❤حافظ محمد عبدالله ❤
رجسٹرڈ ممبر
*کیا سیدہ فاطمہؓ سیدنا ابوبکرؓ سے ناراض تھیں؟؟*
حضور اقدسﷺ کے وصال کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیقؓ نے خلافت سنبھالی تو سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے پاس پیغام بھیجا (خود ہرگز نہیں گئیں۔ جو کہتے ہیں کہ دربار میں کھڑی رہیں اور کئی گھنٹے انتظار کیا وغیرہ،، یہ سب جھوٹ ہے۔ مسجد نبوی ہی تھی جہاں سب معاملات سلجھائے جاتے تھے۔ وہاں کون سا دربار تھا؟؟) کہ وہ آپ سے حضور اقدسﷺ کی وراثت کے لیے کہیں حضرت ابوبکر صدیقؓ نے قاصد کو بتایا کہ حضور اقدسﷺ کا ارشاد ہے کہ انبیاء کرام علیہم السلام کی میراث مال میں نہیں چلتی وہ جو کچھ بھی چھوڑ جاتے ہیں سب کا سب صدقہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب حضرت فاطمہؓ کو یہ بات معلوم ہو گئی تو پھر آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے اس فدک کے بارے میں کوئی بات نہ کی۔ یہاں تک کہ آپؓ کا انتقال ہو گیا۔
خاتم النّبییّن حضور اقدسﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو یہاں یہود کی ایک بڑی تعداد موجود تھی اور ان کے اپنے باغات اور زمینیں تھیں۔ اللّہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو قوّت و شوکت عطا فرمائی اور آس پاس کے علاقے ایک کے بعد دوسرا مسلمانوں کے قبضے میں آتے گئے۔ جب بنو نضیر، بنو قریظہ اور خیبر کے بعض قبائل نے مسلمانوں کا رعب و جلال دیکھا تو انہوں نے بغیر کسی لڑائی کے اپنی زمینیں مسلمانوں کے حوالے کر دیں ان میں فدک نامی جگہ بھی تھی حضورﷺ نے یہ زمینیں اپنی تحویل (قبضے) میں لے لیں۔ یہ مال فئی تھا۔
"تہذیب الاحکام میں جناب باقر علیہ السلام اور جناب امام جعفر علیہ السلام سے فئی کے بارے میں منقول ہے کہ جو زمین اس طرح ہاتھ آئے کہ اس میں خون نہ بہایا گیا ہو (اور نہ ہی جہاد کی نیت سے گھوڑے دوڑائے گئے ہوں) بلکہ کسی قوم سے مصالحت کی گئی ہو اور انہوں نے اپنے ہاتھوں سے کچھ دیا ہو اور جو زمین غیر آباد پڑی ہو یا پانی کی تہہ میں ہو یا پانی کے راستے میں ہو، یہ سب کی سب فٸ میں داخل ہے"
*نوٹ* یہی بات شیعہ کتاب تفسیر صافی جلد 1 صفحہ 636 اور دوسری کتب شیعہ میں بھی موجود ہے۔ پیش نظر رہے کہ فدک مال فٸ میں سے تھا یہ ایک گاؤں تھا جو مدینہ منورہ سے تین منزل کے فاصلے پر تھا جس میں پانی کا چشمہ اور کچھ کھجور کے درخت تھے اور یہ بغیر کسی جنگ کے فئی کے طور پر حضورﷺ کے قبضے میں آیا تھا اور خود علماء شیعہ بھی یہ تسلیم کرتے ہیں کہ فدک اموال فئی میں سے تھا۔ یعنی اس (فدک) کے حق دار 8 قسم کے لوگ تھے۔
نہج البلاغہ کا شارح سیّد علی نقی لکھتا ہے۔
اہل فدک نصف آراں بقولے تمام را بصلح وآشتی تسلیم نمودند
فدک کے لوگوں نے اس کا نصف حصہ یا ایک قول کے مطابق تمام فدک بغیر کسی لڑائی کے حضور اقدسﷺ کے سپرد کر دیا۔
صاحب در نجفیہ لکھتا ہے کہ ایک روایت کے مطابق باغ فدک میں کھجور کے کل 11 درخت تھے جو حضور اقدس ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک سے لگائے تھے
انہ کان فیہا احدی عشر نخلة غرسھا رسول اللہﷺ بیدہ
*شیعہ کتابوں میں فدک کا کل رقبہ کتنا دکھایا گیا ہے اسے بھی دیکھتے جائیے!*
شیعہ مذہب کا سب سے بڑا عالم ملا محمّد بن یعقوب روایت کرتا ہے کہ جب خلیفہ مہدی نے حضرت موسیٰ کاظم سے پوچھا کہ فدک کا کل رقبہ کیا تھا اس کا حدود أربعہ تو بتائیں آپ نے اس کے جواب میں کہا:
حد منھا جبل احد وحد منھا عریش مصر وحد منھا سیف البحر وحد منھا دومۃ الجندل فقال لہ کل ھذا قال نعم یا امیر المؤمنین ھذا کلہ إن ھذا کلہ مما لم یوجف علی أھلہ رسول اللہ ﷺ یخیل ولا رکاب۔
*ترجمہ* اس کا حدود أربعہ یہ ہے کہ ایک طرف جبل احد، دوسری طرف عریش مصر، تیسری سیف البحر اور چوتھی دومۃ الجندل۔ اس نے کہا کہ یہ ہے کل علاقہ؟ فرمایا ہاں اس علاقہ پر لڑائی نہیں ہوئی۔
معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسٰی کاظمؒ کو خود پتہ نہ تھا کہ فدک کس چیز کا نام ہے اور اس کا حدود أربعہ کیا ہے۔ کسی نے ان سے کہہ دیا کہ آپ تو آدھی دنیا کے مالک ہیں اور آپ اس کو سچ سمجھ بیٹھے اور خلیفہ مہدی سے آدھی دنیا کا مطالبہ کر دیا۔
(استغفر اللہ)
شیعہ عالم باقر مجلسی حضرت جعفر رحمہ اللّٰہ کے حوالے سے لکھتا ہے کہ۔
حضور اقدسﷺ نے کہا کہ جبرائیل علیہ السلام نے فدک کے حدود بتانے کے لیے اپنے پروں سے ایک لائن کھینچی اور مجھے حکم دیا کہ یہ سلطنت تمہارے (یعنی حضرت فاطمہؓ کے) حوالے کر دوں۔
اسی مضمون کی ایک اور روایت شیعہ عالم باقر مجلسی نے نقل کی ہے کہ اس میں فدک کی حدود یہ بیان ہوئی ہیں۔
ایک حد( کنارہ) عدن، دوسری سمرقند، تیسری افریقہ، چوتھی سمندر کا کنارہ جو آرمینیا سے ملا ہوا ہے
اسی کتاب کی ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک میں بے شمار قلعے اور اموال تھے اور آخر کار ان قلعوں اور اموال کی چابیاں حضورﷺ کے پاس آگئیں (ایضاً)
ان تمام روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ فدک تقریباً آدھی سے زیادہ دنیا پر محیط تھا اور یہ ایک ایسی سلطنت کا نام تھا جو آرمینیا سے لے کر مصر تک پھیلی ہوئی تھی اس کی ایک حد مدینہ میں احد پہاڑ کو بھی لگتی تھی
یعنی فدک ایک بہت عریض و وسیع سلطنت کا نام ہے جس میں کئی ملک تھے، کئی بڑے بڑے قلعے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے پروں سے اس کی حدود مقرر کی تھیں اور یہ سارا مال و متاع و اسباب جائداد حضورﷺ نے اکیلی حضرت فاطمؓہ کے لیے رکھا تھا۔ حضرت فاطمہؓ ابوبکرؓ سے اسی وسیع سلطنت کا مطالبہ کر رہی تھیں اور بقول شیعہ لمبے چوڑے خطبے دے رہی تھی۔
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
"اس حقیقت کے پیش نظر یہ کہنا درست معلوم ہوتا ہے کہ سیدہ فاطمہؓ نے سیدنا ابوبکرؓ سے جس فدک کا مطالبہ کیا تھا وہ اہل لغت کا خیالی نہیں بلکہ ائمہ معصومین ( شیعہ جن بارہ اماموں کو معصوم مانتے ہیں ان) کا بیان کردہ حقیقی فدک ہی مانگا ہو گا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی سلطنت حجاز کے ایک چھوٹے سے حصّے سے آگے نہیں بڑھی تھی۔ پھر وہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ کیونکر پورا کر سکتے تھے؟ اور سیدہ فاطمہؓ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ جان بوجھ کر سیدنا ابوبکرؓ سے وہ چیز مانگ رہی ہیں جو ان کی قبضے میں نہیں کسی طرح قابل تسلیم نہیں۔ اگر آج کوئی شخص صدر پاکستان سے مطالبہ کرے کہ مجھے افغانستان اور ایران بطور جاگیر دے دیا جائے تو صدر پاکستان بھلا اس کا مطالبہ کیونکر پورا کر سکتے ہیں؟ اس پر اگر وہ شخص روٹھ جائے اور صدرِ پاکستان کو غاصب کہنے لگے تو اس کے متعلق کیا کہا جائے گا؟ اس بنا پر عقل کا یہی فیصلہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ کا مطالبہ محض فرضی قصہ ہے جو لوگ اس مطالبے کو صحیح تصور کرتے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ تاریخ سے یہ ثابت کریں کہ مطالبہ کے وقت یہ علاقے حضرت ابوبکرؓ کے قبضے میں تھے اور اسلامی حدود میں داخل تھے اگر ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو مطالبہ کو فرضی قصہ اور جعلی داستان کہنا پڑے گا"
یہ آٹھ مصارف (حقدار) ہیں جن کا ذکر سورۂ حشر کی آیت نمبر 7۔8۔ 9 میں موجود ہے۔
اور وہ یہ ہیں
*1* اللہ کے نام پر۔
*2* رسول اللہﷺ کے لیے۔
*3* رسولﷺ کے قرابت داروں کے لیے۔
*4* یتیموں۔
*5* مسکینوں۔
*6* مسافروں۔
*7* مہاجرین۔
*8* انصار کیلئے۔
شیعہ عالم محمد بن مرتضٰی المعروف فیض کاشانی نے حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کے حوالے سے اموال فئی کے متعلق نقل کیا ہے کہ۔۔۔۔۔۔
ھی للّہ وللرسول علیہ السلام ولمن قام مقامہ بعدہ
یہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کا حق ہے اور جو رسولﷺ کے بعد اس کا قائم اور جانشین بنے اس کا حق ہے۔
اس قسم کی باتوں سے حضرت فاطمہؓ کی عزت ہوتی ہے یا آپؓ کے بارے میں کوئی اور تصور پیدا ہوتا ہے اس پر شیعہ عوام بھی کبھی غور کر لیا کریں۔
حضورﷺ اس آیت کی روشنی میں اس کی آمدنی اپنے اہل و عیال اور قرآن کے بیان کردہ دوسرے مصارف پر خرچ کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عباسؓ سے یہ بات کہی بھی تھی اور ان دونوں بزرگوں نے اس کا کبھی انکار نہیں کیا۔۔۔۔۔۔
فکان النبیﷺ ینفق علی أھلہ من ھذا المال نفقۃ سنة ثم یاخذ مابقی فیجعلہ مجعل مال اللہ فعمل بذلک رسول اللہ ﷺ فی حیاتہ
حضورﷺ اس مال سے اپنے گھر والوں کا سالانہ خرچ نکالتے تھے اور باقی مال کو اللہ تعالٰی کی بتائی گئی جگہوں پر خرچ کر دیتے تھے۔ حضورﷺ نے اپنی زندگی میں اس پر عمل کیا تھا۔
مٶرخ احمد بن یحیی بلاذری (279ھ)لکھتے ہیں۔
فکان نصف فدک خالصا لرسول اللہﷺ وکان یصرف ما یأتیہ منھا إلی أبناء السبیل وفی روایة أن فدک کانت للنبیﷺ فکان ینفق منھا ویاکل ویعود علی فقراء بنی ھاشم ویزوّج إلیھم
ترجمہ: آدھا فدک خالص حضورﷺ کے قبضے میں تھا۔ اس سے جو آمدنی آتی اسے مسافروں پر خرچ کر دیتے تھے ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ اس سے خود بھی خرچ کرتے تھے اس میں سے اپنے کھانے کے لیے لے لیتے اس میں سے بنی ہاشم کے فقراء کو دیتے اور ان کی شادیاں کراتے تھے۔