فریحہ کومل
رجسٹرڈ ممبر
جانے کب مل پائیں گے وقت کے دھارے
میں واصفِ بِسمل ہوں وہ فطرتِ بیگانہ
اے جنوں دے مجھے کوئی درسِ سفر
میں پانا چاہوں نئی سرزمیں کا آب و دانہ
پر کھولتے ہی پھڑپھڑا کے گر پڑتا ہے
زنجیر تو نہیں ہے مگر وہ عادتِ زندانہ
اقبال کے ساتھ ہی دفن ہو گئے شاہین
کھو گئی ہیں شمشیریں وہ نگاہیں عقابانہ
اپنےاَصلاف کی ناموس کو پیروں میں روند کر
بہت خوش ہیں پہن کر یہ طوق غلامانہ
علومِ قرآن ترک کیے، اصل دین کھو دیا
فرقوں میں بٹ گئے، بنے غیر کا نشانہ
جنہیں مجھ میں دکھائی دی تھی خامیاں کئی
میرے حامیوں میں سر فہرست آپ وہی ہیں غالبانہ
جب طالب کو نہ رہی علم کی طلب
بڑی تیزی سے کھو گئے لہجے مُشفکانہ
پیرہن پرایا، اُکھڑا لہجہ،اندازِبیاں فرنگی
مشرقی بیٹی کو راس نہیں یہ ماحول آزادانہ
کلمہ گو ہو کے بھی خون کے پیاسے ہو
چھوڑ دو قتل زنی یہ انتقام ظالمانہ
خود مومن سے وہ ڈرتا ہے لڑ نہیں سکتا
لڑا دو اِن بھائیوں کو ہے یہ چال کافرانہ
کومل بلوچView attachment 14
میں واصفِ بِسمل ہوں وہ فطرتِ بیگانہ
اے جنوں دے مجھے کوئی درسِ سفر
میں پانا چاہوں نئی سرزمیں کا آب و دانہ
پر کھولتے ہی پھڑپھڑا کے گر پڑتا ہے
زنجیر تو نہیں ہے مگر وہ عادتِ زندانہ
اقبال کے ساتھ ہی دفن ہو گئے شاہین
کھو گئی ہیں شمشیریں وہ نگاہیں عقابانہ
اپنےاَصلاف کی ناموس کو پیروں میں روند کر
بہت خوش ہیں پہن کر یہ طوق غلامانہ
علومِ قرآن ترک کیے، اصل دین کھو دیا
فرقوں میں بٹ گئے، بنے غیر کا نشانہ
جنہیں مجھ میں دکھائی دی تھی خامیاں کئی
میرے حامیوں میں سر فہرست آپ وہی ہیں غالبانہ
جب طالب کو نہ رہی علم کی طلب
بڑی تیزی سے کھو گئے لہجے مُشفکانہ
پیرہن پرایا، اُکھڑا لہجہ،اندازِبیاں فرنگی
مشرقی بیٹی کو راس نہیں یہ ماحول آزادانہ
کلمہ گو ہو کے بھی خون کے پیاسے ہو
چھوڑ دو قتل زنی یہ انتقام ظالمانہ
خود مومن سے وہ ڈرتا ہے لڑ نہیں سکتا
لڑا دو اِن بھائیوں کو ہے یہ چال کافرانہ
کومل بلوچView attachment 14