السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی آفیشل موبائل ایپلیکیشن لانچ کردی گئی ہے ، ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں
  غیر رجسٹرڈ ممبرز کو ویب سائٹ تک رسائی محدود ہے

خلیفه بلا فصل امیر المومنین سیدنا صدیقِ اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مقام صدیقیت ا

خلیفه بلا فصل امیر المومنین سیدنا صدیقِ اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا مقام صدیقیت اور دو ایمان افروز واقعات
شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمّد اختر صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو تمام صحابہ کے مقابلے میں محبت کی وجہ سے زیادہ درجہ ملا ہے۔ یہ روایت ملا علی قاری رحمۃ اﷲ علیہ نے لکھی ہے مَا فُضِّلَ اَبُوْ بَکْرٍ النَّاسَلاَ بِکَثْرَۃِ عِبَادَۃٍ ابوبکر رضی اﷲ عنہ کو تمام صحابہ پر جو فضیلت حاصل ہوئی وہ زیادہ عبادت سے نہیں ہوئی وَلاَ بِکَثْرَۃِ فَتْوٰی وَلاَ بِکَثْرَۃِ رِوَایَۃٍ نہ تو ان کی روایات زیادہ ہیں، نہ عبادات زیادہ ہیں اور نہ زیادہ فتویٰ دیئے وَلٰکِنْ بِشَیْ ئٍ مَّا وُقِّرَ فِیْ صَدْرِہٖ لیکن ان کے سینہ میں اور ان کے قلب میں ﷲ تعالیٰ کی محبت کا اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کا جو مقام تھا بس وہ چیز ان کو اوپر لے گئی کہ انہوں نے جان کو جان نہ سمجھا کہ غارِ ثور میں سانپ کے بل پر اپنا انگوٹھا لگا دیا اور سانپ نے کاٹ بھی لیا، جب بھی کوئی بھی موقع آیا تو صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ ہر لحاظ سے سب سے پیش پیش رہتے تھے، جنگ اُحد میں عرض کیا یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم مجھ سے آپ کا خون نہیں دیکھا جاتا، میں خونِ نبوت بہنے کا تحمل نہیں کرسکتا لہٰذا تلوار کھینچ لی اور کہا کہ آج ان کافروں کو ماروں گا یا شہید ہوجاؤں گا، میری زندگی کس کام کی ہے کہ میں اپنے نبی کا خون اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ تو جس وقت تلوار کھینچ کر آگے بڑھے تو خاتم النبیین رحمتہ للعالمین حضور صلی ﷲ علیہ وسلم نے ان کو پکڑ لیا اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا خون بہہ رہا ہے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا شِمْ سَیْفَکَ اے ابوبکر! تلوار کو میان میں رکھ لاَ تُفْجِعْنَابِنَفْسِکَ شہید ہو کر مجھے جدائی کاغم مت دو، اس سے پتہ چلتا ہے کہ صدیق کا درجہ شہیدوں سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ وہ کارِنبوت انجام دیتا ہے۔ اس لیے قرآن کا اسلوبِ بیان اور اسلوبِ نزول دیکھئے مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصَّالِحِیْنَ آہ! جنہوں نے جان دی وہ پیچھے رہ گئے زندہ شہید سے لہٰذا زندہ شہید بنو اور زندہ شہید وہ ہے جو ﷲ اور رسول پر ہر وقت فدا رہے اور دین کے کام اور دین کی محنت پر اپنی جان ومال کو قربان کرتا رہے اور اپنے نفس کی خواہشات کا خون کرتا رہے اور ایک سانس بھی کو ناراض نہ کرے تو ان شاء ﷲ تعالیٰ یہ شہیدوں سے افضل ہوگا، ﷲ تعالیٰ نے صدیق کو شہید سے پہلے بیان کیا اورصدیقین جمع نازل کیا یعنی قیامت تک ایسے صدیقین اور اولیاء ﷲ پیدا ہوسکتے ہیں جو شہیدوں سے افضل ہوں گے باوجود اس کے کہ وہ حیات ہوں گے لیکن رات دن دین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں مصروف ہونے اور ﷲ کے عشق میں آہ وفغاں کرنے اور اخلاص کے اعلیٰ مقام کی وجہ سے وہ شہیدوں سے افضل ہوں گے، ان ہی کی برکت سے ﷲ کے عشاق پیدا ہوتے ہیں ورنہ اگر خالی کتاب رہ جائے توعشق تو کسی درجہ میں ہوسکتا ہے لیکن عشق کی رہنمائی نہیں ہوسکتی، عشق غلط جگہ پہنچ جائے گا یعنی عشق حد سے زیادہ بڑھ جائے گا اور بدعتی ہوجائیں گے۔صدیقین قیامت تک پیدا ہوتے رہے گے، لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے نہیں ہوں گے
حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفات کے غم میں بعض مصلحتوں کی وجہ سے صحابہ کی رائے نہیں تھی کہ اس وقت مانعین زکوٰۃ سے جہاد کیا جائے لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اعلان کیا کہ جو جھنڈا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے اسامہ کو دیا ہے وہ رکھا نہیں جائے گا،میں تنہا جاؤں گا، اگر آپ لوگ میرا ساتھ نہیں دیتے ہو تو مجھے پرواہ نہیں، کیونکہ نص قرآن سے ﷲ تعالیٰ میرے ساتھ ہیں، جب ﷲ تعالیٰ نے لاَ تَحْزَنْ اِنَّ ﷲَ مَعَنَا فرمایا تھا تو اس وقت اے عمر تم نہیں تھے، اے عثمان تم نہیں تھے، اے علی تم نہیں تھے، اس وقت صرف ابوبکر تھا، میرے ساتھ ﷲ کی معیت منصوص ہے، میں تنہا لڑوں گا وَتَقَلَّدَ سَیْفَہٗ اور تلو ار کو نیام میں لگایا فَخَرَجَ وَحْدَہٗ اور تنہا نکل پڑے، تب صحابہ کو شرح صدر ہوگیا اور حضرت علی نے اعلان کیا کہ ہم سب آپ کے ساتھ ہیں اے صدیق! تلوار نیام میں رکھ لیں وَ لاَ تُفْجِعْنَا بِنَفْسِکَ اپنی جدائی سے ہمیں غمگین نہ کریں۔ اب یہ جملہ کون سا ہے؟ یہ وہی جملہ ہے جو حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جب جنگِ احد میں حضرت ابوبکرصدیق نے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم کا خونِ مبارک دیکھا تو برداشت نہیں ہوا، تلوار کو ننگی کیا اور کہا کہ آج کسی کافر کو نہیں چھوڑوں گا یا شہید ہوجاؤں گا، یہ کہہ کر کفار پر جھپٹے مگر حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے جھپٹ کر ان کو پکڑ لیا اور فرمایا شِمْ سَیْفَکَ اے صدیق! اپنی تلوار کو نیام میں رکھ لو وَلاَ تُفْجِعْنَا بِنَفْسِکَ اور اپنی جدائی سے مجھے غمگین نہ کرو یعنی تو شہید ہوجائے گا تو تیری جدائی کا غم مجھ سے برداشت نہیں ہوگا ۔ اب بتائیے درجۂ شہادت سے درجہ ٔصدیقیت افضل ہے کہ نہیں؟ صدیق کی زندگی کا نبی حریص ہوتا ہے نبی مشتاق ہوتا ہے۔ جس کی حیات کا پیغمبر مشتاق ہو کیا وہ حیات شہادت سے افضل نہیں ہے ؟ اس لیے مِنَ النَّبِیِّیْنَ کے بعد صدیقین ہے شہدا ء کو بعد میں بیان کیا گیا ہے کیونکہ صدیق کارِنبوت کی تکمیل کرتا ہے،کارِ نبوت انجام دیتا ہے اس لیے اس کا درجہ بڑا ہے کیونکہ حضرت علی کو اس جملہ کا علم تھا کہ ابوبکر صدیق کے لیے یہ جملہ بارگاہِ نبوت سے بوقتِ جنگِ اُحد عطا ہوا تھا لہٰذا وہی جملہ حضرت علی نے اس وقت نقل فرمایا کہ اے صدیق! تلوار کو نیام میں رکھ لیں، ہمیں اپنی جدائی سے غمزدہ نہ کریں، ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ یہ ان کا تعارف کرایا کہ نہیں؟ بعض اوقات جب دوسرا نہیں ہوتو خود تعارف کرانا پڑتا ہے جیسے نبی سب سے پہلے اپنا تعارف کراتا ہے کہ میں نبی ہوں ، جب کوئی دوسرا تعارف کرانے والا نہ ہو تو مجبوراً اپنا تعارف خود کرانا پڑتا ہے کہ بھئی! میں شاہ عبدالغنی صاحب رحمۃ ﷲ علیہ کا فلاں ہوں اور شاہ ابرارالحق صاحب کا فلاں ہوں اور حکیم الامت کا پوتا ہوں اور حاجی امداد ﷲ صاحب کا پڑپوتا ہوں۔
 
Top