بنت عبد الحق 🕋
رجسٹرڈ ممبر
شہیدِ مظلوم حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ —
شہیدِ مظلوم حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ —
آج جب یومِ شہادتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ آتا ہے تو دل عجیب سی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے وہ عظیم شخصیت آتی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنا داماد بنایا، جس کے بارے میں فرشتوں کے حیا کرنے کی خبر دی، جس نے اپنا مال، اپنی جوانی، اپنی طاقت اور اپنی پوری زندگی اسلام کے لیے وقف کردی، مگر بدلے میں امت کے ایک فتنہ بھرے دور میں مظلومانہ شہادت پائی۔
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام آتے ہی سخاوت، حیا، نرمی، عبادت اور قرآن سے محبت یاد آتی ہے۔ وہ قریش کے معزز ترین لوگوں میں سے تھے، مالدار بھی تھے، بااثر بھی تھے، مگر اسلام قبول کرتے ہی ہر چیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے قربان کرنے کو تیار ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیوں کے ساتھ نکاح کا شرف ملا، اسی لیے آپؓ کو "ذوالنورین" کہا گیا۔ یہ ایسا مقام ہے جو پوری امت میں کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ ذرا سوچئے، جس شخص سے رسول اللہ ﷺ اپنی دو بیٹیوں کا رشتہ جوڑیں، اس کی عظمت کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے؟
جب مدینہ میں پانی کی شدید قلت تھی اور لوگ پانی خریدنے پر مجبور تھے تو حضرت عثمانؓ نے اپنا مال خرچ کرکے بئرِ رومہ خرید لیا اور مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔ آج بھی جب اس واقعے کو پڑھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ امت کے درد کو محسوس کرنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔
غزوۂ تبوک کا موقع آیا تو مسلمانوں کے پاس سامان کم تھا، حالات سخت تھے، دشمن طاقتور تھا۔ ایسے وقت میں عثمانِ غنیؓ اٹھے اور اپنے مال کے انبار اللہ کی راہ میں پیش کردیے۔ سونا، چاندی، اونٹ، سامان... جو کچھ تھا سب لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے۔ صحابہؓ دیکھ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ اپنے اس وفادار ساتھی سے کس قدر خوش ہیں۔
مگر عثمانؓ کی عظمت صرف مال خرچ کرنے میں نہیں تھی۔
راتوں کی تنہائی میں قرآن کے ساتھ ان کا تعلق بھی بے مثال تھا۔ وہ گھنٹوں تلاوت کرتے، آیات پر روتے، اللہ کے سامنے جھکتے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتے۔ ان کی حیا کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عثمان وہ شخصیت ہیں جن سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
لیکن تاریخ کا ایک دردناک باب وہ بھی ہے جب فتنوں نے سر اٹھایا۔
جھوٹ پھیلائے گئے، الزام لگائے گئے، لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کیے گئے۔ وہ عثمانؓ جنہوں نے اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا، انہی کے خلاف زبانیں کھل گئیں۔ وہ عثمانؓ جن کے گھر میں کبھی خیر اور بھلائی کے سوا کچھ نہ تھا، انہی کے دروازے کا محاصرہ کردیا گیا۔
دن گزرتے رہے۔
گھر میں پانی تک روک دیا گیا۔
مظلوم خلیفہ صبر کرتا رہا۔
لوگوں نے عرض کیا کہ ہمیں اجازت دیں، ہم آپ کا دفاع کریں۔
مگر عثمانؓ نے امت کے خون کو بچانے کے لیے اجازت نہ دی۔
وہ چاہتے تو ہزاروں جانثار ان کے لیے تلواریں لے کر کھڑے ہوجاتے، مگر انہیں اپنی جان سے زیادہ امت کے خون کی فکر تھی۔
پھر وہ لمحہ آیا جسے یاد کرکے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔
ایک بوڑھا، نرم دل، حیا دار صحابی...
رسول اللہ ﷺ کا داماد...
جنت کی بشارت پانے والا انسان...
اپنے گھر میں موجود ہے۔
سامنے قرآنِ مجید کھلا ہوا ہے۔
زبان پر اللہ کا کلام ہے۔
اور فتنہ پرست دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوجاتے ہیں۔
تلواریں اٹھتی ہیں...
خون بہتا ہے...
اور قرآن پڑھنے والا وہ عظیم صحابی شہید کردیا جاتا ہے۔
روایتوں میں آتا ہے کہ آپؓ کا خون قرآنِ مجید کے صفحات پر گرا۔
کتنا عجیب منظر ہوگا!
ایک طرف اللہ کا کلام...
اور دوسری طرف اس کلام سے محبت کرنے والے صحابی کا خون...
تاریخ میں بہت لوگ آئے، بہت حکمران گزرے، بہت نام مٹ گئے، مگر عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام آج بھی محبت، عقیدت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ چودہ صدیاں گزر گئیں، مگر امت کے دل آج بھی ان کے لیے دھڑکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس عظیم صحابی پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے.......
۔ ہمیں اپنے دلوں میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی وہ محبت زندہ رکھنی چاہیے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ سے جوڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ہوجائے کہ تمام صحابہ اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دفاع صرف ایک شخصیت کا دفاع نہیں، بلکہ اس دورِ مبارک کا دفاع ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت کے لیے چنا۔ جب تاریخ کے صفحات میں عثمانؓ پر اعتراضات اٹھائے گئے تو اہلِ حق کے علماء نے دلائل، تحقیق اور اخلاص کے ساتھ ان کا جواب دیا۔ انہوں نے امت کو بتایا کہ جن ہستیوں سے رسول اللہ ﷺ راضی تھے، جن کے لیے جنت کی بشارتیں آئیں، ان کے بارے میں زبان کھولنے سے پہلے ایمان کانپ جانا چاہیے۔
اور پھر دل ان علماء اور اکابر کی طرف بھی چلا جاتا ہے جنہوں نے دفاعِ صحابہ میں اپنی زندگیاں گزار دیں...
وہ منبر جن پر صحابۂ کرامؓ کی محبت کے چرچے ہوتے تھے...
وہ مجالس جن میں عثمانؓ، ابوبکرؓ، عمرؓ، علیؓ و معاویہ رضی اللہ عنہ اور تمام صحابۂ کرامؓ کا ذکر آتا تھا...
وہ آوازیں جو نوجوانوں کے دلوں میں عشقِ صحابہ جگاتی تھیں...
آج ان میں سے بہت سی آوازیں خاموش ہوچکی ہیں۔کچھ باطل کے بھینٹ چڑھ گئے.،
کچھ قبروں میں سو رہے ہیں...
کچھ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں...کچھ لہو سے وضو کر کے سورہے ہیں.....
مگر ان کی باتیں آج بھی زندہ ہیں۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ صحابہؓ کا احترام صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ سے وفاداری کی نشانی ہے۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ اگر دل میں صحابۂ کرامؓ کی محبت باقی ہے تو ایمان کی مٹھاس باقی ہے۔
وہ چلے گئے...
مگر جاتے جاتے ہمارے دلوں میں ایک چراغ جلا گئے۔
وہ خود خاموش ہوگئے...
مگر صحابۂ کرامؓ کا ذکر ہمارے گھروں کیا دلوں تک پہنچا گئے۔
وہ اپنی آنکھیں بند کرکے دنیا سے رخصت ہوگئے...
مگر ہماری آنکھیں صحابۂ کرامؓ کی عظمت پر کھول گئے۔
وہ مٹی اوڑھ کر سو گئے...
مگر ہمارے سینوں میں محبتِ صحابہؓ کے پھول کھلا گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اکابر، علماءِ حق اور دفاعِ صحابہ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔ اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ انہوں نے صحابۂ کرامؓ کا دفاع کرتے کرتے زندگیاں گزار دیں، اللہ ان سب پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے، اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔


شہیدِ مظلوم حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ —
آج جب یومِ شہادتِ سیدنا عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ آتا ہے تو دل عجیب سی کیفیت میں ڈوب جاتا ہے۔ آنکھوں کے سامنے وہ عظیم شخصیت آتی ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے اپنا داماد بنایا، جس کے بارے میں فرشتوں کے حیا کرنے کی خبر دی، جس نے اپنا مال، اپنی جوانی، اپنی طاقت اور اپنی پوری زندگی اسلام کے لیے وقف کردی، مگر بدلے میں امت کے ایک فتنہ بھرے دور میں مظلومانہ شہادت پائی۔
حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام آتے ہی سخاوت، حیا، نرمی، عبادت اور قرآن سے محبت یاد آتی ہے۔ وہ قریش کے معزز ترین لوگوں میں سے تھے، مالدار بھی تھے، بااثر بھی تھے، مگر اسلام قبول کرتے ہی ہر چیز اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے قربان کرنے کو تیار ہوگئے۔
رسول اللہ ﷺ کی دو صاحبزادیوں کے ساتھ نکاح کا شرف ملا، اسی لیے آپؓ کو "ذوالنورین" کہا گیا۔ یہ ایسا مقام ہے جو پوری امت میں کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ ذرا سوچئے، جس شخص سے رسول اللہ ﷺ اپنی دو بیٹیوں کا رشتہ جوڑیں، اس کی عظمت کا اندازہ کیسے لگایا جاسکتا ہے؟
جب مدینہ میں پانی کی شدید قلت تھی اور لوگ پانی خریدنے پر مجبور تھے تو حضرت عثمانؓ نے اپنا مال خرچ کرکے بئرِ رومہ خرید لیا اور مسلمانوں کے لیے وقف کردیا۔ آج بھی جب اس واقعے کو پڑھا جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ امت کے درد کو محسوس کرنے والے لوگ کیسے ہوتے ہیں۔
غزوۂ تبوک کا موقع آیا تو مسلمانوں کے پاس سامان کم تھا، حالات سخت تھے، دشمن طاقتور تھا۔ ایسے وقت میں عثمانِ غنیؓ اٹھے اور اپنے مال کے انبار اللہ کی راہ میں پیش کردیے۔ سونا، چاندی، اونٹ، سامان... جو کچھ تھا سب لے آئے۔ رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں ہوگئے۔ صحابہؓ دیکھ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ اپنے اس وفادار ساتھی سے کس قدر خوش ہیں۔
مگر عثمانؓ کی عظمت صرف مال خرچ کرنے میں نہیں تھی۔
راتوں کی تنہائی میں قرآن کے ساتھ ان کا تعلق بھی بے مثال تھا۔ وہ گھنٹوں تلاوت کرتے، آیات پر روتے، اللہ کے سامنے جھکتے اور اپنے رب سے تعلق مضبوط کرتے۔ ان کی حیا کا یہ عالم تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ عثمان وہ شخصیت ہیں جن سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔
لیکن تاریخ کا ایک دردناک باب وہ بھی ہے جب فتنوں نے سر اٹھایا۔
جھوٹ پھیلائے گئے، الزام لگائے گئے، لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کیے گئے۔ وہ عثمانؓ جنہوں نے اسلام پر اپنا سب کچھ قربان کردیا تھا، انہی کے خلاف زبانیں کھل گئیں۔ وہ عثمانؓ جن کے گھر میں کبھی خیر اور بھلائی کے سوا کچھ نہ تھا، انہی کے دروازے کا محاصرہ کردیا گیا۔
دن گزرتے رہے۔
گھر میں پانی تک روک دیا گیا۔
مظلوم خلیفہ صبر کرتا رہا۔
لوگوں نے عرض کیا کہ ہمیں اجازت دیں، ہم آپ کا دفاع کریں۔
مگر عثمانؓ نے امت کے خون کو بچانے کے لیے اجازت نہ دی۔
وہ چاہتے تو ہزاروں جانثار ان کے لیے تلواریں لے کر کھڑے ہوجاتے، مگر انہیں اپنی جان سے زیادہ امت کے خون کی فکر تھی۔
پھر وہ لمحہ آیا جسے یاد کرکے آج بھی دل کانپ اٹھتا ہے۔
ایک بوڑھا، نرم دل، حیا دار صحابی...
رسول اللہ ﷺ کا داماد...
جنت کی بشارت پانے والا انسان...
اپنے گھر میں موجود ہے۔
سامنے قرآنِ مجید کھلا ہوا ہے۔
زبان پر اللہ کا کلام ہے۔
اور فتنہ پرست دیواریں پھلانگ کر اندر داخل ہوجاتے ہیں۔
تلواریں اٹھتی ہیں...
خون بہتا ہے...
اور قرآن پڑھنے والا وہ عظیم صحابی شہید کردیا جاتا ہے۔
روایتوں میں آتا ہے کہ آپؓ کا خون قرآنِ مجید کے صفحات پر گرا۔
کتنا عجیب منظر ہوگا!
ایک طرف اللہ کا کلام...
اور دوسری طرف اس کلام سے محبت کرنے والے صحابی کا خون...
تاریخ میں بہت لوگ آئے، بہت حکمران گزرے، بہت نام مٹ گئے، مگر عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا نام آج بھی محبت، عقیدت اور احترام سے لیا جاتا ہے۔ چودہ صدیاں گزر گئیں، مگر امت کے دل آج بھی ان کے لیے دھڑکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس عظیم صحابی پر اپنی کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے.......
۔ ہمیں اپنے دلوں میں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی وہ محبت زندہ رکھنی چاہیے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ سے جوڑتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ہوجائے کہ تمام صحابہ اور حضرت عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کا دفاع صرف ایک شخصیت کا دفاع نہیں، بلکہ اس دورِ مبارک کا دفاع ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی صحبت کے لیے چنا۔ جب تاریخ کے صفحات میں عثمانؓ پر اعتراضات اٹھائے گئے تو اہلِ حق کے علماء نے دلائل، تحقیق اور اخلاص کے ساتھ ان کا جواب دیا۔ انہوں نے امت کو بتایا کہ جن ہستیوں سے رسول اللہ ﷺ راضی تھے، جن کے لیے جنت کی بشارتیں آئیں، ان کے بارے میں زبان کھولنے سے پہلے ایمان کانپ جانا چاہیے۔
اور پھر دل ان علماء اور اکابر کی طرف بھی چلا جاتا ہے جنہوں نے دفاعِ صحابہ میں اپنی زندگیاں گزار دیں...
وہ منبر جن پر صحابۂ کرامؓ کی محبت کے چرچے ہوتے تھے...
وہ مجالس جن میں عثمانؓ، ابوبکرؓ، عمرؓ، علیؓ و معاویہ رضی اللہ عنہ اور تمام صحابۂ کرامؓ کا ذکر آتا تھا...
وہ آوازیں جو نوجوانوں کے دلوں میں عشقِ صحابہ جگاتی تھیں...
آج ان میں سے بہت سی آوازیں خاموش ہوچکی ہیں۔کچھ باطل کے بھینٹ چڑھ گئے.،
کچھ قبروں میں سو رہے ہیں...
کچھ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں...کچھ لہو سے وضو کر کے سورہے ہیں.....
مگر ان کی باتیں آج بھی زندہ ہیں۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ صحابہؓ کا احترام صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ سے وفاداری کی نشانی ہے۔
انہوں نے ہمیں سکھایا کہ اگر دل میں صحابۂ کرامؓ کی محبت باقی ہے تو ایمان کی مٹھاس باقی ہے۔
وہ چلے گئے...
مگر جاتے جاتے ہمارے دلوں میں ایک چراغ جلا گئے۔
وہ خود خاموش ہوگئے...
مگر صحابۂ کرامؓ کا ذکر ہمارے گھروں کیا دلوں تک پہنچا گئے۔
وہ اپنی آنکھیں بند کرکے دنیا سے رخصت ہوگئے...
مگر ہماری آنکھیں صحابۂ کرامؓ کی عظمت پر کھول گئے۔
وہ مٹی اوڑھ کر سو گئے...
مگر ہمارے سینوں میں محبتِ صحابہؓ کے پھول کھلا گئے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اکابر، علماءِ حق اور دفاعِ صحابہ کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔ اللہ ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔ انہوں نے صحابۂ کرامؓ کا دفاع کرتے کرتے زندگیاں گزار دیں، اللہ ان سب پر اپنی خاص رحمت نازل فرمائے، اور ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔