جانے کب مل پائیں گے وقت کے دھارے
میں واصفِ بِسمل ہوں وہ فطرتِ بیگانہ
اے جنوں دے مجھے کوئی درسِ سفر
میں پانا چاہوں نئی سرزمیں کا آب و دانہ
پر کھولتے ہی پھڑپھڑا کے گر پڑتا ہے
زنجیر تو نہیں ہے مگر وہ عادتِ زندانہ
اقبال کے ساتھ ہی دفن ہو گئے شاہین
کھو گئی ہیں شمشیریں وہ نگاہیں عقابانہ...