السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی آفیشل موبائل ایپلیکیشن لانچ کردی گئی ہے ، ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں
  غیر رجسٹرڈ ممبرز کو ویب سائٹ تک رسائی محدود ہے

یہ قیمتی لوگ.........💔🌹💦

بنت عبد الحق 🕋

رجسٹرڈ ممبر
آج کچھ قیمتی لوگوں کے تعارف سے اپنے کاغذ کو مہکانا چاہتی ہوں....جی ہاں!یہ وہ لوگ ہیں جو ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم اور ناموس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا دفاع کر رہے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جب کوئی جھوٹا نبی اپنا دعویٰ کرتا ہے یا صحابہ کرام پر طعن کرتا ہے اور ان پر تبرا کرتا ہے تو انکے سینوں من آگ بھڑک اٹھی ہے مگر یہ آگ غصہ کی نہیں بلکہ غیرت کی بوتی ہے، یہ وہ لوگ ہیںجب قلم اٹھاتے ہیں صحابہ کی عظمت لکھنے کے لئے تو انکے ہاتھ کانپتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو انکی آواز لرز جاتی ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جن کی آنکھیں پہلے بولتی ہیں اور بعد میں زبان، یہ وہ لوگ ہیں جو راتوں کو جاگ کر دفاع لکھتے ہیں اور صبح تک آنسو پونچھتے رہتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں دنیا سمجھتی ہے کہ یہ بہت سخت ہیں۔مگر حقیقت میں یہ بہت ٹوٹے ہوئے ہیں ،دل کے بہت زخمی ہیں،روح چھلنی ہے،یہ وہ لوگ ہیں جو کتنی ہی دیر راتوں کو جاگ کر روتے ہیں،آہیں بھرتے ہیں،مصلی پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کی ناموس کی حفاظت مانگتے ہیں،گڑگڑاتے ہیں،یہ الم یہ اذیت انکو دیمک کی طرح کھاتی ہے،جب کوئی گستاخ زبان کھولتا ہے تو دنیا انکی نظروں میں کچرے کے ڈھیر کے برابر بھی نہیں رہ جاتی،یہ راتوں کو روتے ہیں،ہاتھ اٹھا کر مانگتے ہیں،اپنی زندگی کو صحابہ کرام کے لئے وقف کردیتے ہیں،اور دن کو جب باطل پر گرجتے ہیں تو لوگ کہتے ہیں یہ بہت سخت ہیں!یہ انتہاء پسند ہیں،یہ فساد پسند ہیں......مگر دنیا والے کیا جانتے ہیں کہ راتوں کو جب سب سوتے ہیں تو یہ جاگ کر کتنا روتے ہیں،انہوں نے اپنے سینہ پر کتنا غم کھایا ہوا ہے....مگر یہ سب بولنے والوں کی نظروں سے اوجھل ہے...... انکے سینوں میں جو عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم و عشق صحابہ کا سمندر ہوتا ہے وہ انکی نظروں سے اوجھل ہے.....یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں "جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں" تو کون بدبخت نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، جب قرآن و حدیث نے صحابہ کرام کو بخشش و جنت کا سرٹیفکیٹ دیدیا تو کون بد نصیب ان کے کردار پر انگلیاں اٹھاتا ہے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو کتنی بار دھمکائے گئے..ڈرائے گئے....روکے گئے..... کتنی بار انہوں نے اپنوں سے ٹھوکریں کھائی ہیں...... کتنی ہی بار تنہا چھوڑ دیے گئے ہیں...... مگر یہ پھر بھی نہیں رکے، کیونکہ انہوں نے تو اپنی زندگی لگانے کی قسم کھا رکھی ہے....یہ وو عظمت و استقامت کے جبل ہیں جنہوں نے مکہ کے بلال رضی اللہ عنہ کی یاد دلادی،کہ وہ مرد حق انگاروں کی اذیت جھیلتے ہوئے بھی راہ سے ہٹتا نہیں تھا بلکہ احد احد کی صدائیں لگاتا رہتا تھا......یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اللہ نے سب سے بڑی دولت دی ہے: عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم، عشق صحابہ رضی اللہ عنہم، اور یہ دولت انہیں اس لیے ملی کہ انہوں نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے یاروں جانثاروں سے سچی محبت کی ہے، ان کے لیے سب لٹانے کا عہد کیا ہے۔........یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم اور ناموس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی حفاظت میں انکا خون بہہ جائے یا جان چلی جائے تو اسے اپنی سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اس خون سے وضو کرکے اللہ کے حضور حاضر ہونے کی تمنا رکھتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں بہے ، انکی آرزو ہوتی ہے کہ قیامت کے دن انکے زخم گواہی دیں کہ یہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت میں جئے بھی تھے اور مرے بھی تھے......یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی جان کو معمولی سمجھتے ہیں مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو سب کچھ سمجھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کی غیرت جاگتی ہے تو انکے زبان سے حق نکلتا ہے پھر چاہے انکو جان ہتھیلی پر ہی کیوں نہ رکھنی پڑے.....اور یہی حق تو دنیا والوں کو کڑوا لگتا ہے...مگر وہ اسکا مصداق بنتے ہیں کہ:توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے.....یہ بندہ دوعالم سے خفا میرے لیے ہے.......یہ وہ لوگ ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ کے کتے قریب ہیں؟ کوئی نہیں جان سکتا۔مگر اندازہ یہ ہے کہ جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے قریب ہوتا ہے، اس سے بھی زیادہ، جس طرح سایہ اپنے وجود کے قریب ہوتا ہے، اس سے بھی زیادہ،یہ وہ لوگ ہیں کہ قیامت کے روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھ کر مسکرائیں گے اور فرمائیں گے: "آؤ میرے اور میرے ساتھیوں کے سچے عاشقو، آؤ میرے ساتھیوں کا دفاع کرنے والو، انکے وفادارو!ان کے لیے سب قربان کرنے والو! آؤ تمہارے لیے میری شفاعت ہے۔"اور شاید اُس دن یہ تھکے ہوئے لوگ، یہ راتوں کو اندھیرے میں رونے والے لوگ، یہ زخموں کو چھپانے والے لوگ، یہ تنہائی میں سسکنے والے لوگ، جو دنیا میں گستاخیوں پر جلتے رہے،کڑھتے رہے،تڑپتے رہے،طعنوں کے تیر کھاتے رہے،جو تنہا چھوڑ دیے گئی،جنکے رستوں میں کانٹے بچھائے گئے مگر وہ جو ہر اذیت کے بعد مزید وفادار ہوجاتے تھے،اور نئے جذبوں و ایمانی حرارت و غیرت کے ساتھ میدان میں آتے تھے،یہ وہ تھے جنکو دنیا باتیں سناتی تھی مگر آسمان والے انکو وفادار کہتے تھے.....روز قیامت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک مسکراہٹ دیکھ کر یہ اپنی ساری تکلیفیں ،غم،زخم بھول جائیں گے......اور کہیں گے: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم نے سب کچھ ہار کر بھی اگر آپ اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت پا لی تھی، تو ہم کبھی خسارے میں نہیں تھے...................
 
Top