السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی آفیشل موبائل ایپلیکیشن لانچ کردی گئی ہے ، ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں
  غیر رجسٹرڈ ممبرز کو ویب سائٹ تک رسائی محدود ہے

صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ اور اس کے متعلقہ مسائل

مجلس علمی آفیشل 

انتظامیہ
خادم
رجسٹرڈ ممبر
صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ اور اس کے متعلقہ مسائل

صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت
​

یہ ایک خاص نماز ہے جو نبی اکرم نے اپنے چچا جان سیدنا حضرت عباس بن عبد المطلب اوربعض دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہت اہتمام سے سکھلائی تھی، اور فرمایا تھا کہ یہ نماز ہر طرح کے چھوٹے بڑے، دانستہ یا نادانستہ، پوشیدہ اور علانیہ گناہوں سے مغفرت اور مشکلات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہے، نیز تاکید فرمائی تھی کہ اگر ممکن ہو تو روزانہ، ورنہ ہفتہ میں، ورنہ مہینہ میں، ورنہ سال میں، اور یہ بھی نہ ہوسکے توعمر بھر میں ایک مرتبہ تو ضرور ہی پڑھ لینا۔ (ابوداؤد شریف حدیث: 1297)

صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ

🔰اس نماز کے پڑھنے کے دو طریقے احادیث سے ثابت ہیں :

1️⃣ پہلا طریقہ چار کعت کی نیت کی جائے اور الحمد و سورۃ کے بعد رکوع سے پہلے پندرہ مرتبہ یہ کلمات سبحان ﷲ والحمد ﷲ ولا الہ الا ﷲ ﷲ اکبر ، پڑھیں اور بعض روایت کے موافق ولا حول ولا قوۃ الا با ﷲ العلی العظیم ۔بھی ملا لینا چاہئے ۔ پھر رکوع میں رکوع کی تسبیح کے بعد وہی کلمات دس ۔10مرتبہ ، پھر رکوع سے اٹھ کر قومہ میں دس مرتبہ پھر سجدہ میں سجدہ کی تسبیح کے بعد دس مرتبہ پھر سجدہ سے اٹھ کر جلسہ میں دس مرتبہ پھر دوسرے سجدہ میں سجدہ کی تسبیح کے بعد دس مرتبہ ،پھر دوسرے سجدہ سے اٹھ کر بیٹھ جائیں اور دس مرتبہ پڑھیں ۔
اس طرح ہر رکعت میں پچھتر 75تسبیح ہوئیں، اسی طرح باقی رکعتوں میں پڑھیں پہلے اور دوسرے قعدہ میں التحیات سے پہلے تسبیح پڑھی جائے اس طرح کل تسبیحات تین سو ہوجائے گی ۔

2️⃣دوسرا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں ثناء (سبحانک اللّٰھم الخ ) پڑھنے کے بعد قراء ت سے پہلے پندرہ مرتبہ یہ کلمات پڑھے ۔ پھر قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے دس مرتبہ ، پھر رکوع میں (رکوع کی تسبیح کے بعد)دس مرتبہ ،پھر رکوع سے اٹھ کر (قومہ) میں دس مرتبہ، پھر سجدہ میں (سجدہ کی تسبیح کے بعد ) دس مرتبہ پڑھے ۔
اس دوسری ترتیب میں دوسرے سجدہ کے بعد تسبیح پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس طرح ایک رکعت میں پچھتر75 تسبیح کا عدد پورا ہوجائے گا۔ اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو، تو پہلے پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے پھر قرأت کے بعد رکوع سے پہلے دس مرتبہ اس طرح چار رکعتیں پوری کرے۔
ان دونوں طریقوں میں سے جو آسان لگے اس کو اختیار کیا جائے ۔ اور یہ بھی مناسب ہے کہ کبھی اس طریقہ سے اور کبھی اس طریقہ سے پڑھا جائے کیونکہ دونوں صورتیں روایات حدیث اور تعامل سلف سے منقول و ماثور ہیں.(شامی27/2٫فتاوی رحیمیہ215/5)

صلوٰۃ التسبیح میں کونسی سورت پڑھی جائے؟

🔰 صلوٰۃ التسبیح میں قراءت فاتحہ کے بعد اختیار ہے کہ جو سورت بھی چاہے پڑھے ۔ بعض روایات میں سورۂ ا ذا زلزلت اور عادیات اور اذا جآء نصر ﷲ اور قل ھو ﷲ احد منقول ہے ۔ اور بعض روایات میں الھٰکم التکاثر، سورۂ عصر ، سورۂ کافرون، اور سورۂ اخلاص (قل ھو ﷲ )وارد ہوا ہے ۔اور بعض علماء نے تسبیح سے مناسبت کی وجہ سے ایسی سورتوں کا پڑھنا افضل قرار دیا ہے جن کی ابتداء میں تسبیح کا ذکر ہے۔ جیسے: سورۂ حدید، سورۂ حشر، سورۂ صف، سورۂ جمعہ اور سورۂ تغابن وغیرہ(شامی27/2،فتاوی رحیمیہ215/5)

تسبیحات کی گنتی کیسے کرے؟

🔰صلاۃ التسبیح کی گنتی کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ انگلیاں حسبِ معمول اپنی جگہ پر رکھی رہیں اورہر تسبیح پر ایک ایک انگلی اسی جگہ دباتے رہیں، اور تسبیح ہاتھ میں لے کر یا انگلیاں باقاعدہ بند کرکے گننا اگرچہ مفسد صلاۃ نہیں؛ لیکن مکروہ ہے، اور اگر زبان سے گنتی کی تو نماز ہی فاسد ہوجائے گی۔(کتاب المسائل501/1)

تسبیح میں کمی ہوگئی، توکیا کرے

🔰اگر کسی رکن میں تسبیح بھول جائے یاکمی بیشی ہوجائے تو سجدۂ سہو کی ضرورت نہیں ۔چھوٹی ہوئی تسبیح دوسرے رکن میں پڑھے، لیکن رکوع میں اگر تسبیح رہ گئی ہے تو قومہ میں نہ پڑھے بلکہ پہلے سجدہ میں پڑھے ،اسی طرح سجدہ کی فوت شدہ تسبیح جلسہ میں نہیں بلکہ دوسرے سجدہ میں پڑھے، کیونکہ قومہ اور جلسہ مختصر رکن ہیں ان میں پڑھے گا تو طوالت ہوجائے گی جو ان کی وضع کے خلاف ہے.(شامی27/2،فتاوی رحیمیہ، 216/5کتاب المسائل501/1,نجم الفتاوی422/2)

صلوٰۃالتسبیح کے سجدۂ سہو میں تسبیحات نہ پڑھیں

🔰اگر صلاۃ التسبیح میں سجدۂ سہو کی ضرورت پیش آجائے اور تسبیحات کی مقدار پوری ہوچکی ہو تو اس میں تسبیح کے کلمات نہیں پڑھے جائیںگے؛ البتہ اگر کسی سابقہ رکن میں تسبیح میں کمی رہ گئی ہو تو اسے سجدۂ سہو میں پورا کرسکتے ہیں۔(فتاوی رحیمیہ216/5)

صلوۃ التسبیح دو دو رکعت کرکے پڑھنا

🔰جس طرح صلوٰۃ التسبیح کی چار رکعت ایک سلام سے ادا کرنا جائز ہے، اسی طرح دو سلاموں کے ساتھ اداء کرنا بھی جائز اور درست ہے؛ تاہم بہتر یہی ہے کہ ایک سلام سے چار رکعتیں پڑھیں؛ تاکہ تسبیح کی مقررہ مقدار(300) پوری ہوجائے، اور اگر دو دو رکعت کرکے پڑھیں پھربھی مذکورہ مقدار پوری کرنے کا لحاظ رکھنا چاہئے۔(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند230/4)

صلوٰۃ التسبیح کی جماعت کا حکم

❓سوال: صلوٰۃ التسبیح شعبان کی پندرھویں کو باجماعت پڑھنے کا ہمارا ارادہ ہو رہا ہے، یہ صحیح ہے یا نہیں؟

🔰جواب: صلوٰۃ التسبیح نفلی نماز ہے ،اور اس کی جماعت حنفیہ کے مسلک میں مکروہ تحریمی ہے،لہٰذا یہ نماز تنہا پڑھنی چاہئے۔ واللہ سبحانہ اعلم(فتاوی عثمانی438/1)

صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا وقت

🔰اس نماز کا کوئی وقت معین نہیں ہے ۔ اوقات مکروہہ کے علاوہ باقی دن رات کے تمام اوقات میں پڑھنا جائز ہے ۔البتہ زوال کے بعد پڑھنا زیادہ بہتر ہے ۔ پھر دن میں کسی وقت پھر رات میں ۔(فتاوی رحیمیہ215/5)
 
Top