السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی آفیشل موبائل ایپلیکیشن لانچ کردی گئی ہے ، ڈاؤن لوڈ بٹن پر کلک کریں
  غیر رجسٹرڈ ممبرز کو ویب سائٹ تک رسائی محدود ہے

خلیفه بلا فصل امیر المومنین سیدنا صدیقِ اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی شان❤️🌸

خلیفه بلا فصل امیر المومنین سیدنا صدیقِ اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کی شان
شیخ العرب والعجم عارف باللہ حضرت مولانا شاہ حکیم محمّد اختر صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی جان فدا کی، مال فدا کیا، صحابہ میں سب سے زیادہ سرور کونین خاتم النبیین حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے محبت کی تو آپ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کہ سب کی محبت کا حق میں نے دنیا ہی میں ادا کر دیا لیکن ابو بکر صدیق کی محبت کا حق مجھ سے نہیں ادا ہو سکا، اﷲتعالیٰ ہی ان کا حق ادا کریں گے۔ یہ سرکاری اعلان ہے سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی جانب سے کیونکہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے جان کی بازی لگائی تھی۔ غارِ ثور میں سانپ کے بل میں اپنا انگوٹھا لگا دیاکہ میرے نبی کو نہ کاٹ لے۔ اور بلوں میں تو اپنا کرتہ پھاڑ کر لگا دیا تھا لیکن ایک بل رہ گیا تھا تو وہاں اپنا انگوٹھا لگا دیا اور ان کو سانپ نے کاٹ لیا، حضور صلی اﷲ علیہ وسلم اس وقت آرام فرما رہے تھے اور آپ کا سر مبارک حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے زانو پر تھا، تکلیف سے حضرت صدیق اکبر کے آنسو جو گرے تو آپ جاگ گئے اور دریافت فرمایا کہ کیوں رو رہے ہو؟ عرض کیا کہ سانپ نے کاٹ لیا ہے۔ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنا لعاب ِدہن لگا دیا سب زہر اُتر گیا۔ بعض تاریخوں میں ہے کہ وہ سانپ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا عاشق تھا اور کئی سو برس سے آپ کا انتظا ر کر رہاتھا، وہ جن تھا اور چاہ رہا تھا کہ میں آپ کی زیارت کرلوں، اور یہاں تو صدیق اکبر نے جان کی بازی لگائی اور غزوۂ تبوک میں پورا مال لا کر رکھ دیا۔ کیا شان تھی کہ ہر وقت جان و مال و عزت و آبرو حضور صلی اﷲ علیہ وسلم پر فدا کرنے کو تیار تھے۔
حضرت صدیق اکبر رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کو حضور مع الحق کا جو مقام حاصل تھا، ﷲ کے ساتھ ہر وقت جو حضوری حاصل تھی اس وجہ سے ہر وقت وہ حضور صلی ﷲ علیہ و سلم کے اکرام میں اعلیٰ ترین مقام پر تھے کیونکہ امت میں کسی امتی کا ایمان ان سے بڑھ کے نہیں ہے چنانچہ عین جنگِ بدر کے موقع پر جب آپ صلی ﷲ علیہ و سلم نے عشاء کے بعد دعا شروع کی تو فجر کی اذان ہوگئی اور آپ اتنا زیادہ گڑگڑائے اور آپ کے دستِ مبارک بہت اونچے اُٹھ گئے اور جسمِ مبارک کے ہلنے سے آپ کی چادر گرگئی زندگی مبارک میں بہت کم ایسا ہوا کہ دعا میں آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاتھ اتنے اوپر اٹھے ہوں یہاں تک کندھوں سے آپ کی چادر گرگئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ نے اس چادر کو اٹھالیا فَاَخَذَ رِدَائَ ہُ فَاَلْقَاہٗ عَلٰی مَنکِبَیْہِ اور آپ کے مبارک کندھوں پر ڈال دیا اور اس دن سرورِ عالم صلی اﷲ علیہ وسلم کی دعا کیا تھی؟
{اَللّٰہُمَّ اَنْجِزْلِیْ مَا وَعَدْتَّنِیْ اَللّٰھُمَّ اٰتِ مَا وَعَدْتَّنِیْ اَللّٰہم اِنَّکَ اِنْ تُہْلِکْ ہٰذِہِ الْعِصَابَۃَ مِنْ اَہْلِ الْاِسْلاَمِ لاَ تُعبَدْ فِی الْاَرْضِ}
(صحیح مسلم،کتاب الجہاد والسیر، باب الامداد بالملائکۃ،ج:۲،ص:۹۳)
اے اﷲ! آپ نے جو وعدہ کیا وہ آج پورا کردیجیے۔ اے اﷲ! اگر مسلمانوں کی جماعت آج ہلاک ہوگئی تو پھر کبھی زمین پرآپ کی عبادت نہیں ہوگی۔ علماء نے لکھا ہے کہ یہ آپ پر حال طاری ہوا تھا اور غلبۂ حال میں بندہ معذور ہوتا ہے اس لیے اﷲ نے اس پر کوئی نکیر نہیں فرمائی اور اﷲ کا نکیر نہ فرمانا دلیل ہے کہ اﷲ اپنے نبی کو اسی حال میں دیکھنا چاہتے تھے۔ ، اس کے بعد جب حضور صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وسلم اور زیادہ روئے تو حضرت ابوبکر صدیق پر ایک کیفیت طاری ہوگئی، غلبہ ٔحال ہوگیا فَالْتَزَمَہٗ آپ کی پشت ِمبارک کے جانب سے چمٹ گئے لیکن اس وقت بھی وہ ﷲ سے باخبر تھے اس لیے اس وقت بھی حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے اکرام کا پورا خیال رکھا اور یوں نہیں کہا کہ اب مجھ سے برداشت نہیں ہورہا ہے بلکہ یہ کہا کَفَاکَ یَا نَبِیَّ ﷲِ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاُمِّیْ مُنَاشَدَتُکَ رَبَّکَ اے ﷲ کے نبی!میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یہ دعا آپ کے لیے کافی ہوگئی، اب آپ زیادہ نہ روئیے آپ کا اپنے رب سے اتنا مناشدہ آپ کے لیے کافی ہے، دیکھئے یہاں بھی انہوں نے اﷲکو یاد کیا، یعنی زمین پر رہتے ہوئے بھی اس وقت صدیقِ اکبر آسمان پر تھے اور اﷲسے باخبر تھے اور یہ بھی عرض کیا فَاِنَّہُ سَیُنْجِزُ لَکَ مَا وَعَدَکَ اور اﷲ اپنا وعدہ عنقریب پورا کردے گا اور مناشدہ کہتے ہیں کیا ہوا وعدہ بار بار یاد دِلانا، جس کی حضور صلی اﷲ علیہ وسلم فریاد کر رہے تھے کہ یا اﷲ! جو وعدہ کیا اس کو پورا کردیجیے، یااﷲ! جو وعدہ کیا اس کو پورا کردیجیے، حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ سے سید الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم کا اس قدر رونا برداشت نہیں ہوا۔ کس کی ہمت تھی جو نبی سے یہ جملہ کہہ سکتا، یہ صدیق اکبر ہی کا مقام تھا جن کو مقامِ نبوت کی معرفت حاصل تھی اور آپ جانتے تھے کہ حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کا رونا رائیگاں نہیں جاسکتا چنانچہ عرض کیا:
یَا نَبِیَّ اﷲِ کَفَاکَ مُنَاشَدَ تُکَ رَبَّکَ فَاِنَّہُ سَیُنْجِزُلَکَ مَا وَعَدَکَ
(صحیح مسلم،کتاب الجہاد والسیر، باب الامداد بالملائکۃ،ج:۲،ص:۹۳)
پس اﷲ عنقریب آپ کا وعدہ پورا کرے گا، زبان صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ سے یہ جملہ نکلا اور ادھر حضرت جبرئیل علیہ السلام آگئے۔ یہ ہے مقامِ صدیق کہ اسی وقت اﷲ تعالیٰ نے وحی نازل فرمادی۔ کیا یہ معمولی بات ہے؟ میں تو کہتا ہوں کہ ہماری کروڑہا جانیں ان پر فدا ہوں بڑی زبردست شخصیت تھے۔
اُس وقت یہ آیات نازل ہوئیں:
{اِذْ تَسْتَغِیثُونَ رَبَّکُمْ فَاسْتَجَابَ لَکُمْ اَنِّیْ مُمِدُّکُمْ بِاَلْفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُرْدِفِیْنَ}(سورۃُ الانفال، اٰیۃ:۹)
اور جب تم لوگ ہم سے فریاد کررہے تھے، حالانکہ نبی کی دعا تھی مگر تَسْتِغِیْثُوْنَ جمع کیوں فرمایا؟ چونکہ اس وقت تمام صحابہ آمین کہہ رہے تھے تو معلوم ہوا کہ آمین کہنے والے اتنا ہی حق رکھتے ہیں جتنا دعا کرنے والا رکھتا ہے، پس ایک ہزار فرشتے آگئے اور کفار کو عبرتناک شکست ہوئی۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا، اس سے بظاہر لگتا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر سے بڑھ گئے کیونکہ حضرت ابوبکر کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں فرمایا ہے ،اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق گویا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں فنا ہوگئے تھے ، الگ تھے ہی نہیں،صدیق گویا کہ نبوت کا آئینہ ہوگئے تھے ۔
محبت ہو تو ایک نظر کی بھی کیا قیمت ہے یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالیٰ عنہٗ سے پوچھو۔خاتم النبیین حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہٗ سے فرمایا کہ اے ابو بکرصدیق! مجھ کو دنیا میں تین چیزیں عزیز ہیں (۱)خوشبو (۲) نیک بیوی (۳) نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، تو حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہٗ نے عرض کیا کہ اے اﷲ کے رسول! مجھ کو بھی تین چیزیں دنیا میں عزیز ہیں، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے پوچھا کہ بتاو! وہ چیزیں کیا ہیں؟ عرض کیا(۱) اَلنَّظَرُ اِلَیْکَ (۲) وَالْجُلُوْسُ بَیْنَ یَدَیْکَ (۳) وَ اِنْفَاقُ مَالِیْ عَلَیْکَ یعنی ایک نظر آپ کو دیکھ لینا اور تھوڑی دیر آپ کے پاس بیٹھ لینا اور اپنا مال آپ پر فدا کرنا، اس سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز مجھ کو محبوب نہیں ہے۔ حضرت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہٗ نے سکھادیا کہ ایسی محبت ہونی چاہیے۔
 
Top