ظفراقبال
رجسٹرڈ ممبر
عرب جن پر اسلام پیش کیا گیا صحرائی مزاج کے حامل تھے۔ نڈر، بے باک، عمل پسند، سخت کوش اور سادہ طرز زندگی کے دلدادہ۔ اگرچہ شعروشاعری میں کمال حاصل تھا تاہم فلسفہ نام کے کسی بھی علم سے ناآشنا تھے۔
جب اسلام عراق، ایران، شام جیسے ذیادہ تہذیب یافتہ علاقوں میں پھیلنا شروع ہوا تو اسلامی عقائد اور احکام پر فلسفیانہ تنقید شروع ہوئی۔ خاص طور پر ان معاملات کو موضوع بحث بنایا گیا جو میری ناقص رائے میں انسان کی موجودہ عقلی صلاحیتوں سے کبھی بھی قطعیت کے ساتھ واضح نہی کیے جا سکتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی اپنی بساط اور فہم کے مطابق ایک مینٹل یا ورکنگ ماڈل بنا لیا جائے جس سے انسان کی عقلی اور روحانی واردات پر استنباط کیا جا سکے۔
مثال ان موضوعات کی یہ ہے کہ اللہ پاک کی ذات اور صفات پر بحث، قرآن مقدس کے الفاظ کی خلقت اور تقدیم پر خیال آرائیاں، روح کے اوصاف اور اجسام سے تعلق پر قیاس، موت کے بعد کا سفر، برزخ، بعث بعدالموت اود سزاوجزا کی حقیقت پر سوالوجواب، ایمان اور عمل کی یگانگیت یا دوئی اور جبروقدر کے مسائل پر چہ میگوئیاں وغیرہ وغیرہ
ان معاملات پر آراء کے اختلاف سے بحث ومباحثہ، کفر کے فتوے، تفرقہ بازی اور معاشرتی تلخیوں میں بے انتہا اضافہ ہوا۔ تزکئہ نفس،عمل اور عبادات پر فوکس متاثر ہوا۔ تاہم کجھ نئے علوم مثلا منطق سے تعارف ہوا اور مسلمانوں نے عقلی دلائل سے اسلام پر اعتراضات کا جواب دینے کے لئے علم الکلام کو ایجاد کیا۔علامہ شبلی کی کتاب جو میں نے چند دن پہلے پوسٹ کی اس علم کی تاریخ اور مباحث کا احاطہ کرتی ہے۔ اس علم کے دو ممتاز علماء میں امام غزالی اور ابن رشد کے نام آتے ہیں۔
امام غزالی نے فلسفہ یا عقلی علوم کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک وہ علوم جو physics سے منسوب ہیں اور دوسرے وہ جو metaphysics سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی صنف کے علوم پر انہے کوئی اعتراض نہی۔ تاہم پورا عقلی زور لگا کر انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ منطق کے پاس جو وسائل ہیں وہ metaphysics
کی گتھیاں سلجھانے کے لئے ناکافی ہیں۔ وحی اور پیغمبر (قرآن اور حدیث) ہی ان مسائل پر حرف آخر ہیں۔ وہ جن الفاظ اور استعارات میں غیب کی باتیں سمجھا دیں وہ عام فہم لوگوں کے لئے کافی ہیں۔ speculative philosophy ادھورا علم ہے اور دین کے مقابلے میں ناقص۔ اس کے استعمال سے غیب کے معاملات میں کوئی اعلی اور حتمی نتیجہ نہی نکالا جا سکتا۔ نہ ہی یہ یقین میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
تزکئہ نفس اور شریعت کی پابندی ہی وہ راستہ (spiritual experience ) فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے یقین میں اضافہ، اللہ پاک کی قربت اور اطمینان قلب حاصل کیا جا سکتا ہے اور عقلی ہیجان اور بےجا تجسس پر قابو پائا جا سکتا ہے۔
ابن رشد سپین کے طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور فلسفے کو دین کی اعلی درجہ کی سمجھ کے لئے لازموملزوم سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک عام آدمی کا یہ فہم ہی نہی کہ قرآن پاک کے اصل معانی تک رسائی کر سکے۔ یہ ملکہ صرف ایک فلاسفر کو ہی حاصل ہے کہ کتاب کے اصلی معانی سمجھ سکے۔آپ نے امام غزالی کے فلاسفرز پر تنقید کے رد میں کتابیں تحریر کی ہیں۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جمہور مسلمانوں نے اس بحث میں امام غزالی کو فتحیاب قرار دیا اور انہیں حجتہ الاسلام کے لقب سے نوازا۔ تاہم ان کے فزکس پر تحقیق کے مثبت رحجان کو ان کے میٹافزکس پر منفی رحجان سے گڈ مڈ کر دیا۔ جس سے مادی علوم پر ریسرچ متاثر ہوئی اور بعد میں آنے والوں نے روحانی تجربات اور صوفی ازم کو تعویز گنڈے، قرین کی شیطانی کرشمہ سازیوں اورایک دوسرے کا تجسس اور رقص وسرود کی محفلوں سے عبارت کر دیا۔ مزاحا کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آدہے لوگ تعویز گنڈہ کرنے والے ہیں۔ آدہے متاثرین میں شامل ہیں۔
جبکہ ابن رشد کو مغرب میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ جس سے بعد میں آنے والوں نے عیسائی دین کے ہر رکن کو عقلیت کے ذریعے explain away کر دیا۔ حتی کہ وضدانیت کوتثلیت سے تبدیل کرنےکے سوا کوئی بنیاد نہ بچی۔ تاہم مادے یعنی فزکس پر تحقیق کو بے پناہ عروج حاصل ہوا اور مغرب کی چکا چوند ترقی کا سبب۔
جب اسلام عراق، ایران، شام جیسے ذیادہ تہذیب یافتہ علاقوں میں پھیلنا شروع ہوا تو اسلامی عقائد اور احکام پر فلسفیانہ تنقید شروع ہوئی۔ خاص طور پر ان معاملات کو موضوع بحث بنایا گیا جو میری ناقص رائے میں انسان کی موجودہ عقلی صلاحیتوں سے کبھی بھی قطعیت کے ساتھ واضح نہی کیے جا سکتے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنی اپنی بساط اور فہم کے مطابق ایک مینٹل یا ورکنگ ماڈل بنا لیا جائے جس سے انسان کی عقلی اور روحانی واردات پر استنباط کیا جا سکے۔
مثال ان موضوعات کی یہ ہے کہ اللہ پاک کی ذات اور صفات پر بحث، قرآن مقدس کے الفاظ کی خلقت اور تقدیم پر خیال آرائیاں، روح کے اوصاف اور اجسام سے تعلق پر قیاس، موت کے بعد کا سفر، برزخ، بعث بعدالموت اود سزاوجزا کی حقیقت پر سوالوجواب، ایمان اور عمل کی یگانگیت یا دوئی اور جبروقدر کے مسائل پر چہ میگوئیاں وغیرہ وغیرہ
ان معاملات پر آراء کے اختلاف سے بحث ومباحثہ، کفر کے فتوے، تفرقہ بازی اور معاشرتی تلخیوں میں بے انتہا اضافہ ہوا۔ تزکئہ نفس،عمل اور عبادات پر فوکس متاثر ہوا۔ تاہم کجھ نئے علوم مثلا منطق سے تعارف ہوا اور مسلمانوں نے عقلی دلائل سے اسلام پر اعتراضات کا جواب دینے کے لئے علم الکلام کو ایجاد کیا۔علامہ شبلی کی کتاب جو میں نے چند دن پہلے پوسٹ کی اس علم کی تاریخ اور مباحث کا احاطہ کرتی ہے۔ اس علم کے دو ممتاز علماء میں امام غزالی اور ابن رشد کے نام آتے ہیں۔
امام غزالی نے فلسفہ یا عقلی علوم کو دو حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک وہ علوم جو physics سے منسوب ہیں اور دوسرے وہ جو metaphysics سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی صنف کے علوم پر انہے کوئی اعتراض نہی۔ تاہم پورا عقلی زور لگا کر انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ منطق کے پاس جو وسائل ہیں وہ metaphysics
کی گتھیاں سلجھانے کے لئے ناکافی ہیں۔ وحی اور پیغمبر (قرآن اور حدیث) ہی ان مسائل پر حرف آخر ہیں۔ وہ جن الفاظ اور استعارات میں غیب کی باتیں سمجھا دیں وہ عام فہم لوگوں کے لئے کافی ہیں۔ speculative philosophy ادھورا علم ہے اور دین کے مقابلے میں ناقص۔ اس کے استعمال سے غیب کے معاملات میں کوئی اعلی اور حتمی نتیجہ نہی نکالا جا سکتا۔ نہ ہی یہ یقین میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
تزکئہ نفس اور شریعت کی پابندی ہی وہ راستہ (spiritual experience ) فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے یقین میں اضافہ، اللہ پاک کی قربت اور اطمینان قلب حاصل کیا جا سکتا ہے اور عقلی ہیجان اور بےجا تجسس پر قابو پائا جا سکتا ہے۔
ابن رشد سپین کے طبقہ اشرافیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ اور فلسفے کو دین کی اعلی درجہ کی سمجھ کے لئے لازموملزوم سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک عام آدمی کا یہ فہم ہی نہی کہ قرآن پاک کے اصل معانی تک رسائی کر سکے۔ یہ ملکہ صرف ایک فلاسفر کو ہی حاصل ہے کہ کتاب کے اصلی معانی سمجھ سکے۔آپ نے امام غزالی کے فلاسفرز پر تنقید کے رد میں کتابیں تحریر کی ہیں۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جمہور مسلمانوں نے اس بحث میں امام غزالی کو فتحیاب قرار دیا اور انہیں حجتہ الاسلام کے لقب سے نوازا۔ تاہم ان کے فزکس پر تحقیق کے مثبت رحجان کو ان کے میٹافزکس پر منفی رحجان سے گڈ مڈ کر دیا۔ جس سے مادی علوم پر ریسرچ متاثر ہوئی اور بعد میں آنے والوں نے روحانی تجربات اور صوفی ازم کو تعویز گنڈے، قرین کی شیطانی کرشمہ سازیوں اورایک دوسرے کا تجسس اور رقص وسرود کی محفلوں سے عبارت کر دیا۔ مزاحا کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں آدہے لوگ تعویز گنڈہ کرنے والے ہیں۔ آدہے متاثرین میں شامل ہیں۔
جبکہ ابن رشد کو مغرب میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ جس سے بعد میں آنے والوں نے عیسائی دین کے ہر رکن کو عقلیت کے ذریعے explain away کر دیا۔ حتی کہ وضدانیت کوتثلیت سے تبدیل کرنےکے سوا کوئی بنیاد نہ بچی۔ تاہم مادے یعنی فزکس پر تحقیق کو بے پناہ عروج حاصل ہوا اور مغرب کی چکا چوند ترقی کا سبب۔