عورت خدا کی رحمت ہے
عورت خدا کی رحمت ہے...شوہر کی بہترین مونس و غم خوار ہے...بھائی کی اچھی دوست ہے... ماں کی ہم راز ...اور باپ کے چھوٹے سے چھوٹے دکھ پر رودینے والی ہے... اس کی مسکراہٹ والدین کی زندگی... اور اس کی خوشیاں اُن کی سب بڑی تمنا ہیں...اِس کی خدمت کرنے میں اولاد کی جنت ہے... یہ شوہر کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے... اس کی آنکھوں میں ہمدردی کا ایک سمندر ہے ...جو خاوند، بھائی، باپ اور بیٹے کے دکھ درد پر آنسو بن کر بہنے کے لیے تیار رہتا ہے... بہت حساس ہے...لیکن مشکل ترین حالات کو ہنس کر جھیل جاتی ہے...بچے کو نو ماہ پیٹ میں اٹھائے رکھنا اور جنم دینا اسی کا کلیجہ ہے۔
اِس کے معصوم قہقہے گھر کی رونق ہیں...یہ اپنی فطری لطافت سے کھانوں میںذائقہ بھرتی ہے...اپنی طبعی نزاکت سے آنگن کی تراش خراش کرتی ہے... اپنی قرینہ سازی سے گھر کے در و دیوارکی آرائش و زیبائش کرتی ہے... اور اپنی سلیقہ مندی اور دقیقہ سنجی سے اینٹ گارے کے مکان کو جنت نظیر بنادیتی ہے...سچ ہے:گھر اس کے بغیر بے رونق ، دنیا اس کے بغیربے نور اور جنت اس کے بغیر نامکمل ہے...
اِنسان کی سب سے پہلی معلمہ ہے...نسلوں کی تعمیر و تربیت اسی کی مرہونِ منت ہے... رومی و غزالی اسی کے پہلو میں پرورش پاکر امام بنے... محمد بن قاسم، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاداور سلطا ن محمد فاتح اسی کی گود میں پَل کر جوان ہوئے...اِسی کا خون ٹیپو سلطان کی رگوں میں شجاعت و بہادری بن کر دوڑا... قائد، اقبال اور عبد القدیر خان کو اسی نے جنم دیا... ایم ایم عالم، راشد منہاس اور حسن صدیقی نے ہوا میں اڑنے سے پہلے اِسی کی انگلی پکڑ کر زمین پے چلنا سیکھااور سب سے بڑھ کر یہ کہ پیغمبر علیہ السلام کی سب سے پہلے ہمت بندھانے اور حوصلہ دینے کا کام بھی عورت ہی نے کیا۔
لیکن افسوس کہ اہل مغرب نے اس کی عظمت کو خاک میں ملا دیا... آزادیٔ نسواں کا نعرہ لگا کر پہلے عورت کو گھر سے نکالا... پھر خود مختاری کا جھانسا دے کر دفاتر، فیکٹریوں،دکانوں اور کارخانوںمیں اس آزاد عورت کواپنا ملازم بنا لیا... اس کی مسکراہٹوں کو خریدا...والدین اور شوہر کی خدمت ...اور بچوں کی پرورش کوقید و بند اور ظلم کا نام دیا...لیکن بسوں، جہازوں اور ٹرینوں میں ہر مسافر کی خدمت کرنا اس پر لازم کردیا... اس طرح اگرچہ انھیں مردوں کی نسبت کم اجرت پر خوبصورت اور نازک اندام ملازم دستیاب ہوگئے... لیکن بیمار معاشرے کی میلی نگاہوں نے اِس گوہرِ آبدار کو داغدار کر دیا... ہوس کے بھیڑیوں نے اسے اپنی ناپاک خواہشات کی بھینٹ چڑھایا...نفسانی خواہشات کے پجاریوں نے اس کی عصمت کو تار تار کیا۔۔۔ اور عورت کو اس کے مقام ِ بلند سے گرا کر... ماں ، بہن، بیٹی اور بیوی جیسے مقدس رشتوں سے بیگانہ کردیا... اور اس کے ارد گرد معاشی مسائل و نفسانی خواہشات کا جال اس طرح بُن دیا... کہ اب اس کے پاس حسرت و افسوس کے سوا کچھ نہیں بچا...پھر پورے سال میں ایک بار 8مارچ کو ’’خواتین کا عالمی ‘‘دن منانے کی روایت جاری کر کے اس کے ساتھ ہمدردی کا ثبوت بھی دے دیا... لیکن حقیقت یہ ہے کہ اہل مغرب کے پاس عورت کو دینے کے لیے کھوکھلے نعروں اور زبانی جمع خرچ سے زیادہ کچھ نہیں ہے...
گذشتہ چند سالوں سے 8 مارچ کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بھی چند خواتین اِس دن کو ’’خواتین کا عالمی دن‘‘ کے طور پر منانے لگی ہیں... ان کے ہاتھوں میں موجود پلے کارڈز پر مردوں کو مخاطب کر کے اس قسم کے جملے لکھے ہوتے ہیں:’’کھانا خود گرم کرلو‘‘ ...’’اپنے برتن آپ دھو لو‘‘ ...’’گھر کی صفائی خود کرو‘‘... وغیرہ وغیرہ...مطالبہ یہ ہوتا ہے کہ انھیں بھی مغربی عورت کی طرح بیرونِ خانہ زندگی میں اپنا کردار ادا کرنے کی آزادی دی جائے...یعنی مغرب کی فریب خوردہ عورت اِس نام نہاد آزاد ی کی حقیقت جان کر... اور زندگی کے تلخ حقائق جھیل کر... اور ناکام ہونے کے بعد...اب جہاں سے واپس آنا چاہتی ہے یہ وہیں جانے پر مصر ہیں...
اگرچہ ہمارا معاشرہ بھی حقوقِ نسواں کے حوالے سے سو فیصد مثالی نہیں ہے... لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان تمام تر خرابیوں کے باوجود... اگر ایک مغربی عورت کو وہ ناقص مقام ہی مل جائے ...جو ہمارے معاشرے میں عام طور پر عورتوں کو حاصل ہے... تو اس کے دل میں کسی جنت کی تمنا باقی نہ رہے...
مجھے اس بات کا دعوی نہیں کہ یہاں عورت کو اس کے تمام جائز حقوق حاصل ہیں... اور نہ ہی میں اس کے حقوق کی بازیابی کے لیے آواز اٹھانے کا مخالف ہوں... لیکن کاش کوئی وراثت اور جائیداد سے محرومی کے خلاف عورت کے حق میں آواز اٹھائے... کاش کوئی ان عورتوں کے ساتھ بھی ہمدردی دکھائے... جو اپنا پیٹ پالنے کے لیے عصمت فروشی پر مجبور ہیں... کاش انھیں اس ذلت کی زندگی سے نکالنے کی کوئی تحریک چلے... کاش انھیں بھی بہن اور بیٹی بناکر باوقار معاشرے کا حصہ بنانے کی رِیت چلے ... اُن ظالم ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈالی جائیں جو مال و دولت کی لالچ میں اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو عمر بھر شادی کے بندھن سے محروم رکھتے ہیں... یا اسے قرآن کے ساتھ بیاہ کر اس کے جذبات اور احساسات کا خون کرتے ہیں... ان کے علاوہ اور بہت سے پہلو ایسے ہیں جن پر عورتوں کے حق میں آواز اٹھانے کی ضرورت ہے...
لیکن یہ بات خاص طور پر یاد رکھنے کی ہے...کہ اسلامی تعلیمات اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ خواتین سے ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے سال میں کسی خاص دن کا انتظار کیا جائے... اور ہاں ایک مسلمان عورت کے لیے خدیجۃ الکبریٰ، عائشہ بنت ابی بکر اور فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم جیسی پاکیزہ و پاک دامن خواتین ہی آئیڈیل ہوسکتی ہیں... مغرب کی آلودہ تہذیب کی ماری عورت تو بیچاری خود مظلوم ہے... اس کی اپنی زندگی قابلِ رحم ہے... وہ نہ کسی کے لیے آئیڈیل بن سکتی ہے اور نہ ہی ایک مسلمان عورت کو اس کی تمنا کرنی چاہیے۔
اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں
نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے
===
مفتی محمد فیصل حمید
آخری بار ترمیم: