السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی کی جانب سے تمام چاہنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر مبارک
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

الوداع ماہ رمضان......!!(اور رمضان کے بعد......)

بنت عبد الحق

رجسٹرڈ ممبر
ان القلب لیحزن،و ان العین لتدمع،و انا علی فراق رمضان لمحزونون......بلاشبہ ہمارے دل غمگین ہیں،آنکھیں اس غم و تاسف کا اظہار کرتی آنسو بہا رہی ہیں....رمضان کے فراق و جدائی پر ہم حزین ہیں.....اور بھلا ایسے کیوں نہ ہو؟؟.....ایک ایسا ما ہم سے جدا ہونے چلا ہے جس سے ہم مانوس ہوچکے تھے....جس کا لمحہ لمحہ رحمت،جس کی ساعت ساعت مغفرت،جس کا آن آن برکت،ایسا ماہ جس جس کو رب نےاپنا ماہ کہا....بھلا اس کے جانے پر کیوں ہمارے دل ٹوٹیں گے نہیں؟کیوں ہماری آنکھیں بہیں گی نہیں؟......رمضان ایک مہمان ہے....بندہ آخر مہمان سے مانوس ہو ہی جاتا ہے....کبھی تو بندہ بھول بھی جاتا ہے مہمان میں مشغول ہو کر کے اس نے کبھی واپس بھی جانا ہے....پھر جب رخصتی کا وقت قریب آتا ہے تو دل پر کیسے آڑے چلتے ہیں.....یہی حال آج ہمارا ہے....وہ روزے کی رونقیں،وہ مساجد کی رونقیں،وہ بھوک پیاس برداشت کرنے کی لذت،وہ سحر افطار کی با برکت ساعتیں،وہ رات کو تھکن سے چھوڑ بدن کے ساتھ چالیس سجدوں کا لطف...وہ رکوع....وہ قیام....وہ تہجد کا وقت اور رب سے باتیں کر کر کے رونے کا لطف....آہ!!!ان سب چیزوں میں مشغول ہو کر ہم اتنا مانوس ہوگئے کہ بھول گئے کہ اب وقت رحلت قریب ہے.......اب یہ ماہ جدا ہونے والا ہے....آہ!ہمارے بس میں ہوتا تو ہم اس کو جانے ہی نہ دیتے.....کسی طرح روک کر رکھ لیتے....مگر آہ!عادت عادت ہے.....ہر سال یہ جدائی کا غم اٹھانا پڑتا ہے اور ہم مجبور ہوجاتے ہیں.......اسلامی بھائیو!دل گردہ مضبوط کرو کہ اس کو الوداع کہنے کا وقت ہے.....ابھی تو ہمارا پیارا ماہ آیا تھا.....جب ہر طرف سے مبارک مبارک کی صدائیں آرہے تھیں اور ہمارےزمانے کی موجوں سے مرجھاۓ دل خوشی سے کھل اٹھے تھے ،کائنات کی ہر چیز لہلہا رہی تھی،ابھی آیا تھا اور ابھی جانے کا وقت بھی آگیا.....ابھی کل کی بات لگتی ہے جب ہم خوش چہروں کے ساتھ رمضان کی آمد کا مضمون لکھ رہے تھے اور آج آنسو پیتے اس کی رخصتی پر دل کا غم ہلکا کر رہے ہیں......کیوں اتنی جلدی چلا جاتاہے ہمارا یہ ماہ.....ابھی تو ہم نے مزید لطف اٹھانا تھا صیام و قیام کا،ابھی تو ہمارا دل نہ بھر ا تھا اور نہ پیاس بجھی تھی.....ہمارے اکابر تو ایسے تھا کہ جب مہمان جاتے تو وہ ان کی پیالیاں دیکھ کر روتے تھے....اب بھلا ہم کیا ایسے قیمتی ترین مہمان کے جانے پر وہ مصلی،وہ چیزیں دیکھ کر کیسے نہ روئیں........ رونقیں مانند پڑ گئی ہیں.....اگر ہم بھی مقبولین و مغفورین میں شامل ہیں تو ہماری خوش نصیبی ،مگر جدائی کا غم جدائی کا غم ہے،جس سے دل مرجھا جایا کرتا ہے....مگر ہم کیا ہیں،حقیر چیز ہیں،ہم سے کہیں زیادہ غم تو اللہ کے خاص لوگوں کو ہوا ہوگا جن کی ساعت ساعت اس سے باتیں کرتے گزری ہوں گی.....روتے گزری ہوں گی....ہم تو بس باتیں ہی کرتے ہیں،،،...عمل کے کھوٹے ہیں.........انسان اگر اللہ سے محبت کرنے والا ہو تو خدا کی قسم اس کی ہر رات شب قدر ہوتی ہے.....ہر رات وہ اصحاب اللیل میں شامل ہو کر مولا کے قریب ہوتا ہے .....ہم تو رمضانی ہیں ....اللہ کریم ہی عمل کا بھی پکا بنادے اور اپنے پیاروں میں شامل کرلے تو ہماری جیت ہوگی...... رمضان کیسا ماہ ہے؟:رمضان کا ماہ عاشقین کا ماہ ہے .....صالحین کا ماہ ہے.....عاشقوں کے عشق کو مزید گرمانے اور تڑپانے کا ماہ ہے.....غم زدہ کو سکوں دینے والا،ٹوٹے کو جوڑنے والا،تکلیف زدہ کا مرہم....اس کی رحمتوں برکتوں کا کیا کہنا....جس میں نفل کا سواب بھی فرض کے برابر....نیکیوں کی سیل کا موسم ...جنت طلب کرنے کا ماہ....دوزخ سے پناہ مانگنے کا ماہ....مغفرت کرانے کا ماہ....رب سے قرب کا ماہ....محبت کا ماہ....وہ محبت رب کی جو دنیا کی رنگینیوں کے بائیس ہماری ٹھنڈی پر چکی ہے،اسے گرمی دینے کا ماہ،مردہ دل زندہ کرنے کا ماہ،دنیا آخرت بنوانے کا ماہ.....تبھی تو یہ بات ہے کہ اکثر اہل دل،ہر تکلیف پر بھی صابر لوگ، اس کی جدائی پر ضبط کا دامن چھوڑ کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتے ہیں...... رمضان اور ہماری ناقدری و غفلت:اسلامی بھائی!رمضان رب پاک کی ایک عظیم نعمت ہے جس کا شکر ہم پر واجب ہے....کتنے ہی ایسے تھے جو رمضان آنے سے پہلے ہی دنیا چھوڑ گئے ہیں.....رب نے ہم پر انعام کیا اور باقی رکھا ......مگر ہم نے کیا کیا؟؟وہی لغویات،فضولیات،لہویات.......وہی گناہ....رمضان کا ماہ چلا گیا مگر ہمارے گناہ باقی رہ گئے......وہی طبیعات شهوات باقی رہ گئی.....وہی طور طریقے......کوئی تبدیلی نہیں آئی.....کسے معلوم کہ اگلا رمضان ملے گا کہ نہیں.....ہم ہوں گیا یا پھر منوں مٹی تلے......؟؟کون کیا کہہ سکتا ہے......اگلے لمحے کا کسے پتا ہے.....میرے بھائی!میرا مقصد اس پر اپنے اور آپکو مایوس کرنے کا ھرگز نہیں جو رمضان گزر گیا.....ابھی بھی چند ساعات باقی ہیں....اقل القلیل ہی سہی مگر....غنیمت ہے......تین نہیں تو دو دن ہی سہی....ان آخری دنوں میں تو رب کی رحمت جوش مار رہی ہوتی ہے....اب بھی اسے منالو....معافی مانگ لو....وہ کم پر زیادہ دینے والا ہے.....وہ بلا عوض دینے والا ہے،وہ استحقاق دیکھے بغیر دینے والا ہے .......اب ان چند دنوں کو ہی قیمتی بنانے کو کوشش کرلو.....البتہ ہم گناہگار وں کے برعکس وہ خوش نصیب ہے جس نے ان ایام و لیال کو غنیمت جانا ،اپنے مولا سے قریب ہوا....اور اپنے دامن،جھولی اور کشکول کو رحمتوں سے بھر لیا....اس کی سعادت کا کیا کہنا....اس کے نصیب کا کیا کہنا جسے رب نے ارجعو مغفور لکم کا انعام دے دیا ہو....جس کو رب کی طرف سے دوزخ کی آزادی کا پروانہ مل گیا ہو....اذھبو فانتم الطلقاء......ایسے کو رمضان جانے کا دکھ تو ضرور ہوگا مگر ساتھ مسرت بھی ہوگی کہ رب نے مغفرت کردی ہے....اس سے بڑھ کر کوئی تحفہ مل سکتا کیا؟؟؟اس سے بڑھ کر سعادت ہو سکتی ہے کیا؟؟؟اگر خوشی سے دل بھی بند ہوجاۓ تو تعجب کی بات نہیں....... اب کیا کریں؟؟ :جنہوں نے ان ایام کو غنیمت جان کر مغفرت کرالی ان پر اللہ کی سلامتی ہو اور ان کے طفیل ہمیں بھی رب پاک مقبولین میں شامل کردے.....اور ہم جسے سیاہ کار جو رمضان میں بھی گناہوں سے باز نہیں آئے،ان کے لئے بھی رب کی تسلی موجود ہے کہ لا تقنطو من رحمتہ اللہ.....جتنی گھڑیاں باقی رہ گئیں ان میں بھی اگر ہم توبہ کرلیں تو ان شا اللہ محرومین میں نہیں رہیں گے -انما الاعمال بالخواتیم.....اعمال کا دار و مدر خاتمے پر ہے.....خاتمے کے چند دنوں کو قیمتی بنالیں،مایوسی نہیں ،کیونکہ بات یہ ہےکہ اگر انصاف کی بات ہو تو ہمارا نامہ اعمال اس قدر سیاہ ہیں،اس قدر سیاہ کہ ہم عذاب کے مستحق ہیں،مگر اللہ کریم ہی اتنے ہیں کہ استحقاق کو نہیں،اپنی رحمت کو دیکھ کر معاملہ فرماتے ہیں....ان کی رحمت کے سمندر سے امید کی جاسکتی ہے کہ ایک دو چھینٹے وہ ہمیں بھی عطا فرمادیں گے....ان شاء اللہ.... رمضان کے بعد؟؟؟:باقی رہ گئی بات کہ رمضان کے بعد کیا کرنا ہے ؟برے افسوس کی بات ہے کہ ہم اور اکثر طبقہ تو عید کا چاند ہوتے ہی اسے اپنی گردن پر پلٹ جاتا ہے جیسے نماز قرآن صرف رمضان کے ساتھ مخصوص ہیں....رب پاک کو یہ بات بلکل پسند نہیں .....احب الاعمال الی اللہ ادومھا و ان قل......آپ دیکھیں گے کہ اکثر عید کے دوسرے دن سے ہی مساجد کی رونقیں مانند پر جاتی ہیں....(الا ماشاء اللہ)ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ ہم نے اعمال کو رمضان کے ساتھ خاص کر لیا ہے-یہاں فرائض واجبات کی بات ہورہی ہے....کیا نماز با جماعت صرف رمضان میں فرض ہے؟باقی سارے سال کچھ بھی نہیں؟کیا قران کریم معاذ اللہ سارے سال مٹی میں اٹا رہے اور رمضان میں نکال کر پڑھا جائے؟قرآن صرف رمضان کے لیے نازل کیا گیا ہے؟کیا دعا صرف رمضان میں مانگی جاتی ہے؟رب نے کیا کوئی قید لگی ہوئی ہے؟اس بات کو ٹھنڈے دماغ سے سوچیں،ہر انسان کو اللہ نے ضمیر دیا ہے،یھاں مزید کچھ لکھنے کے بجائے ایسے کرتے ہیں کہ یہ سوال خود اپنے سے کرلیں....تو انشاءاللہ احساس پیدا ہوجائے گا- عید کی رات:رہی بات عید کی رات کی تو اکثر لگوں کو اس کی اہمیت کا ندازہ نہیں...اس اکا انعم ہی لیلتہ الجائزہ یعنی عبادت کا انعام ملنے کی رات....یاد رکھیں یہ بھی عبادت کی رات ہے،ہلے گلے کرنے،بازاروں میں گھومنے کی راتیں نہیں.....جو اس رات کو زندہ کرے گا روز قیمت اس کاد ل مردہ نہیں ہوگا....جو عبادت رمضان میں کرتے رہیں ہیں وہ حسب توفیق اس رات بھی کرنے چاہیے.....رب پاک اتنے رحیم ہیں کہ تھوڑے ہی عمل پر اتنا دے دیتے ہیں کہ حد نہیں...یہ رات مزدور کو مزدروی ملنے کی رات ہے...لہذ رب سے خوب مغفرت مانگی چاہیے ......کمیاں کوتاہیاں رہ جاتی ہیں،ان کی بھی معافی مانگنی ہے.....استقامت مانگنی ہے.....بتائیے کہ کیا ایسی عظیم رات جب رب انعامات دے رہا ہوتا ہے تو اس سے مزدوری طلب کرنے کے بجائے بازاروں میں گھومنا چاہیے ؟؟؟اللہ پاک ہم سب کو عقل سلیم،فہم سلیم عطا فرمائے ورنہ یہ باتیں سمجھ نہیں آتیں؟شیطان آزاد ہوتا ہے ،ہم نہیں،ہم موت کے لبے تک اللہ کی محبت و خشیت کی زنجیر میں قید ہیں اور قید ہی رہنا چاہیے....اللہ پاک یہ محبت کی ،اسلام کی زنجیر ہم سے نہ چھینے ،اگر ہم اس سے خدانخواستہ دور ہونا بھی چھین تب بھی وہ اس زنجیر سے کھینچ کر ہمیں اپنے سے قریب کرلیں..آمین..... شوال کے چھے روزے:آگے شوال بھی آرہا ہے....لہذا اس میں چھے روزے رکھنے کا اہتمام بھی ہو جس کی فضیلت و ثواب از روئے حدیث پورے سال کے روزوں جتنی ہے-تو کون بے وقوف ہوگا جو ایسے سستے موقع کو گنوادے؟ - رمضان کا پیغام:رمضان جارہا ہے مگر ایک پیغام دے کر جارہا ہے ....اس کا پیغام یہ ہے کہ جب رب کے حکم پر سولہ سترہ گھنٹے حلال نعمت چھوڑ سکتے ہیں تو حرام کیوں نہیں؟آنکھوں کو حرام سے بچانا،کانوں کو حرام سننے سے بچانا،زبان کو حرام سے بچانا؟کیوں نہیں ہم اس کی فکر کرتے؟اگر ہم کہتے ہیں کہ ہمت نہیں تو ہم جھوٹے ہیں کہ جب روزے رکھ کر حلال کو چھوڑنے کی ہمت ہے تو حرام کو چھوڑنے کی ہمت کیوں نہیں؟دو منٹ میں نامحرم کو نہ دیکھنے کی ہمت کیوں نہیں؟اس پر بھی خود کا محاسبہ کیجیے....کچھ چیزیں انسان ضمیر سے سوال کر کے بھی سمجھ جاتا ہے......آخری بات کہ رمضان المبارک کے بعد بھی عبادت کا تسلسل جاری رکھیں،جو نور کمایا ہے ،اس نور کی حفاظت کی کوشش کریں او اسے خدار بازاروں ،حرام تقریبات،گناہوں کی نذر نہ کریں ،اس نور کی حفاظت کریں....اور رب پاک سے استقامت کی دعا مانگیں....اللھم یا مثبت القلوب،ثبت قلوبنا علی طاعتک.....اللھم انا نعوذ بک ان نرد علی اعقابنا بعد رمضان......دعا ہے کہ اللہ کریم ہماری غفلت،ناقدری کو معاف فرمادے.....ہماری مغفرت فرمائے اور ہمیں استقامت دے،زندگیوں میں برکت دے اور بار بار رمضان کا قیمتی موقع عطا فرمائے....آمین -
 
آخری بار ترمیم:
Top