السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی کی جانب سے تمام چاہنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر مبارک
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

رمضان آگیا ہے......!!🌙

اے صاحبان عرفان!رمضان آچکا ہے..........تمھارے سروں پر رحمت نے سایہ کرلیا ہے......مرے بھائی!یہ ماہ نفس کشی کا ہے.....اپنے نفس کو باطنی گندگیوں سے پاک کرنے کا.....کتنے ہی ایسے جانثار آئے جنہوں نے اپنی جانوں کا سودا کر کے،اپنے خون کو رب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر بہادیا......تمھارے اسلاف نے خون دے کر دکھایا.....تم سے مطالبہ رب کا صرف نفس اور حرام خواہشات کے خوں کرنے کا ہے.....نفس کشی اسی کو کہتے ہیں.....رمضان صبر کا مہینہ ہے......نیکیوں پر مداومت اور معصیت پر صبر کرنے کا نام ہے....استقامت،حوصلے کا نام ہے.......دیکھو!شہید کا خوں سب دیکھتے ہیں.......نفس کو جو رب کے لیے مارتا ہے،اس کا خوں صرف رب دیکھتا ہے......حرام خواہشات کا خوں کرنا...........یہ رب کو بہت پسند ہے اور اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ ولسم نے افضل الجہاد کا نام دیا ہے.......مرے بھائی!جب تم رب کے حکم کے آگے چودہ پندرہ گھنٹے جائز چیزیں چھوڑ سکتے ہو تو اپنی زندگی میں ناجائز چھیزاین کیوں نہیں چھوڑ سکتے.....یہی روزے کا پیغام اور سبق ہے............رمضان المبارک کی آمد آمد ہے-یہ ایک ایسا خاص ماہ ہے جس کا لمحہ لمحہ رحمات،انعامات،اور برکات سے معمور ہے-جس کا دن عید کا سے ہے اور جس کی ہر ہر رات شب برأت کی سی ہے-یہ ایسا ماہ ہے جس کی رونقیں گلی گلی محلے محلے میں نظر آتی ہیں-مساجد بھر جاتی ہیں،رات کے اندھیرے میں قرآن کی مہکتی مہکتی آواز ہر جگہ سے سنائی دیتی ہے-یہ ایسا ماہ ہے جو بندہ مومن کے لئے خوشخبریاں لے کر آتا ہے-نیکی کے طلب گار،جنت کے امید وار کے لئے خاص طور پر رمضان کا ماہ بہت اہمیت رکھتا ہے جس میں وہ سب سے کٹ کر خالق کائنات سے لو لگاتا ہے اور ایسے ہی لوگ ہیں جو رمضان کی رحمتوں کو حاصل کر کے اپنے دامن میں سمیٹ لیتے ہیں اور رب کے آگے مناجات و دعا و آہ و زاری کا سرور پانے کے ساتھ ساتھ رب کی رضا،محبت،مغفرت،رحمت،دوزخ سے خلاصی اور جنت کے ٹکٹ جیسی نعمتوں سے مالا مال ہوجاتے ہیں-جب کہ اس کے بر عکس افسوس و حسرت ہے اس پر جس کو رمضان ملا اور اس نے وہی لہو و لعب میں گزار دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ان میں سے ہوگیا جس کے بارے میں جبرائیل آسمان سے بد دعا لے کر آئے،بُعْدًا لِمَنْ أَدْرَکَ رَمَضَانَ فَلَمْ یُغْفَرْ لَهُ اور سید کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے تین بار ہی آمین بھی ادا ہوا-مرے اسلامی بھائی!اس بد دعا کی کیا رفتار و پرواز ہوگی ،اندازہ کیجیے.....محرومی ہے،افسوس ہے ،صد افسوس ہے اس غافل پر جو رمضان جیسا ماہ بھی یونہی گزاردے اور جب عید کا چند نظر آئے تو اس کی جھولی خالی ہو......آخر کو جس کی رمضان جیسے ماہ میں بھی بخشش نہیں ہوئی تو پھر کب ہوگی......جس کی رمضان میں مغفرت نہیں ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ إِذَا لَمْ یُغْفَرْلَهُ فِیْهِ فَمَتَی کہ پھر کب ہوگی؟؟اے مسلمان!رمضان کا ماہ روز روز نہیں آتا.....ایسے نہ ہو کہ تو یونہی کھڑا سوچتا رہا اور یہ ماہ یوں تیرے ہاتھ سے نکل جائے جسے کہ ریت ہاتھ سے پھسل جاتی ہے.....اور ایسا نہ ہوجائے کہ غفلت میں پڑے رہتے رہتے زندگی بھی ختم ہوجائے جیسا کہ برف پگھل جاتی ہے اور تو حسرت سے کھڑا رہ جائے اور کہتا رہ جائے کہ رب ارجعون.......اے بھائی!کیا تیری آنکھوں پر غفلت کی پٹی بندھی ہے کہ تو اپنے اس پاس دیکھتا نہیں کہ کتنے ہی ایسے تھے جو پچھلے سال تک تیرے ہی برابر میں صف میں کھڑے ہوکر تراویح پڑھا کرتے تھے،آج وہ منوں مٹی تلے دب چکے......کیا تو نے اپنے ہی پیارو ں کے،محلے والوں کے جنازے اٹھا کر قبر کی پاتال میں اتار دیے مگر غور نہیں کیا کہ یہ وہی روحیں تھیں جو پچھلے سال سحر افطار کرتی تھیں،آج نہیں.....کتنی ہی روحیں قبض کر لی گئیں.......کتنی ہی انفاس وفات پاگئیں.....کتنی ہی عمریں ختم ہوگئیں.......رب پاک نے تجھ پر،مجھ پر،احسان کیا،لطف فرمایا کہ باقی رکھا اور رمضان تک پہنچایا.....رمضان کے تقاضے کیا ہیں....اس ماہ کی قدر کیا ہے......اس کا سادہ سا جواب ہے لعلکم تتقون.....رب نے غافل بندوں کو پورے سال میں ایک ماہ دیا ہے جو سال بھر کی نجاستیں غلاظتیں کثافتیں بطنوں سے دور کردیں.....غافل بندوں کو دیا تاکہ وہ اس ماہ میں ہی کم از کم رب سے قرب حاصل کرلیں.....قربتیں تو بہت دیکھ لیں مگر آہ یہ قرب نہ دیکھا....لذتیں تو بہت حاصل کر لیں مگر آہ یہ نہیں کی......محبتیں تو بہت کرلیں مگر اپنے موجد سے نہیں کر کے دیکھی......مٹھاس تو بہت چکھی مگر عبادت کی حلاوت سے محروم رہے....یاسفی.....افسوس ہے!!اس شخص پر جو رب کو بھول جائے اور ایک ماہ ہی ،رمضان تک میں بھی وہ یونہی پڑا رہ جائے...........رمضان وہ ماہ ہے جس میں جنت بھی اپنے پر پھیلا کر اس کی طرف رغبت رکھنے والوں کو پکارتی ہے.....پناہ مانگنے والے،ڈرنے والے کے لئے دوزخ خود کہتی ہے کہ یارب!اس کو پناہ دے دے....ایسا ماہ کہ رب کی رحمتیں چوبیس گھنٹے،ہر آن موسھلا دار بارش کی طرح بہتی رہتی ہیں......وہی خوش نصیب ان سے بہرہ مند ہوتا ہے جو رب کی طرف لو لگالے،رب کی طرف جھک جائے،ذلیل ہوجائے،جو ان کی طرف سبقت کرے،رغبت کرے......... رمضان المبارک ایسا مہینہ ہے جس میں رحمات و برکات کے ساتھ ساتھ وسعت رزق،شفاء،عافیت،خیر،بھلائی بھی تقسیم کی جاتی ہے اور مومن بندوں کو دی جاتی ہے،لہذا اس ماہ میں رب سے ان چیزوں کا سوال بھی کرنا چاہیے......یہ ایک ایسا ماہ ہے جو ہر ٹوٹے دل کو جوڑ دیتا ہے.....تکلیف زدہ کی تکلیف کو دور کرتا ہے......ایک ایسا ماہ جس میں دو آنسو بہانے سے آپ ہر قسم کی تکلیف سے خلاصی پا سکتے ہیں...ہاں شرط ہے کہ عاجزی اور یقین سے رب کے آگے پڑے رہو............. رمضان المبارک کا ثواب رب پاک نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے کہ خود دیگا-اللہ کہتا ہے کہ انسان کا ہر عمل اس کے لیے ہے، سوائے روزے کے کہ وہ صرف میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ دوں گا......اور دیکھ لو کہ جب کریم اجر دیتا ہے تو وہ اس کا محتاج نہیں ہوتا کہ گن گن کر دے یا اسکو اپنے خزانے کی می کا خوف ہو...بلکہ وہ اتنا دیتا ہے جتنا چاہتا ہے.....وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ......ہاں!مگر صرف روزہ رکھ لینا کافی نہیں،،،،،اس کے تقاضوں کو پورا کرنا اصل ہے.....روزہ ایک ڈھال ہے......اس کو غیبت،جھوٹ،بدگمانی،بد گوئی،فحش گوئی جسے گناہ پھاڑ ڈالتے ہیں اور انسان کو خبر بھی نہیں ہوتی.....صرف روزہ تراویح پڑھ لینا کافی نہیں،بلکہ اس کی اصل بات تقوی کو مد نظر رکھنا اہم اور اس ماہ کا اصل تقاضہ ہے،تبھی ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس موقع کے لئے جب کوئی بدگوئی وغیرہ کرے کہ کہہ دو میں روزے سے ہوں....... یہ یسا ماہ تم پر عنقریب آنے والا ہے کہ جس میں تمہار رب منادی کرتا ہے کہ:اے خیر کے طالب آگے بڑھ....اے شر کے طالب رک جا..........آؤآؤ کہ رب سے اس کی رحمتوں کو حاصل کریں......آؤ آؤ کہ یہ ماہ بہت اہم ہے......اس کی قیمت کا کوئی اندازہ نہیں.....اس کی رحمات کی کوئی حد نہیں،کوئی حساب نہیں......رب کی مہربانیوں کو حاصل کرو....اس ماہ کو لہو میں نہ اڑادینا......اگر تم بیمار ہو تو اپنے نحیف ہاتھوں کو اس کے آگے بلند کر کے دکھڑا سناؤ......ایوب کے رب سے شفاء مانگو.....اگر تم بے اولاد ہو تو زکریا کے رب کے آگے اپنی ضرورت رکھو.....اگر تم غموم ھموم کے مارے ہو تو یونس کے رب کے آگے دو آنسو تو بہا کر دیکھو.....ایک ایک رات قیمتی ہے.....ایک ایک لمحہ قیمتی ہے......آؤ آؤ کہ یہ ماہ ایسے نکل جاتا ہے ہاتھ سے جسے ریت پھسل جاتی ہے.....بلکہ اس سے بھی جلد......لہذا اس کو غنیمت جانو...... رمضان کے اعمال میں سے تلاوت قرآن،نوافل،چاشت اشراق اوابین،ذکر اذکار جتنا ہوسکے،ہر عمل کو کرو....اور اگر تم عمل نہیں کرسکتے تو کم از کم تقوی سے رہ لو اور اپنے نفس کو جہاں تم نے جائز خواہشات سے روکا،وہیں حرام سے بھی روک لو،اگر تم نفلی عبادت نہیں کرسکتے تو اس پر واللہ کوئی گناہ نہیں ملے گا،ہاں تم اگر وہی گناہوں میں رہو گے تو تمہیں گناہ بھی ملے گا،اور دوگنا گناہ ملے گا.......جہاں نیکیوں کا ثواب بڑھ جاتا ہے تو گناہوں کا گناہ بھی تو بڑھ جاتا ہے............... اے مغفرت کے متمنی!رب تمہیں رمضان میں محبت کی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہے......رحمت کی نگاہ سے........وہ کہتا ہے کہ مانگو.......میں دونگا.....اپنا پیالہ لے کر اس کے در پر چلا یجانا پھر دیکھنا کیا نہیں ملے گا!! رمضان قربانی کا مہینہ ہے،نفس قربان کرنے کا،صدقه دینے کا،قرآن کا مہینہ،نوافل کا مہینہ ہے.......نفس کشی کا مہینہ ہے....کھانے پینے کا نہیں....آہ!کاش آج کے مسلمان رمضان کا مطلب سمجھ پائیں،اس کی قدر و قیمت کا اندازہ کرلیں.................. مسلمان بھائی!اس ماہ کے استقبال کے لئے خود کو تیار کرلے،مخلوق سے کٹ کر خالق سے جڑ جا...... مرے بھائی!رمضان رب سے قرب کا مہینہ ہے.......اس سے محبت کرنے کا مہینہ ہے.............اس شخص کے لئے خوشبختی ہے جس نے ان ایام اور لیال کو غنیمت سمجھا اور اپنے مولا کے قریب ہوا..........رمضان کی راتیں بڑی ہو نورانی ہیں.......وہ نور اسی کو محسوس ہوسکتا ہے جو خود کو بستر سے دور اور مصلی سے قریب رکھے.......تتجافی جنوبھم عن المضاجع کا مصداق بنے......اور پھر اس کے بدلے میں"فلا تعلم نفس ما أخفي لهم من قرة أعين"جسے انعامات کو پالے......آہ!وہ جو رمضان کی رات ہو،مصلی ہو،مناجات ہو ،آنسو ہوں،اور رب کے بجز کوئی تجھے دیکھنے سننے والا نہ ہو......اسی چیز کے لےے تو اہل دل ترپرتے ہیں،دن گن گن کر گزاراتے ہیں کہ کب یہ مہمان آئے گا،اس کے رخصت ہونے پر ان کی سسکیاں بندھ جاتی ہیں اور تو یہ گنتا ہے کہ رمضان کب ختم ہوگا،جلدی جلدی ختم ہوجائے!!!............جو رمضان میں بھی گناہوں سے نہ بچے تو وہ آخر کب بچے کا.....اور جو ایسے ماہ میں بھی رب کے قریب نہ ہوا تو آخر کب ہوگا...........!!
اے مسلمان بندے!کمر کس لے اور خود کو رب تعالیٰ کے سپرد کر دے.......اس نعمت کو ایسے ہی نہ سمجھ....اس کی قدر کا اندازہ اس صاحب قبر سے لگا جو رمضان کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے چلا گیا.....کیا معلوم تجھے بھی اگلا رمضان ملے نہ ملے..........کیا معلوم اگلا دن ملے نہ ملے.......اس لےے ہر ساعت کو قیمتی بنا.....اپنے لبوں کو ذکر الہی سے تر رکھے.....اپنے دل کو رب کی محبت سے لبریز رکھ....آنکھوں کو حیا سے سجا......اپنے جسم کو اس کی اطاعت میں لگا......اور عید کی رات سارے جہاں کے رب سے مزدوری لے.....اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم حیا کہ مزدور کو اسکی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے قبل دیدے......تیرا رب بھی تیرا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے تیرے دامن کو ہر نعمت ،دنیا آخرت کی کے سے بھر دے گا.....کر کے تو دیکھ......ایک بار تو آزمالے.....کتنے ہی رمضان تیری زندگی میں آئے اور تو نے فوت کردیے......مگر اب بھی لا تقنطو من رحمتہ اللہ کا آسرا رکھ...اپنی زندگی میں تبدیلی لا اور اسکا آغاز اس ماہ سے کر.....رمضان کا تقوی تو گیارہ ماہ کا تقوی بن جاتا ہے............ ے مسلمان بندے!کیا تو نے کبھی چولہے پر بھڑکتی پیلی نیلی آگ کا مشاہدہ کیا ہے.....جسے دکھتے ہی دل کانپنے لگ جائے......اگر وہ جسم پر ذرا سی بھی لگ جائے تو بلبلا اٹھے.....بڑے سے بڑے کی سسکی بندھ جائے.......اس وقت کا اندازہ کر جب"یؤتی بجھنم یومئذلھا سبعون الف زمام،مع کل زمام سبعون الف ملک یجرونھا"جہنم کی آگ تو ایسی ہے کہ پھاڑ بھی برداشت نہیں کرسکتے....اگر اہلِ دنیا پر ظاہر ہو تو زمین کے رہنے والے کُل کے کُل اس کی ہَیبت سے مر جائیں اور بقسم بیان کیا: کہ اگر جہنمیوں کی زنجیر کی ایک کڑی دنیا کے پہاڑوں پررکھ دی جائے تو کانپنے لگیں اور انہیں قرار نہ ہو، یہاں تک کہ نیچے کی زمین تک دھنس جائیں.........جب ہم سے یہاں دنے کی آگ نہیں برداشت تو وہ آگ کیا ہوگی جس سے سارا بدن جھلس جائے گا مگر موت نہ ہوگی......اس آگ کا کیا حال ہوگی جس سے دنیا کی آگ بھی پناہ مانگتی ہے.......مگر تعجب ہے انسان سے کہ جہنم میں جانے کا کام کرتا ہے اور اُس آگ سے نہیں ڈرتا جس سے آگ بھی ڈرتی اور پناہ مانگتی ہے...........مرے بھائی!دنیا نے اتنا مشغول کردیا ہے کہ تجھے یہ چیزیں سوچنے کا موقع ہی نہیں ملتا.....مرے بھائی!دوزخ سے آزادی کا یہ مہینہ ہے ......خاص طور پر اس کا تیسرا عشرہ دوزخ سے نجات ہے......رمضان کی آخری رات تو رب پاک خاص طور پر اتنوں کو دوزخ سے آزاد کرتے ہیں جس کا اندازہ کو نہیں.....لہذا رب سے نجات مانگ اور رمضان میں خود کو دوزخ کی آگ سے چھروالے......رب کے آگے انابت کر کے.....معافی مانگ کر.....تاکہ تجھے بھی دوزخ سے آزادی کا پروانہ مل جائے........ مرے بھائی!یہ پوچھ کہ اس ماہ میں کیا نہیں ملتا.....رحمت،مغفرت،معافی،بخشش،دوزخ سے نجات،جنت کا ٹکٹ،وسعت رزق،شفاء اور بھی ایسی ایسی خیر،بھلائیاں جو رب کے علم میں ہیں...... خلاصہ یہ کہ بس اپنے مولا سے دوستی لگا اور رمضان کی ایک ایک گھڑی کو قیمتی بنا اور ایسے ہی نہ اڑادے.....رب پاک تجھے،مجھے اور سب مسلمانوں کو اس ماہ کی برکات سے نوازے-آمین......
 
Top