السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی آفیشل موبائل ایپلیکیشن لانچ کردی گئی ہے ، ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں
  غیر رجسٹرڈ ممبرز کو ویب سائٹ تک رسائی محدود ہے

ایک درد بھری تحریر......

......(یہ ایک نوحہ ہے جو مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر فی البدیہہ لکھا گیا.....) نماز ظہر کا وقت تنگ جارہا تھا-قریب ہی معروف نامی ہسپتال(ایف-ٹن،اسلام آباد ) موجود تھا-وہاں خواتین کی نماز پڑھنے کی وسیع جگہ ہوتی ہے لہذا سوچا کہ وہاں نماز پڑھ لیں گے-وضو کرنے کے بعد سیکنڈ فلور پر گئے کہ یاد تھا کہ یہیں نماز کی جگہ ہوتی ہے-سب کچھ باقاعدہ صفیں،قرآن کریم......خیر،جب گئے تو نامز کی جگہ ندراد!سوچا کہ کہیں اور شفٹ ہوگئی ہوگی،بھاگم بھاگ سرے فلور چیک کرلیے مگر نہیں!!خیر ریسپشن پر ایک لیڈی ڈاکٹر تھیں،ان سے استفسار کے تو کہنے لگیں کہ یہاں نماز کی جگہ ختم کر دی ہے.....سکتہ کی سی حالت طاری ہوگئی کہ مسلمانوں کے لیے یہ ممکن ہے!!!غصے و افسوس سے لرزتی آواز میں پوچھا کہ تو کے آپ لوگ نماز نہیں پڑھتیں تو مسکراتے ہوئے کہتی ہیں"نہیں"!!..............جی ہاں!قارئین کرام!یہ سو فیصد سچا واقعہ ہے جو کل ہی ہمارے ساتھ پیش آیا-کسی کام سے بازار جانا ہوا،اسلام ابد کا مشھور بازار ایف -ٹن،تو سب گھر والوں کی نماز ظہر ہوچکی تھی،میری رہ گئی تھی،چونکہ مجھے مدرسے سے چھٹی پر پک کیا تھا تو میں سبق سنانے کی وجہ سے ننماز نہ پڑھ چکی تھی،وقت جلدی گزرتا ہے تو وقت تنگ ہوتا چلا گیا....ظہر قضاء ہونے میں آدھ گھنٹہ رہ گیا،بابا جتنی تیز گاڑی دوڑا سکتے تھے،دوڑائی ہسپتال کی طرف کہ نماز نہ نکلے.....وضو کے بعد اوپر آئے تو نامز کی جگہ ہی نہیں،ایک ڈاکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ جگہ ختم کردی گئی ہے،اماں نے خاصے غصے سے پوچھا کہ آپ نماز انہیں پڑھتیں،ایک کہتی ہیں کہ نہیں،اور دوسری کہتی ہیں کہ جس نے اگر پڑھنی ہو،تو اپنے روم میں ہی پڑھ لیتا ہے!........یہ ہیں آج کی صدی کے مسلمان!نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی جو آخری وقت تک "الصلاه الصلاه "فرماتے رہے تھے....آج امتی نے اسے معاذ اللہ اس قدر بے وقعت محسوس کیا کہ اپنی زندگی سے ہی نکال کر پھنک دیا!بات ابھی ختم نہیں ہوئی،بلکہ اصل المیہ تو اب شروع ہورہا ہے،اماں نے ڈاکٹر سے ریکویسٹ کی کہ نماز کا وقت نکل رہا ہے آپ کہیں جائے نماز بچھا کر انتظام کردیں تو کہتی ہیں کہ نہیں ہوسکتا،ہمیں اجازت نہیں،بہت سی ڈاکٹرز سے بات کی،ایک اپنے چہرے پر بڑی مسکنت اور بے بسی سجا کر کہتی ہے"میڈم!اگر مرے بس میں ہوتا تو ضرور آپ کو ارینج کر دیتی مگر کیا کریں!ہمیں یھاں جائے نماز بچھا کر دینے کو پرمیشن ہی نہیں ہے!!"ہسپتال سے ہر کسی سے کہتے مایوس ہو کر نکلے تو نماز کا وقت ختم ہوچکا تھا......کس قدر تاسف کی بات ہے...جتنا افسوس کے جائے کم ہے.....یہ میں یورپ کی بات نہیں کر رہی،برطانیہ انگلینڈ کی بات نہیں کر رہی،بلکہ اپنے ہی پاکستان کا آنکھوں دیکھا حال بتا رہی ہوں،وہی پاکستان جس کی بنیاد ہی دین اسلام تھا !ایسے حالات تو کفرستان میں ہوتے ہیں،پاکستان من ایسا واقعہ کہ نماز کی جگہ کو معاذ اللہ ختم کردیا....سچ میں سینہ بہت چھلنی ہوا......مطلب یہ کہ ہم کس قدت گر چکے ہیں....نماز جو دین کا ستون ہے،اس ستون کو آج ہم نے منہدم کردیا.....نماز!جس کے بغیر دین اسلام ہی نا مکمل،اور وہ ننماز کے سب سے پہلے روز قیامت اس کا سوال ہوگا،اگر وہ صحیح نکلی،تو باقی اعمال صحیح ہونگے ورنہ نہیں....اس قدر اہمیت والی چیز کو آج ہم نے فراموش کردیا!!انا للہ و انا الیہ راجعون.......ان ڈاکٹروں سے زیادہ افسوس ان پر ہے جنہوں نے نامز کی جگہ مسجد کو ختم کرادیا....ایسی جگہ برکت کیا ہوگی...کہاں سے اللہ کی رحمتیں ہوں گی...ہسپتال تو ایسی جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ اللہ کے آگے گڑگڑانا ضروری ہوتا ہے....وہاں مسجد ختم کردی......اور کسی کو فکر بھی نہیں......اچھا خیر جتنے غم کا اظہار کروں غم ہے،ابھی ایک اور منظر ملاحظہفرمائیے.....ایسا دردناک منظر ہے کہ کائنات نے نہ دیکھا ہوگا،نا ہی تا قیامت دیکھے گی....مدنی چاند غروب ہورہا ہے....آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت،آخری لمحات ہیں....اور اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو بول دہرائے جارہے ہیں...دہرائے جارہے ہیں....الصلاه،الصلاه،الصلاه....وما ملکت ایمانکم.....میری امت نماز نہ چھوڑنا......نماز نہ چھوڑنا،نماز نہ چھوڑنا....اور اپنے ماتحتوں سے اچھا سلوک کرنا....آخری پیغام...نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا امت کے لیے آخری نصیحت.......اندازہ کیجیے.....ذرا تصور کیجیے کہ جانکنی کا وقت ہے،تکلیف میں ہیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور زبان مبارک پر یہی ہے،حتی کہ یہ بات فرماتے فرماتے جب آواز مبارک کمزور ہوگئی،ہاتھ مبارک ڈھلک گے تب تک برابر یہی فرماتے رہے...... نماز نہ چھوڑنا،بھول نہ جانا،فراموش نہ کرنا،دیکھو دنیوی رنگینیاں تمہیں نماز نہ بھلادیں.......پھر فرمایا اللھم الرفیق الاعلی.....اور مدنی چاند غروب ہوگیا.....!قارئین کرام!یہ لکھتے ہوئے میرا قلم لرز رہا ہے،جذبات ساتھ چھوڑ رہے ہیں کہ آہ ہ ہ ہ!!!!!آج اسی امت نے رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نصیحت کو بھلادیا ہے.......جو نبی روح نکلنے تک الصلاه فرماتا رہا،آج اس کی امت ہسپتالوں سے مسجد ختم کر رہی ہے.......ایسا کریم نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو ساری ساری رات ہمارے لئے امتی امتی کہتا روتا رہا تھا،جو معراج کی رات بھی ہمارے لیے دعا گو تھا،جو آخری وقت بھی جبریل سے کہہ رہا تھا کہ جاؤ اللہ سےپوچھ کر آؤ مرے بعد میری امت سے کیا معاملہ کرے گا،جبرئیل نے آکر جواب دیا کہ وہ فرمارہے ہیں اللہ اپ کی امت کو نہیں چھوڑے گا،خدا کی قسم ،ہزار بار قسم کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ کراتے تو آج نماز چھوڑنے والا،گناہ کرنے والے سور بندر بن گئے ہوتے.....ایسے رحیم شفیق پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری نصیحت،احسانات کو امت نے بھلا دیا،جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم امت کو آخری وقت تک یاد کرتا رہا،آج امت نے اس کے آخری پیغام کو زندگی سے نکال پر پس پشت ڈال دیا......اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہے،؟غم دکھ کیا ہے؟اس سے بڑھ کر دل پر خنجر کا وار کے ہوسکتا ہے؟؟میں نے چند ٹوٹی پھوٹی سطریں لکھ دیں اس غم کی حالت میں.....جتنا لکھوں کم ہے،بس اتنا کہتی ہوں آج کے مسلمان کے لئے"یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود!!"....آخری بات یہ عرض ہے ،اسی کے لئے اصل میں قلم اٹھایا تھا،مگر تحریر طوالت پکڑ گئی،تو اصل بات یہ تھی کہ اس "معروف"نامی ہسپتال کا بائیکاٹ کریں- جن کے نزدیک نماز کی کوئی اہمیت ہی نہیں،اتنی غیرت نہیں،شرم حیا،نہیں،جو ہسپتال سے نماز کی جگہ ختم کر دیتے ہیں،ایسے لوگوں کا بائیکاٹ کرنا میری اور آپ کی ایمانی ذمہ داری اور ایمانی غیرت ہے....ان شاء اللہ آئندہ ہم وہاں نہیں جایئں گے گو کہ وہاں سب سے زیادہ جاتے رہیں ہیں،مگر اب نہیں،اس کے علاوہ بھی ہسپتال موجود ہیں....سو آپ سے بھی درخواست ہے کہ ان کا بائیکاٹ کریں- ایمانی جذبہ ہونا چاہیے....آپ بھی یقینا اس عبات سے اتفاق کریں گے.....وما علینا الا البلغ......(اس تحریر سے کسی بھی مسلمان کی حقارت ہرگز ہرگز مقصود نہ تھی،اور اللہ بچاۓ کہ کسی کو حقیر سمجھیں.....بس ایک چیز تھی جو آپ سے بانٹنا تھی ،غم بتانا تھا دل کا....!!")​

 
Top