندھیرے میں بمباری کا خوفناک نظارہ....خواتین اور بچوں کی سسکیاں اور چیخیں دل پھاڑے جا رہی تھیں.....اسی جبالیہ کیمپ میں پچیس سالہ امل جو چند روز قبل ہی بیوہ ہوئی تھی....اپنے جگر کے ٹکڑے،چار سالہ معصوم نبیلہ کو سینے سے چمٹائے بیٹھی تھی.....-انجانے خطرات سے اس کا دل ڈوبا جارہا تھا-بھوک کی شدت نے بچوں کی سسکیاں نکلوا دی تھیں-امل نے شوہر کے ساتھ ہی اپنی چار ماہ کی ننھی فریدہ کو بھی کھویا تھا....کبھی اندھیرے میں اسے یوں لگتا جسے فریدہ اس سے چپکی ہوئی ہے مگر محض یہ خیال ہوتا....ظالموں نے اس کو خوں میں نہلادیا تھا...امل کو جب بھی فریدہ کی یاد آتی تو وہ تڑپ جاتی- "امی !ہم جب یہاں سے نکل کر گھر جائیں گے...کون ہماری مدد کرے گا...."چار سالہ نبیلہ ماں کو ہلا رہی تھی - امل کی بس اتنی ہی آنسو بھری آواز نکلی تھی - "بیٹے صرف اللہ سے امید رکھو....انما اشکو بثی و حزنی الی اللہ...." "امی ہماری مدد کے لئے کون آئے گا...سب کدھر ہیں ..." "بیٹا سب سورہے ہیں....مگر آپ فکر نہ کرو....وہ جاگ جائیں گے اور آئیں گے..."امل نے جھوٹی تسلی دی- "وہ آئیں گے "سن کر نبیلہ کے پپڑیاں جمے ہونٹوں پر جو کبھی پھول کی کلی جیسے نازک و پیارے ہوتے تھے،مسکراہٹ آگئی تھی مگر اگلے ہی لمحے وہ بھوک سے رورہی تھی -امل یہ کہہ کر چپ کراتی کہ ابھی ملتا ہے کھانا...اللہ نے اس کی بات کی لاج بھی رکھ لی....اسی لمحے فضا چیخوں سے گونج اٹھی.....یوں لگتا تھا کہ آسمان آگ اگل رہاہے.....فضا میں انسانی گوشت کے جلنے کی بدبو پھیل رہی تھی......کمپ پر بھی ظالموں نے بم گرادیا تھا....نبیلہ زور زور سے رونے لگی....وہ ایک طرف گری رہ گئی تھی...اسکی ماں اچھل کر دور گری تھی.....جسم سے نکلتا خون.....جلتا جسم...ماں کو اس حال میں دیکھ کر اسکے ننھے سے دل پر قیامت ٹوٹ پڑی تھی.....جو عمر اسکے کھیل کود کی تھی....ہنسنے مسکرانے کی تھی......اس عمر میں وہ اپنے پیاروں کو جلتا دیکھ رہی تھی.....اسکا اپنا ننھا منا سا جسم زخم زخم ہوگیا تھا.....وہ پیاس کے مارے رونےبلکنے لگی.... "اللہ مجھے پانی چاہیے..."اسکی ماں نے یہی سکھایا تھا....اللہ سے مانگنا ہر حال میں.....یہی وہ لمحہ تھا جب عرش الہی بھی رحمت سے تھرتھرانے لگا ہوگا....قدرت کو اسکی معصوم جان پر رحم آگیا تھا......سارے بے بسی کے مناظر.....اسکے جسم سے بھی خوں بہہ رہا تھا....اس حالت میں اسکی جان نکلنے لگی.....وہ منمنائی: "میں آسمان پر اوپر جاکر اپنے اللہ کو سب بتاؤں گی...."اسکی ویڈیو ریکارڈ ہوچکی تھی.....اگلے لمحے وہ جنت میں پیاس بجھانے چلی گئی تھی.....*** غزہ کی معصوم بچی کی دل دہلانے والی فریاد سارے سوشل میڈیا پر مشھور ہوگئی تھی....امارات کی ایک چمکیلی دوپہر،اپنے دفتر میں اے سی کولنگ فل کیے بیٹھے نیوز رپورٹر ابراھیم الرفاعی کے انگ انگ سے پسینہ پھوٹ پڑا تھا....یہ فریاد ایسی نہ تھی کہ کسی کا دل نرم نہ ہوتا...... "سر!یہ خبر لگے گی؟"اسکے سیکٹری جمال عباد نے پوچھا.....رومال سے چہرہ چھپاتے ہوۓ ابراہیم نے فقط سر ہلانے پر اکتفا کیا......اس کی آنکھوں میں غم کی گہرائیاں تھیں جو اس نے معصوم نبیلہ کی ویڈیو دیکھ کر محسوس کیں۔ اُس کے دل میں ایک درد کی لہر اٹھی تھی، جیسے کائنات کے تمام دکھ اُس کے سینے میں سمٹ آئے ہوں۔ اُس کی سانسیں بے ترتیب ہو گئیں، چہرے پر سختی سی چھا گئی، اور جیسے وقت رُک گیا ہو۔
ہر ایک تصویر اُس کے دل کے ایک کونے میں ایک تیر کی مانند پیوست ہو گئی، جو اُس کی روح کو چھلنی کر گئی۔ غم کی یہ لہر اُس کی خوشیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی.......
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، جیسے آسمان کا بارش کرنا اُس کے دل کی کیفیت کو سمجھ رہا ہو۔ اُس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اُن مظلوموں کی مدد کرے، جن کی چیخیں دور دور تک گونج رہی تھیں، مگر اُس کی سکت میں کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ ایک انسان کی بے بسی کا منظر تھا، جو اپنے ہم نوعوں کے درد کو اپنی روح میں محسوس کر رہا تھا۔۔اس نے دھندلی آنکھوں سے سامنے دیوار پر لگے خوبصورت فریم کی طرف دیکھا جہاں فلسطین کے جھنڈے کے ساتھ اللہ کا سچا وعدہ جگمگا رہا تھا"ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون"یکدم اسکے دل میں جسے ایک ٹھنڈک سی اتر گئی.....ایک بڑے پتھر کا بوجھ اتر گیا ہو۔ اس نے محسوس کیا کہ اللہ کی رحمت کا سایہ ایک ایک مظلوم مسلمان پر ہے.....اور یہ کہ اور اللہ تعالیٰ سخت قوت واﻻہے اور سزادینے میں بھی سخت ہے..... "یا اللہ!مجھے ان ظالموں کا انجام،اور معصوم نبیلہ کی دعا کی قبولیت اپنی آنکھوں سے دکھانا...اللہ زندگی میں ہی...مرنے سے پہلے دکھا دینا...."اسکے دل سے دعا نکلی..... اور یقینا جس نے بھی اس معصوم جان کی فریاد سنی ہوگی.یہ دعا ضرور نکلی ہوگی...... "جمال!اس معصوم بچی کی فریاد سے ہم سب کو ڈرنا چاہیے...مبادا یہ کہ اللہ کا عذاب کہیں ہمیں نہ گھیر لے....."ابراہیم نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا..... "پھر سر!ہم کیا کرسکتے ہیں!...."اس نے بے بسی سے کندھے اچکائے..... "ہم آواز حق بلند کرسکتے ہیں جمال...تم جا کر اپنا کام کرو....میں ایک مضمون لگاؤں گا.....جو مسلمان خاموش و بے حس ہیں،شاید وہ جاگ جایئں!""سر وہ جاگیں نہ جاگیں....ہم ضرور جایئں گے کام سے!"وہ پھیکی ور بے بسی کی ہنسی ہنسا..... "جانے دو...کیا ہم نے اللہ کو منہ نہیں دکھانا...."وہ غصے سے بولے....ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر انہوں نے نجانے کیا سوچ کر دراز میں رکھ لیا..... "سر نہیں لگانا..."جمال انکا ارادہ بدلتا دیکھ کر بولا . "کیوں نہیں...ضرور لگے گا مگر ابھی نہیں.....یہ نہ سمجھنا کہ میں ڈر کر رک گیا ہوں...بلکہ مرے ذہن میں کچھ اور ہے ...."وہ کچھ سوچ رہے تھے..... "اور سر آپکو پتا ہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ غزہ اور مشرق وسطی کو جہنم بنادیں گے.....اور ہولی ووڈ کا ایک متعصب ہے،اس کا کہنا ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں....."خبریں ترتیب دیتے ہوۓ جمال نے ابراہیم الرفاعی کو بھی بتایا..... وہ ہنس کر دیوار کی طرف اشارہ کرنے لگا.... "وہ دیکھ لو جمال!ولا تحسبن الله غافلا عما يعمل الظالمون"...... **** پورے قصبے میں ہولناک آگ لگی ہوئی تھی.......جو پھیلتی ہی جارہی تھی......جو اسکے رستے میں آتا،اسے جلا کر خاکستر کر رہی تھی......تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍبِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ......ہزاروں مکانات اور عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں.... آگ پھیل رہی تھی، جیسے کوئی دیوانہ اپنی گونجتی ہوئی چیخوں کے ساتھ فضاء میں سرگوشیاں کرتا ہو۔ شعلوں کی زبانیں آسمان کو چھیڑ رہی تھیں، اور دھوئیں کے گھنے بادل ہر سمت پھیلتے جارہے تھے۔ گھر، درخت، اور گاڑیاں سب کچھ آگ کی لُکھیری تلواروں کی زد میں آ چکا تھا۔
آگ کی لپٹیں جیسے زمینی زلزلے کی طرح جھنجھنا رہی تھیں، بربادی کا ایک نیا باب لکھتی ہوئی۔ شعلے بلند ہو رہے تھے، جیسے وہ اپنے طاقتور بازوؤں سے فضا کو چومتے چلے جارہے ہوں۔ گلیوں میں بھاگتے لوگوں کی آہیں اور فریادیں سنائی دے رہی تھیں، لیکن شعلوں کی شدت نے ان کی آوازوں کو گُم کر دیا۔
ہر طرف خوف کا ایک سیاہ سایا تھا، جیسے زمین نے خود کو آتش میں جھونک دیا ہو۔ بوجھل دھوئیں کی لہر نے ہر چیز کو اپنی آغوش میں لے لیا، آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں، سانس لینا مشکل ہو گیا۔ ہوا میں انارکی اور بے چینی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے، لیکن آگ نے ان کے راستوں کو روک رکھا تھا۔
ایسی لگتا تھا کہ یہ آگ صرف کچھ پل کی مہمان نہیں بلکہ ایک زبردست مخلوق ہے، جو اپنی طاقت کے نشے میں چور، سب سے انتقام لینے کو تیار ہو۔ ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ، آگ کا جال مزید پھیلتا جارہا تھا، ہر گوشے میں درد و خوف کی داستانیں رقم کر رہا تھا۔ دیواروں کی چیخیں، درختوں کی کچلے جانے کی آواز، اور کمرے کی چوٹیں ہر جگہ سنائی دے رہی تھیں۔لوگ ٹرمپ کو بد دعائیں دیتے بھاگ رہے تھے......یوں لگتا تھا کہ جسے علاقے پر ایٹم بم گرادیا گیا ہو......لوگ حیران تھے کہ یہ کیسی عجیب و غریب اور تاریخ کی ہولناک ترین آگ ہے!!یہ کھنڈر نما جلا قصبہ غزہ کا نہیں بلکہ غزہ کے مظلوموں پر بم گرانے والے امریکا کےامیر ترین علاقےلاس انجلس کا تھا.......!!***** "اللہ کی مدد آگئی....."وہ بڑبڑائے.....آنکھوں میں خوشی کی چمک اور دل میں ایک نئی امید کی کرن جگمگا رہی تھی...... "سر آج بہت خوش لگ رہے ہیں!"جمال نے انکے سامنے قہوے کا کپ رکھتے ہوۓ کہا. "ہاں بات ہی خوشی کی ہے.....غزہ کے معصوم بچوں کا خون رنگ لے آیا...." "سر وہی خبر لاس اینجلس والی!" "ہاں جمال!تم نے خبر تیار کی ہے.....بہت اہم سرخی لگے گی!غزہ کے جلنے کی خبریں لگتی تھیں،آج اللہ نے یہ دن بھی دکھادیا.....امریکا کے جلنے کی خبر لگے گی اب.....ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم غزہ اور مشرق وسطی کو جہنم بنائیں گے!تصویریں دیکھو اب!اللہ نے امریکا کو جہنم بنادیا....بیشک وہ سب دیکھ رہا ہے!!"وہ ہنستے ہوۓ بولے.....پھر انکی آنکھوں میں خوشی کے آنسو أآگۓ.... "اور سر یہ تو دیکھیں ویڈیو میں کہ وہ لوگ کیسے چیخ چلا رہے ہیں....ٹرمپ کو بد دعائیں دے رہے ہیں...اور ادھر غزہ میں جب بم گرتا تو فضا حسبنا اللہ کے نعروں سے گونج اٹھتی!سر وہ ہالی وڈ کا متعصب آپ کو یاد ہے جس نے کہا تھا کہ غزہ کے لئے کی معافی نہیں!" "ہاں بلکل"انہوں نے اثبات میں سر ہلایا.... "سر آج اللہ نے اسکا گھر جلا کر سب کو عبرت کا تماشہ دکھا دیا.....سر!آج وہ ٹی وی پر آکر حسرت سے رورہا ہے....فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِى الْاَبْصَارِ"اسکے بعد انہوں نے فورا مٹھائی منگوائی...... "سر میں تقسیم کرتا ہوں دوسرے بھائیوں میں"جمال نے ڈبہ انکے ہاتھ سے لینا چاہا.... "نہیں جمال رہنے دو....میں خود ہی بانٹوں گا...تم جاکر جلدی سرخی تیار کرو اور مجھے لا کر دکھاؤ...جلدی جلدی....."وہ بہت پر جوش ہورہے تھے.....ان کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار سب کے سامنے کریں۔ ہر ایک لفظ میں ان کی خوشی کی جھلک محسوس ہو رہی تھی، جیسے وہ دنیا کی سب سے بڑی خوشی حاصل کر چکے ہوں۔وہ دوسرے ہال میں آئے اور اپنے دوست فارس کے سامنے ڈبہ کیا.... "خیر ہے اخی ابراہیم!مٹھائی کس خوشی میں!"وہ لقیمات کا ڈبہ دیکھ کر حیران ہوا.... "خوشی کی خبر ہے اخی!امریکا پر اللہ نے عذاب بھیجا ہے......کہتے تھے نا ظالم کہ مسلمانوں کا خدا کہاں ہے!خدا نے دکھادیا کہ یہ ہے میرا عذاب...غزہ کے بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں گئی اخی!"یہ کہتے کہتے انکی آنکھیں جل تھل ہونے لگیں..... "ابراہیم!آپ کن دقیانوسی باتوں کی خوشی اور غم لے کر بیٹھے ہیں اخی!جایئں اپنی زندگی انجواۓ کریں...غزہ کے غم کو لے کر بیٹھ گئے تو ہم تو گئے کام سے!..."بڑی سفاکی سے کہا....انکا دل بجھ سا گیا.... "اخی!سوچو ذرا کہ آپ اہل غزہ میں سے ہوتے اور وہ امارات میں ہوتے تو آپ اپنے بارے میں یہی باتیں پسند کرتے؟"انہوں نے غم میں گھلتے لہجے میں کہا-خاموشی چھا گئی.....انہوں نے لقیمات کا ڈبہ اٹھایا اور اپنے کمرے میں آگئے..... "کیا ہوا سر!"وہ انکی خاموشی دیکھ کر تشویش سے بولا. "جمال!مسلمان بے حس ہوگئے ہیں...."یہ کہتے ہوۓ انہوں نے انگلی کے پورے سے اپنی کتھئی مائل آنکھوں سے دو قطرے چنے اور میز پر ہاتھ مار کر بولے.... "مگر اب میں کسی قیمت پر خاموش نہیں رہوں گا!.....اللہ کے قہر سے ہمیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہمارا بھی یہی انجام نہ ہو!......بلکہ اس سے بھی شدید عذاب کا ڈر ہے کہ کفار نے اللہ سے عھد نہیں کیا...ہم نے تو عھد کیا اور پھر اس عھد کو توڑ دیا....."انکی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں..... "اور خبر تیار کرلی تم نے!" "جی سر یہ دیکھ لیں.....آگے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھوں!"انہوں نے کاغذ پڑھا...اس پر جمال نے یوں سرخی بنائی تھی:"خوشخبری!امریکا لاس اینجلس میں خوفناک آگ سے تباہی!غزہ کے مظلوموں کا خوں رائیگاں نہ گیا......مقامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی خوفناک آگ ہم نے کبھی نہ دیکھی.....جو رستے میں آرہا ہے آگ اسے خاکستر کر رہی ہے......کہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ آگ کوئی عام آگ نہیں!...." "ہاں؟"انہوں نے سوالیہ نظروں سے جمال کو دیکھا.... "سر مضمون ختم کیسے کرنا ہے،اختتامی الفاظ نہیں آرہے ذہن میں!" "مجھے دو قلم....میں لکھوں گا!" "یس سر!"وہ لکھنے لگے....تھوڑی دیر بعد ہی وہ جمال کو دکھا رہے تھے.... "خوشخبری!امریکا لاس اینجلس میں خوفناک آگ سے تباہی!غزہ کے مظلوموں کا خوں رائیگاں نہ گیا......مقامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی خوفناک آگ ہم نے کبھی نہ دیکھی.....جو رستے میں آرہا ہے آگ اسے خاکستر کر رہی ہے......کہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ آگ کوئی عام آگ نہیں.....آپکو کیا وہ معصوم بچی یاد ہے جو بہتے خون کے ساتھ کہہ رہی تھی کہ میں اپنے آل کو اوپر جاکر سب بتاؤں گی....لگتا ہے اس نے اوپر جا کر اللہ کو بتادیا ہے...." "آپ نے تو رلادیا سر!"وہ آنسو پونچھ کرلرزتے لہجے میں بولا.... "آگے تو پڑھ لو پہلے!"وہ اطمینان سے مسکراۓ....جمال نے آگے پڑھا.... "اس واقعے سے عبرت حاصل کر کے اب مسلمانوں کو ڈرنا چاہیے......جو اپنے عیش میں مگن ہیں مسلمان حکمران.....اور امریکا کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں....اپنی فورسز بھیجتے ہوئے جن کی جان نکلتی ہے!ایسے نہ ہو کہ کل کو کوئی اور بچی اوپر جاکر اللہ کو ہم مسلمانوں کا بتادے!" "سر....سر...یہ...یہ کیا...وہ....وہ پالیسیاں!"وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا.... "جمال!میں نے کہا تھا نا اس دن کہ میں ضرور آواز حق بلند کروں گا....اہل غزہ نے اپنی جانیں دین اسلام کے لئے قربان کردیں جمال!میں اگر یہ بات مسلمانوں تک پہنچانے میں اپنا عہدہ اور کیرئیر قربان کردوں گا تو کیا ہوا!"وہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرادیے...جمال نے عجیب سی نظروں سے ان کو دیکھا پھر خاموشی سے وہ کاغذ لے کر چل دیا...سرخی اور عنوان مکمل ہوگیا تھا!! بنت عبد الحق اسلام آباد
ہر ایک تصویر اُس کے دل کے ایک کونے میں ایک تیر کی مانند پیوست ہو گئی، جو اُس کی روح کو چھلنی کر گئی۔ غم کی یہ لہر اُس کی خوشیوں کا گلا گھونٹ رہی تھی.......
اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، جیسے آسمان کا بارش کرنا اُس کے دل کی کیفیت کو سمجھ رہا ہو۔ اُس کا دل چاہتا تھا کہ وہ اُن مظلوموں کی مدد کرے، جن کی چیخیں دور دور تک گونج رہی تھیں، مگر اُس کی سکت میں کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ ایک انسان کی بے بسی کا منظر تھا، جو اپنے ہم نوعوں کے درد کو اپنی روح میں محسوس کر رہا تھا۔۔اس نے دھندلی آنکھوں سے سامنے دیوار پر لگے خوبصورت فریم کی طرف دیکھا جہاں فلسطین کے جھنڈے کے ساتھ اللہ کا سچا وعدہ جگمگا رہا تھا"ولا تحسبن اللہ غافلا عما یعمل الظلمون"یکدم اسکے دل میں جسے ایک ٹھنڈک سی اتر گئی.....ایک بڑے پتھر کا بوجھ اتر گیا ہو۔ اس نے محسوس کیا کہ اللہ کی رحمت کا سایہ ایک ایک مظلوم مسلمان پر ہے.....اور یہ کہ اور اللہ تعالیٰ سخت قوت واﻻہے اور سزادینے میں بھی سخت ہے..... "یا اللہ!مجھے ان ظالموں کا انجام،اور معصوم نبیلہ کی دعا کی قبولیت اپنی آنکھوں سے دکھانا...اللہ زندگی میں ہی...مرنے سے پہلے دکھا دینا...."اسکے دل سے دعا نکلی..... اور یقینا جس نے بھی اس معصوم جان کی فریاد سنی ہوگی.یہ دعا ضرور نکلی ہوگی...... "جمال!اس معصوم بچی کی فریاد سے ہم سب کو ڈرنا چاہیے...مبادا یہ کہ اللہ کا عذاب کہیں ہمیں نہ گھیر لے....."ابراہیم نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا..... "پھر سر!ہم کیا کرسکتے ہیں!...."اس نے بے بسی سے کندھے اچکائے..... "ہم آواز حق بلند کرسکتے ہیں جمال...تم جا کر اپنا کام کرو....میں ایک مضمون لگاؤں گا.....جو مسلمان خاموش و بے حس ہیں،شاید وہ جاگ جایئں!""سر وہ جاگیں نہ جاگیں....ہم ضرور جایئں گے کام سے!"وہ پھیکی ور بے بسی کی ہنسی ہنسا..... "جانے دو...کیا ہم نے اللہ کو منہ نہیں دکھانا...."وہ غصے سے بولے....ایک کاغذ پر کچھ لکھ کر انہوں نے نجانے کیا سوچ کر دراز میں رکھ لیا..... "سر نہیں لگانا..."جمال انکا ارادہ بدلتا دیکھ کر بولا . "کیوں نہیں...ضرور لگے گا مگر ابھی نہیں.....یہ نہ سمجھنا کہ میں ڈر کر رک گیا ہوں...بلکہ مرے ذہن میں کچھ اور ہے ...."وہ کچھ سوچ رہے تھے..... "اور سر آپکو پتا ہے کہ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ غزہ اور مشرق وسطی کو جہنم بنادیں گے.....اور ہولی ووڈ کا ایک متعصب ہے،اس کا کہنا ہے کہ غزہ کے مسلمانوں کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں....."خبریں ترتیب دیتے ہوۓ جمال نے ابراہیم الرفاعی کو بھی بتایا..... وہ ہنس کر دیوار کی طرف اشارہ کرنے لگا.... "وہ دیکھ لو جمال!ولا تحسبن الله غافلا عما يعمل الظالمون"...... **** پورے قصبے میں ہولناک آگ لگی ہوئی تھی.......جو پھیلتی ہی جارہی تھی......جو اسکے رستے میں آتا،اسے جلا کر خاکستر کر رہی تھی......تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍبِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ......ہزاروں مکانات اور عمارتیں تباہ ہوگئی تھیں.... آگ پھیل رہی تھی، جیسے کوئی دیوانہ اپنی گونجتی ہوئی چیخوں کے ساتھ فضاء میں سرگوشیاں کرتا ہو۔ شعلوں کی زبانیں آسمان کو چھیڑ رہی تھیں، اور دھوئیں کے گھنے بادل ہر سمت پھیلتے جارہے تھے۔ گھر، درخت، اور گاڑیاں سب کچھ آگ کی لُکھیری تلواروں کی زد میں آ چکا تھا۔
آگ کی لپٹیں جیسے زمینی زلزلے کی طرح جھنجھنا رہی تھیں، بربادی کا ایک نیا باب لکھتی ہوئی۔ شعلے بلند ہو رہے تھے، جیسے وہ اپنے طاقتور بازوؤں سے فضا کو چومتے چلے جارہے ہوں۔ گلیوں میں بھاگتے لوگوں کی آہیں اور فریادیں سنائی دے رہی تھیں، لیکن شعلوں کی شدت نے ان کی آوازوں کو گُم کر دیا۔
ہر طرف خوف کا ایک سیاہ سایا تھا، جیسے زمین نے خود کو آتش میں جھونک دیا ہو۔ بوجھل دھوئیں کی لہر نے ہر چیز کو اپنی آغوش میں لے لیا، آنکھیں آہستہ آہستہ بند ہونے لگیں، سانس لینا مشکل ہو گیا۔ ہوا میں انارکی اور بے چینی کی لہر دوڑ رہی تھی۔ لوگ اپنی جان بچانے کے لئے ادھر اُدھر بھاگ رہے تھے، لیکن آگ نے ان کے راستوں کو روک رکھا تھا۔
ایسی لگتا تھا کہ یہ آگ صرف کچھ پل کی مہمان نہیں بلکہ ایک زبردست مخلوق ہے، جو اپنی طاقت کے نشے میں چور، سب سے انتقام لینے کو تیار ہو۔ ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ، آگ کا جال مزید پھیلتا جارہا تھا، ہر گوشے میں درد و خوف کی داستانیں رقم کر رہا تھا۔ دیواروں کی چیخیں، درختوں کی کچلے جانے کی آواز، اور کمرے کی چوٹیں ہر جگہ سنائی دے رہی تھیں۔لوگ ٹرمپ کو بد دعائیں دیتے بھاگ رہے تھے......یوں لگتا تھا کہ جسے علاقے پر ایٹم بم گرادیا گیا ہو......لوگ حیران تھے کہ یہ کیسی عجیب و غریب اور تاریخ کی ہولناک ترین آگ ہے!!یہ کھنڈر نما جلا قصبہ غزہ کا نہیں بلکہ غزہ کے مظلوموں پر بم گرانے والے امریکا کےامیر ترین علاقےلاس انجلس کا تھا.......!!***** "اللہ کی مدد آگئی....."وہ بڑبڑائے.....آنکھوں میں خوشی کی چمک اور دل میں ایک نئی امید کی کرن جگمگا رہی تھی...... "سر آج بہت خوش لگ رہے ہیں!"جمال نے انکے سامنے قہوے کا کپ رکھتے ہوۓ کہا. "ہاں بات ہی خوشی کی ہے.....غزہ کے معصوم بچوں کا خون رنگ لے آیا...." "سر وہی خبر لاس اینجلس والی!" "ہاں جمال!تم نے خبر تیار کی ہے.....بہت اہم سرخی لگے گی!غزہ کے جلنے کی خبریں لگتی تھیں،آج اللہ نے یہ دن بھی دکھادیا.....امریکا کے جلنے کی خبر لگے گی اب.....ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہم غزہ اور مشرق وسطی کو جہنم بنائیں گے!تصویریں دیکھو اب!اللہ نے امریکا کو جہنم بنادیا....بیشک وہ سب دیکھ رہا ہے!!"وہ ہنستے ہوۓ بولے.....پھر انکی آنکھوں میں خوشی کے آنسو أآگۓ.... "اور سر یہ تو دیکھیں ویڈیو میں کہ وہ لوگ کیسے چیخ چلا رہے ہیں....ٹرمپ کو بد دعائیں دے رہے ہیں...اور ادھر غزہ میں جب بم گرتا تو فضا حسبنا اللہ کے نعروں سے گونج اٹھتی!سر وہ ہالی وڈ کا متعصب آپ کو یاد ہے جس نے کہا تھا کہ غزہ کے لئے کی معافی نہیں!" "ہاں بلکل"انہوں نے اثبات میں سر ہلایا.... "سر آج اللہ نے اسکا گھر جلا کر سب کو عبرت کا تماشہ دکھا دیا.....سر!آج وہ ٹی وی پر آکر حسرت سے رورہا ہے....فَاعْتَبِرُوْا يٰٓاُولِى الْاَبْصَارِ"اسکے بعد انہوں نے فورا مٹھائی منگوائی...... "سر میں تقسیم کرتا ہوں دوسرے بھائیوں میں"جمال نے ڈبہ انکے ہاتھ سے لینا چاہا.... "نہیں جمال رہنے دو....میں خود ہی بانٹوں گا...تم جاکر جلدی سرخی تیار کرو اور مجھے لا کر دکھاؤ...جلدی جلدی....."وہ بہت پر جوش ہورہے تھے.....ان کا دل چاہتا تھا کہ وہ اپنی خوشی کا اظہار سب کے سامنے کریں۔ ہر ایک لفظ میں ان کی خوشی کی جھلک محسوس ہو رہی تھی، جیسے وہ دنیا کی سب سے بڑی خوشی حاصل کر چکے ہوں۔وہ دوسرے ہال میں آئے اور اپنے دوست فارس کے سامنے ڈبہ کیا.... "خیر ہے اخی ابراہیم!مٹھائی کس خوشی میں!"وہ لقیمات کا ڈبہ دیکھ کر حیران ہوا.... "خوشی کی خبر ہے اخی!امریکا پر اللہ نے عذاب بھیجا ہے......کہتے تھے نا ظالم کہ مسلمانوں کا خدا کہاں ہے!خدا نے دکھادیا کہ یہ ہے میرا عذاب...غزہ کے بچوں کی قربانی رائیگاں نہیں گئی اخی!"یہ کہتے کہتے انکی آنکھیں جل تھل ہونے لگیں..... "ابراہیم!آپ کن دقیانوسی باتوں کی خوشی اور غم لے کر بیٹھے ہیں اخی!جایئں اپنی زندگی انجواۓ کریں...غزہ کے غم کو لے کر بیٹھ گئے تو ہم تو گئے کام سے!..."بڑی سفاکی سے کہا....انکا دل بجھ سا گیا.... "اخی!سوچو ذرا کہ آپ اہل غزہ میں سے ہوتے اور وہ امارات میں ہوتے تو آپ اپنے بارے میں یہی باتیں پسند کرتے؟"انہوں نے غم میں گھلتے لہجے میں کہا-خاموشی چھا گئی.....انہوں نے لقیمات کا ڈبہ اٹھایا اور اپنے کمرے میں آگئے..... "کیا ہوا سر!"وہ انکی خاموشی دیکھ کر تشویش سے بولا. "جمال!مسلمان بے حس ہوگئے ہیں...."یہ کہتے ہوۓ انہوں نے انگلی کے پورے سے اپنی کتھئی مائل آنکھوں سے دو قطرے چنے اور میز پر ہاتھ مار کر بولے.... "مگر اب میں کسی قیمت پر خاموش نہیں رہوں گا!.....اللہ کے قہر سے ہمیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں ہمارا بھی یہی انجام نہ ہو!......بلکہ اس سے بھی شدید عذاب کا ڈر ہے کہ کفار نے اللہ سے عھد نہیں کیا...ہم نے تو عھد کیا اور پھر اس عھد کو توڑ دیا....."انکی آنکھیں سرخ ہوگئی تھیں..... "اور خبر تیار کرلی تم نے!" "جی سر یہ دیکھ لیں.....آگے سمجھ نہیں آرہا کہ کیا لکھوں!"انہوں نے کاغذ پڑھا...اس پر جمال نے یوں سرخی بنائی تھی:"خوشخبری!امریکا لاس اینجلس میں خوفناک آگ سے تباہی!غزہ کے مظلوموں کا خوں رائیگاں نہ گیا......مقامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی خوفناک آگ ہم نے کبھی نہ دیکھی.....جو رستے میں آرہا ہے آگ اسے خاکستر کر رہی ہے......کہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ آگ کوئی عام آگ نہیں!...." "ہاں؟"انہوں نے سوالیہ نظروں سے جمال کو دیکھا.... "سر مضمون ختم کیسے کرنا ہے،اختتامی الفاظ نہیں آرہے ذہن میں!" "مجھے دو قلم....میں لکھوں گا!" "یس سر!"وہ لکھنے لگے....تھوڑی دیر بعد ہی وہ جمال کو دکھا رہے تھے.... "خوشخبری!امریکا لاس اینجلس میں خوفناک آگ سے تباہی!غزہ کے مظلوموں کا خوں رائیگاں نہ گیا......مقامیوں کا کہنا ہے کہ ایسی خوفناک آگ ہم نے کبھی نہ دیکھی.....جو رستے میں آرہا ہے آگ اسے خاکستر کر رہی ہے......کہنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ آگ کوئی عام آگ نہیں.....آپکو کیا وہ معصوم بچی یاد ہے جو بہتے خون کے ساتھ کہہ رہی تھی کہ میں اپنے آل کو اوپر جاکر سب بتاؤں گی....لگتا ہے اس نے اوپر جا کر اللہ کو بتادیا ہے...." "آپ نے تو رلادیا سر!"وہ آنسو پونچھ کرلرزتے لہجے میں بولا.... "آگے تو پڑھ لو پہلے!"وہ اطمینان سے مسکراۓ....جمال نے آگے پڑھا.... "اس واقعے سے عبرت حاصل کر کے اب مسلمانوں کو ڈرنا چاہیے......جو اپنے عیش میں مگن ہیں مسلمان حکمران.....اور امریکا کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں....اپنی فورسز بھیجتے ہوئے جن کی جان نکلتی ہے!ایسے نہ ہو کہ کل کو کوئی اور بچی اوپر جاکر اللہ کو ہم مسلمانوں کا بتادے!" "سر....سر...یہ...یہ کیا...وہ....وہ پالیسیاں!"وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولا.... "جمال!میں نے کہا تھا نا اس دن کہ میں ضرور آواز حق بلند کروں گا....اہل غزہ نے اپنی جانیں دین اسلام کے لئے قربان کردیں جمال!میں اگر یہ بات مسلمانوں تک پہنچانے میں اپنا عہدہ اور کیرئیر قربان کردوں گا تو کیا ہوا!"وہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرادیے...جمال نے عجیب سی نظروں سے ان کو دیکھا پھر خاموشی سے وہ کاغذ لے کر چل دیا...سرخی اور عنوان مکمل ہوگیا تھا!! بنت عبد الحق اسلام آباد