اگر آپ کے پاس تین لاکھ روپے کیش یا کسی اور شکل میں موجود ہیں، جنہیں آپ ایک دن کے نوٹس پر استعمال کر سکتے ہیں تو پھر سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ آپ کا تعلق سات ارب آبادی کی دنیا کے پانچ فیصد امیر ترین طبقے سے ہے ... (واللہ الحمد للہ رب العالمین!)
اگر آپ کو پیاس لگے اور دس منٹ کے اندر اندر تازہ یا فریج کے پانی کا گلاس آپ کو مل سکتا ہے تو پھر سب سے پہلے الحمد للہ کہیں! کیونکہ آپ کا تعلق دنیا کے اس بیس فیصد طبقے سے ہے جسے اللہ نے یہ سہولت دے رکھی ہے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر دسمبر کی یخ بستہ صبح سو کر اس طرح اٹھتے ہیں کہ آپ کے نیچے نرم بستر اور اوپر گرم لحاف تھی تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ آپ کا تعلق دنیا کے اس تیس فیصد طبقے سے ہے جسے یہ سہولت میسر ہے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ اسی یخ بستہ صبح اپنے بستر سے نکل کر باتھ روم جاتے ہیں، نہانے کیلئے شاور کھولتے ہیں اور گرم پانی آپ کے جسم پر گرتا ہے جس سے آپ تروتازہ ہو جاتے ہیں تو سب سے پہلے الحمد للہ کہیں! کیونکہ شام، فلسطین، کشمیر، افغانستان سے لے کر افریقہ کے بہت سے پسماندہ ممالک تک، کروڑوں لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ کے بچے دن میں تین وقت کھانا کھاتے ہیں اور بھرے پیٹ کے ساتھ رات کو بستر پر چلے جاتے ہیں تو پھر سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی 80 فیصد آبادی کے بچوں کو تین وقت پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا ...
( یارب الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ جب چاہیں اپنے ہاتھ پاؤں ہلا سکتے ہیں، بازو اور گھٹنے موڑ سکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بغیر تکلیف کے گھٹنوں تک پہنچا سکتے ہیں تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی چالیس فیصد سے زائد آبادی ان میں سے کوئی ایک کام بغیر تکلیف کے نہیں کرسکتی ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ کے سامنے گھی سے تر بتر پراٹھے یا فرائیڈ چکن یا پیزا موجود ہے لیکن آپ اس وجہ سے نہیں کھاتے کہ کہیں آپ کا وزن نہ بڑھ جائے تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ آپ کا تعلق دنیا کے اس سات فیصد خوش نصیب طبقے سے ہے جسے اللہ نے یہ سب سہولیات دے رکھی ہیں اور وہ اپنی مرضی سے یہ نہیں کھاتے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ گھر سے اپنی سواری پر نکلتے ہیں تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی اسی فیصد سے زائد آبادی کو یہ سہولت میسر نہیں ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ بآسانی سانس لیتے ہوئے آکسیجن اندر لے جاسکتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر پھینک سکتے ہیں تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی بیس فیصد سے زائد آبادی کو سانس کے مسائل کا سامنا ہے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ یہ مندرجہ بالا سطور پڑھنے کے بعد غور و فکر میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے ان گنت احسانات کو محسوس کرتے ہوئے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں تو الحمد للہ کہیں! کہ اس نے آپ کو اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی، ورنہ اس دنیا میں اربوں انسان ایسے بھی آئے جنہیں یہ توفیق نہ مل سکی اور وہ اسی حالت میں قبروں میں جا پہنچے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
الحمد للہ کہیں!
جب تک کہ آپ کی آخری سانس نہ آجائے، کیونکہ یہ زندگی اللہ تعالی کا ہم پر ایک احسان عظیم ہے اگر ہم اسے اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق گزار لیں!
اللہ تبارک و تعالٰی مجھ گناہ گار و بےعمل سمیت ہم تمام مسلمانانِ عالم کو ہر پل اپنا شاکر رکھتے ہوئے تاحیات عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے آمیــــــــن ثمہ آمیـــــــــــــــــن یا رب العالمین ...
اگر آپ کو پیاس لگے اور دس منٹ کے اندر اندر تازہ یا فریج کے پانی کا گلاس آپ کو مل سکتا ہے تو پھر سب سے پہلے الحمد للہ کہیں! کیونکہ آپ کا تعلق دنیا کے اس بیس فیصد طبقے سے ہے جسے اللہ نے یہ سہولت دے رکھی ہے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر دسمبر کی یخ بستہ صبح سو کر اس طرح اٹھتے ہیں کہ آپ کے نیچے نرم بستر اور اوپر گرم لحاف تھی تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ آپ کا تعلق دنیا کے اس تیس فیصد طبقے سے ہے جسے یہ سہولت میسر ہے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ اسی یخ بستہ صبح اپنے بستر سے نکل کر باتھ روم جاتے ہیں، نہانے کیلئے شاور کھولتے ہیں اور گرم پانی آپ کے جسم پر گرتا ہے جس سے آپ تروتازہ ہو جاتے ہیں تو سب سے پہلے الحمد للہ کہیں! کیونکہ شام، فلسطین، کشمیر، افغانستان سے لے کر افریقہ کے بہت سے پسماندہ ممالک تک، کروڑوں لوگوں کو یہ سہولت میسر نہیں ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ کے بچے دن میں تین وقت کھانا کھاتے ہیں اور بھرے پیٹ کے ساتھ رات کو بستر پر چلے جاتے ہیں تو پھر سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی 80 فیصد آبادی کے بچوں کو تین وقت پیٹ بھر کر کھانا نصیب نہیں ہوتا ...
( یارب الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ جب چاہیں اپنے ہاتھ پاؤں ہلا سکتے ہیں، بازو اور گھٹنے موڑ سکتے ہیں اور اپنے ہاتھ بغیر تکلیف کے گھٹنوں تک پہنچا سکتے ہیں تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی چالیس فیصد سے زائد آبادی ان میں سے کوئی ایک کام بغیر تکلیف کے نہیں کرسکتی ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ کے سامنے گھی سے تر بتر پراٹھے یا فرائیڈ چکن یا پیزا موجود ہے لیکن آپ اس وجہ سے نہیں کھاتے کہ کہیں آپ کا وزن نہ بڑھ جائے تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ آپ کا تعلق دنیا کے اس سات فیصد خوش نصیب طبقے سے ہے جسے اللہ نے یہ سب سہولیات دے رکھی ہیں اور وہ اپنی مرضی سے یہ نہیں کھاتے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ گھر سے اپنی سواری پر نکلتے ہیں تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی اسی فیصد سے زائد آبادی کو یہ سہولت میسر نہیں ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ بآسانی سانس لیتے ہوئے آکسیجن اندر لے جاسکتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ باہر پھینک سکتے ہیں تو سب سے پہلے الحمدللہ کہیں! کیونکہ دنیا کی بیس فیصد سے زائد آبادی کو سانس کے مسائل کا سامنا ہے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
اگر آپ یہ مندرجہ بالا سطور پڑھنے کے بعد غور و فکر میں مبتلا ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کے ان گنت احسانات کو محسوس کرتے ہوئے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں تو الحمد للہ کہیں! کہ اس نے آپ کو اپنا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی، ورنہ اس دنیا میں اربوں انسان ایسے بھی آئے جنہیں یہ توفیق نہ مل سکی اور وہ اسی حالت میں قبروں میں جا پہنچے ... ( الحمد للہ رب العالمین! )
الحمد للہ کہیں!
جب تک کہ آپ کی آخری سانس نہ آجائے، کیونکہ یہ زندگی اللہ تعالی کا ہم پر ایک احسان عظیم ہے اگر ہم اسے اللہ تعالی کی مرضی کے مطابق گزار لیں!
اللہ تبارک و تعالٰی مجھ گناہ گار و بےعمل سمیت ہم تمام مسلمانانِ عالم کو ہر پل اپنا شاکر رکھتے ہوئے تاحیات عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے آمیــــــــن ثمہ آمیـــــــــــــــــن یا رب العالمین ...