صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا طریقہ اور اس کے متعلقہ مسائل
صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت
صلوٰۃ التسبیح کی فضیلت
یہ ایک خاص نماز ہے جو نبی اکرم نے اپنے چچا جان سیدنا حضرت عباس بن عبد المطلب اوربعض دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو بہت اہتمام سے سکھلائی تھی، اور فرمایا تھا کہ یہ نماز ہر طرح کے چھوٹے بڑے، دانستہ یا نادانستہ، پوشیدہ اور علانیہ گناہوں سے مغفرت اور مشکلات کے حل کا مؤثر ذریعہ ہے، نیز تاکید فرمائی تھی کہ اگر ممکن ہو تو روزانہ، ورنہ ہفتہ میں، ورنہ مہینہ میں، ورنہ سال میں، اور یہ بھی نہ ہوسکے توعمر بھر میں ایک مرتبہ تو ضرور ہی پڑھ لینا۔ (ابوداؤد شریف حدیث: 1297)
صلوٰۃ التسبیح کا طریقہ
اس طرح ہر رکعت میں پچھتر 75تسبیح ہوئیں، اسی طرح باقی رکعتوں میں پڑھیں پہلے اور دوسرے قعدہ میں التحیات سے پہلے تسبیح پڑھی جائے اس طرح کل تسبیحات تین سو ہوجائے گی ۔
اس دوسری ترتیب میں دوسرے سجدہ کے بعد تسبیح پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے ، اس طرح ایک رکعت میں پچھتر75 تسبیح کا عدد پورا ہوجائے گا۔ اور جب دوسری رکعت کے لئے کھڑا ہو، تو پہلے پندرہ مرتبہ یہ تسبیح پڑھے پھر قرأت کے بعد رکوع سے پہلے دس مرتبہ اس طرح چار رکعتیں پوری کرے۔
ان دونوں طریقوں میں سے جو آسان لگے اس کو اختیار کیا جائے ۔ اور یہ بھی مناسب ہے کہ کبھی اس طریقہ سے اور کبھی اس طریقہ سے پڑھا جائے کیونکہ دونوں صورتیں روایات حدیث اور تعامل سلف سے منقول و ماثور ہیں.(شامی27/2٫فتاوی رحیمیہ215/5)
صلوٰۃ التسبیح میں کونسی سورت پڑھی جائے؟
تسبیحات کی گنتی کیسے کرے؟
تسبیح میں کمی ہوگئی، توکیا کرے
صلوٰۃالتسبیح کے سجدۂ سہو میں تسبیحات نہ پڑھیں
صلوۃ التسبیح دو دو رکعت کرکے پڑھنا
صلوٰۃ التسبیح کی جماعت کا حکم
صلوٰۃ التسبیح پڑھنے کا وقت