بنت عبد الحق اسلام آباد
رجسٹرڈ ممبر
محبت
عفان لنگڑاتے ہوۓ ہسپتال سے نکلا -پیچھے سے یمین نے بھاگ کر اسے سہارا دیا اور آہستہ آہستہ چلا نے لگا -"عفان !سرجری کے بعد تکلیف کم ہوئی ہے ؟""کہاں یار ؟ابھی بھی اتنا درد ہے کہ چلا بھی نہیں جارہا -"عفان پٹی میں جکڑا پیر دیکھ کر یاسیت سے بولا -"چلو ان شاء اللہ تعالیٰ ابھی دو چار دن میں تکلیف ختم ہو جایئگی -آرام کرنا -"یمین نے تسلی دیتے ہوۓ جیب سے گاڑی کی چابی نکال لی -"ہاں آرام تو کرنا ہی ہوگا ،مجھ سے تو ایک قدم اٹھانا بھی دوبھر ہورہا ہے -""ظاہر سی بات ہے -زخم جو اتنا بڑا تھا ،خیر ابھی ہمت کرو .بس سڑ ک کراس کر کے سامنے گاڑی ہے -"یمین نے گھنے درخت کے سائے میں کھڑی سیاہ کرولا کی جانب اشارہ کیا -کچھ دیر بعد دونوں گاڑ ی میں سوار ہو گئے - ہسپتال سے انکے گھر کا راستہ ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل تھا ،عفان نے پشت آرام سے سیٹ سے ٹکائی اور موبائل دیکھنے لگا -یمین جلدی سے بھوک مٹانے کے لئے پکوڑوں کا لفافہ بھی لے آیا -سفر شروع ہوگیا -ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ عفان کو نماز کی فکر ہونے لگی -"نماز بھی تو پڑھنی ہے یار -""ہاں بس ایک گھنٹہ رہ گیا ہے عصر ہم محلے کی مسجد میں ہی ادا کریں گے ویسے بھی عصر قضاء ہونے میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے مزید -""ادھر آ س پاس کوئی مسجد نہیں ؟"عفان نے کھڑکی سے باہر سر گھما کر دیکھا -"نہ بھائی ...."یمین نے ہنس کر کہا -"یہ سنسان علاقہ ادھر کہاں سے مسجد آگئی ؟!"-عفان نے سر ہلادیا -کچھ دیر بعد ہی عفان چلانے لگا -"مرے پیٹ میں شدید درد ہو رہا ہے ....آہ ....آہ ہ ہ ہ...ہائے...-""ارے مت چیخو ،ٹھیک ہو جاۓ گا -یہ گندے سے علاقے کے پکوڑے کھاۓ ہیں نا...."یمین اچانک کی مصیبت سے گھبرا گیا -"نن ...نن.....نہیں ...برداشت ...نہیں ہو رہا ....آہ ...."عفان کراہ رہا تھا -"بھائی آدھا گھنٹہ صبر کرلو بس گھر آنے ہی والا ہے ...."یمین نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتے ہوۓ بائیں ہاتھ سے عفان کا شانہ تھپتھپایا -"میں صبر ...نہیں کر سکتا ....میں ....میں ...بے ہوش ہو رہا ہوں ...!!!!"عفان چیخ کر بولا -یمین نے بوکھلا کر گاڑی روکی -اسے اندازہ نہیں تھا کہ عفان کا درد اس قدر سیریس ہے -اس نے دیکھا واقعی عفان کی نبض ڈوپ رہی تھی ،چہرہ سیاہ پڑ رہا تھا -عفان اب بھی چلا رہا تھا -یمین نے گاڑی قریبی ہسپتال کی جانب بھگا دی -ساتھ ساتھ عفان کو تسلی بھی دے رہا تھا ،آہستہ آہستہ عفان کی چیخیں کم ہوئیں ،اب اسکی گردن ذرا ایک طرف کو ڈھلک رہی تھی....یمین بھی شدید پریشان -مگر یہ کیا ....ہسپتال سے تین گلی دور لوگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا ....یمین نے گاڑی نکالنے کی بہت کوشش کی مگر کیا کرتا ....عفان کی حالت خراب ہوۓ جارہی تھی ...یمین نے ادھر ادھر دیکھا ایک سفید داڑھی والے صاحب نظر آئے-"ایک آدمی بیمار ہے .ہسپتال لے جانا ہے ایمرجنسی ہے -لوگوں کا اتنا جلوس کس واسطے جمع ہے -"یمین نے پریشانی کی حالت میں پیشانی پر نمودار ہوۓ قطروں کو پونچھا -"ارے بھانجے !بڑ ے انجان بنتے ہو -عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوس ہے ناں -"وہ مسکرا کر بولے -"مگر مرے دوست کی حالت بہت خراب ہے ...""انتظار کرلو -"بڑے میاں نے اپنا رومال کندھے سے لٹکاتے ہوۓ کہا -"ہم انتظار نہیں کر سکتے نا....مجبوری سمجھیں ہماری ""تو مت کرو "وہ غصے سے آگے چل دیےیمین بوجھل قدم اٹھاتے دوبارہ گاڑی میں آیا -اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ...؟؟عفان کی حالت قابل رحم تھی -یمین نے گاڑی پچھلی سڑک پر موڑی ،سڑک صاف تھی مگر آگے پھر جلوس !.....نماز قضاء ہونے کو تھی -عفان شدید بیمار ہوگیا تھا ....بلآخر یمین ،عفان کو سہارا دیکر آہستہ آہستہ چلا نے لگا کہ پیدل ہی ہسپتال چلتے ہیں مگر عفان بیچارے کا پاؤں پہلے ہی زخمی تھا ،اوپر سے حالت خراب ....وہ کیسے چلتا ....دھڑام کی آواز آئی اور عفان نیچے گرگیا ....یمین کی چیخ نکل گئی -دو چار نوجوان بھاگ کر آئے -انہوں نے ایمبولینس منگوائی ....مگر ایمبولینس کہاں سے آتی ....رستہ تو مکمل بلاک تھا -خیر ڈیڑھ گھنٹے تک جلوس ذرا کم ہوا تو لوگ اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے لگے -یمین بھی پیچھے پیچھے آیا -عصر قضاء ہوچکی تھی -آدھ گھنٹہ مزید سڑ ک پار کرنے میں لگ گیا -عفان بے ہوش ہوچکا تھا -ڈاکٹر نے بتایا اسکی حالت خطرے میں ہے -معاملہ بگڑ چکا ہے -یمین نم آنکھوں سے دعا کرنے لگا -کچھ دیر بعد نرس نے خبر دی کہ حالت اب خطرے سے باہر ہے مگر علاج میں کافی وقت لگے گا -یمین قضاء نماز کی ادائیگی کے لئے ہسپتال کے باتھ روم سے وضو کر آیا -وہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہ خاتم النبیین و خاتم المعصومین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہے ؟؟کیا محبت کا اظہار اسطرح کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو اذیت دی جاۓ ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو راستہ پر بیٹھنے منع فرمایا ،تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یہ تو ہماری مجلسیں ہیں جہاں ہم بات چیت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بیٹھنا ہی ہے تو راستہ کا حق ادا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا راستہ کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نظر نیچی رکھو، کسی کو تکلیف مت پہنچاؤ (یعنی ایسی حرکت نہ ہو جس سے چلنے والوں کو تکلیف ہو مثلا ، سلام کا جواب دو، اچھائی کا حکم دو اور برائی سے روکو)-راستہ بلاک کرنا جس سے گزرنے والے کو اذیت ہو ،اس سے تو منع فرمایا ہے ۔یہ کیسی محبت ہے کہ جس سے محبت کا دعوی کیا جارہا ہے اس کے ارشادات پر عمل ہی نہیں -کیا یہ سچی محبت ہے ؟؟-ہرگز نہیں !!-
عفان لنگڑاتے ہوۓ ہسپتال سے نکلا -پیچھے سے یمین نے بھاگ کر اسے سہارا دیا اور آہستہ آہستہ چلا نے لگا -"عفان !سرجری کے بعد تکلیف کم ہوئی ہے ؟""کہاں یار ؟ابھی بھی اتنا درد ہے کہ چلا بھی نہیں جارہا -"عفان پٹی میں جکڑا پیر دیکھ کر یاسیت سے بولا -"چلو ان شاء اللہ تعالیٰ ابھی دو چار دن میں تکلیف ختم ہو جایئگی -آرام کرنا -"یمین نے تسلی دیتے ہوۓ جیب سے گاڑی کی چابی نکال لی -"ہاں آرام تو کرنا ہی ہوگا ،مجھ سے تو ایک قدم اٹھانا بھی دوبھر ہورہا ہے -""ظاہر سی بات ہے -زخم جو اتنا بڑا تھا ،خیر ابھی ہمت کرو .بس سڑ ک کراس کر کے سامنے گاڑی ہے -"یمین نے گھنے درخت کے سائے میں کھڑی سیاہ کرولا کی جانب اشارہ کیا -کچھ دیر بعد دونوں گاڑ ی میں سوار ہو گئے - ہسپتال سے انکے گھر کا راستہ ڈیڑھ گھنٹے پر مشتمل تھا ،عفان نے پشت آرام سے سیٹ سے ٹکائی اور موبائل دیکھنے لگا -یمین جلدی سے بھوک مٹانے کے لئے پکوڑوں کا لفافہ بھی لے آیا -سفر شروع ہوگیا -ابھی آدھا گھنٹہ ہی گزرا تھا کہ عفان کو نماز کی فکر ہونے لگی -"نماز بھی تو پڑھنی ہے یار -""ہاں بس ایک گھنٹہ رہ گیا ہے عصر ہم محلے کی مسجد میں ہی ادا کریں گے ویسے بھی عصر قضاء ہونے میں ڈیڑھ گھنٹہ باقی ہے مزید -""ادھر آ س پاس کوئی مسجد نہیں ؟"عفان نے کھڑکی سے باہر سر گھما کر دیکھا -"نہ بھائی ...."یمین نے ہنس کر کہا -"یہ سنسان علاقہ ادھر کہاں سے مسجد آگئی ؟!"-عفان نے سر ہلادیا -کچھ دیر بعد ہی عفان چلانے لگا -"مرے پیٹ میں شدید درد ہو رہا ہے ....آہ ....آہ ہ ہ ہ...ہائے...-""ارے مت چیخو ،ٹھیک ہو جاۓ گا -یہ گندے سے علاقے کے پکوڑے کھاۓ ہیں نا...."یمین اچانک کی مصیبت سے گھبرا گیا -"نن ...نن.....نہیں ...برداشت ...نہیں ہو رہا ....آہ ...."عفان کراہ رہا تھا -"بھائی آدھا گھنٹہ صبر کرلو بس گھر آنے ہی والا ہے ...."یمین نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھاتے ہوۓ بائیں ہاتھ سے عفان کا شانہ تھپتھپایا -"میں صبر ...نہیں کر سکتا ....میں ....میں ...بے ہوش ہو رہا ہوں ...!!!!"عفان چیخ کر بولا -یمین نے بوکھلا کر گاڑی روکی -اسے اندازہ نہیں تھا کہ عفان کا درد اس قدر سیریس ہے -اس نے دیکھا واقعی عفان کی نبض ڈوپ رہی تھی ،چہرہ سیاہ پڑ رہا تھا -عفان اب بھی چلا رہا تھا -یمین نے گاڑی قریبی ہسپتال کی جانب بھگا دی -ساتھ ساتھ عفان کو تسلی بھی دے رہا تھا ،آہستہ آہستہ عفان کی چیخیں کم ہوئیں ،اب اسکی گردن ذرا ایک طرف کو ڈھلک رہی تھی....یمین بھی شدید پریشان -مگر یہ کیا ....ہسپتال سے تین گلی دور لوگوں کا سیلاب امڈ آیا تھا ....یمین نے گاڑی نکالنے کی بہت کوشش کی مگر کیا کرتا ....عفان کی حالت خراب ہوۓ جارہی تھی ...یمین نے ادھر ادھر دیکھا ایک سفید داڑھی والے صاحب نظر آئے-"ایک آدمی بیمار ہے .ہسپتال لے جانا ہے ایمرجنسی ہے -لوگوں کا اتنا جلوس کس واسطے جمع ہے -"یمین نے پریشانی کی حالت میں پیشانی پر نمودار ہوۓ قطروں کو پونچھا -"ارے بھانجے !بڑ ے انجان بنتے ہو -عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جلوس ہے ناں -"وہ مسکرا کر بولے -"مگر مرے دوست کی حالت بہت خراب ہے ...""انتظار کرلو -"بڑے میاں نے اپنا رومال کندھے سے لٹکاتے ہوۓ کہا -"ہم انتظار نہیں کر سکتے نا....مجبوری سمجھیں ہماری ""تو مت کرو "وہ غصے سے آگے چل دیےیمین بوجھل قدم اٹھاتے دوبارہ گاڑی میں آیا -اسے سمجھ ہی نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے ...؟؟عفان کی حالت قابل رحم تھی -یمین نے گاڑی پچھلی سڑک پر موڑی ،سڑک صاف تھی مگر آگے پھر جلوس !.....نماز قضاء ہونے کو تھی -عفان شدید بیمار ہوگیا تھا ....بلآخر یمین ،عفان کو سہارا دیکر آہستہ آہستہ چلا نے لگا کہ پیدل ہی ہسپتال چلتے ہیں مگر عفان بیچارے کا پاؤں پہلے ہی زخمی تھا ،اوپر سے حالت خراب ....وہ کیسے چلتا ....دھڑام کی آواز آئی اور عفان نیچے گرگیا ....یمین کی چیخ نکل گئی -دو چار نوجوان بھاگ کر آئے -انہوں نے ایمبولینس منگوائی ....مگر ایمبولینس کہاں سے آتی ....رستہ تو مکمل بلاک تھا -خیر ڈیڑھ گھنٹے تک جلوس ذرا کم ہوا تو لوگ اسکو اٹھا کر ہسپتال لے جانے لگے -یمین بھی پیچھے پیچھے آیا -عصر قضاء ہوچکی تھی -آدھ گھنٹہ مزید سڑ ک پار کرنے میں لگ گیا -عفان بے ہوش ہوچکا تھا -ڈاکٹر نے بتایا اسکی حالت خطرے میں ہے -معاملہ بگڑ چکا ہے -یمین نم آنکھوں سے دعا کرنے لگا -کچھ دیر بعد نرس نے خبر دی کہ حالت اب خطرے سے باہر ہے مگر علاج میں کافی وقت لگے گا -یمین قضاء نماز کی ادائیگی کے لئے ہسپتال کے باتھ روم سے وضو کر آیا -وہ سوچ رہا تھا کہ کیا یہ خاتم النبیین و خاتم المعصومین حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت ہے ؟؟کیا محبت کا اظہار اسطرح کیا جاتا ہے کہ لوگوں کو اذیت دی جاۓ ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تو راستہ پر بیٹھنے منع فرمایا ،تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یہ تو ہماری مجلسیں ہیں جہاں ہم بات چیت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر بیٹھنا ہی ہے تو راستہ کا حق ادا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا راستہ کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :نظر نیچی رکھو، کسی کو تکلیف مت پہنچاؤ (یعنی ایسی حرکت نہ ہو جس سے چلنے والوں کو تکلیف ہو مثلا ، سلام کا جواب دو، اچھائی کا حکم دو اور برائی سے روکو)-راستہ بلاک کرنا جس سے گزرنے والے کو اذیت ہو ،اس سے تو منع فرمایا ہے ۔یہ کیسی محبت ہے کہ جس سے محبت کا دعوی کیا جارہا ہے اس کے ارشادات پر عمل ہی نہیں -کیا یہ سچی محبت ہے ؟؟-ہرگز نہیں !!-