السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی کی جانب سے تمام چاہنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر مبارک
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

مرحبا!!اے ماہ رمضان!!(تحریر ١)

رمضان کی تیاری - رمضان کی تیاری (پہلا منظر ): "سنیں اس سال کون کون سی ڈشیں بنانی ہیں -رمضان قریب ہے تیاری کرنی ہوگی -" آصفہ ترکیبوں کی کتاب کھولے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی - "وہی جو ہر بار بناتی ہو ،پیزا ،برگر ،کباب ،سموسے ہاں مگر سموسے گھر کے ہوں گے ،یہ رمضان سپیشل گزرے گا ،اس کے علاوہ کھانے میں پائے بھی -"حامد نے ہنس کر کہا - "پھر آج رانا بازار چلوں گی ،سامان لانا ہے پھر مصالحے وغیرہ پیس کر رمضان کی تیاری بھی تو کرنی ہے -" ہاں لے چلوں گا -مگر پہلے اپنی دکان چلا جاؤں -رمضان سے پہلے کسٹمر بڑھ جاتے ہیں -" رمضان کی تیاری (منظر دوم ): "ارے راجو دھیان سے کام کر -"حامد نے راجو کو ٹوکا - دو دن سے وہ کھجوروں ،چاول اور بیسن کے حساب میں مصروف تھا ،کتنی بوری چاول منگوانے ہیں ،کتنی بوری بیسن ،کھجوریں کتنی ،اس کے پارٹنر نے یہ کام اس کے ذمے ہی لگایا تھا -رمضان سے پہلے اور دوران ان چیزوں کی بکری تب زیادہ ہوتی ہے جب وہ معیاری ہوں -حامد کہتا تھا کہ رمضان کمانے کا مہینہ ہے مگر افسوس یہ بھول گیا تھا کہ رمضان نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے - رمضان کی تیاری منظر سوم : "ماریہ !میں حضرت کے پاس چالیس دنوں کے لئے جارہا ہوں -" رمضان میں دو ماہ باقی تھے جب بابر نے بیوی کو بتایا - "کیوں -" "اری ماریہ !رمضان کی تیاری بھی تو کرنی ہے ناں -کہتے ہیں کہ رمضان تقوی سے گزارو اور تقوی اللہ والوں کی صحبت سے ملتا ہے ،چالیس دن رمضان کی تیاری کروں گا ،نمازیں درست کروں گا تو ہی یہ رمضان اچھا گز رے گا -"ماریہ نے سر ہلادیا - یہ معمول بابر کا پچھلے دس برسوں سے تھا - ******** پہلا روزہ تھا -آصفہ دوپہر کو ہی میاں کی فرمائشیں پوری کرنے کچن میں آ گئی تھی -آج کے مینیو میں پیزا ،سموسے ،کباب ،کچوریاں اور کھانے میں بریانی اور پاۓ تھے -پھر پیزا میں کس قدر محنت ہوتی ہے ،میدہ گوندھو ،چکن بناؤ ،سبزیاں کاٹو ،آصفہ دوپہر سے مشغول تھی -حامد چیزیں بنا بنا کر فریز کرنے سے منع کرتا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ تازہ کھانے کھائے-آصفہ نہ عصر پڑھ سکی ،نہ مغرب اور نہ اسے دعا کا وہ قیمتی وقت ملا جب مچھلیاں روزے دار کی دعاؤں پر آمین کہتی ہیں -آصفہ ان مبارک دنوں کچن میں مشغول رہتی اور حامد دکان میں کہ کمانے کا مہینہ ہے ،دوسری طرف بابر جیسے ایسے صالح لوگ تھے جو دکان ملازمین کے حوالے کر کے خود عبادت میں ،نیکیاں کمانے میں مصروف رہتے ہیں اور بیوی کو بھی ترغیب دیتے ہیں کہ یوں نظام الاوقات بناؤ کہ عصر کے وقت فروزن سموسے وغیرہ نکال کر تل لو اور پھر باقی وقت عبادت میں صرف کرو کیونکہ رمضان کھانے کا مہینہ نہیں- ********* ماریہ ،حامد کی بہن تھی -پندرھویں روزے کو آصفہ اور حامد ،بابر کے گھر گئے-یہ حیرت کی بات تھی کہ بابر نہ دکان پر جاتا ور ماریہ سادے سادے کھانے پکا کر مغرب کے وقت مصلی پر پہنچ جاتی -ان کا یہ نظام الاوقات حامد اور اصفہ کو ناگوار گزر رہا تھا -ایک دن کھانےپر آصفہ نے ماریہ سے پوچھ ہی لیا -ماریہ چہرے پر مسکان سجا کر بولی -"دیکھیں کتنوں کو رمضان نہیں ملا ،اللہ پاک کی ہم پر مہربانی ہے کہ ہمیں اس قدر مبارک مہینہ نصیب فرمایا -مگر ہم نے رمضان کو کھانے اور کمانے کا مہینہ سمجھ رکھا ہے -بیویوں پر سختی کرتے ہیں کہ یہ پکاؤ وہ پکاؤ اور وہ بچاری عبادت ہی نہیں کرسکتی -لہذا ہمارے بزرگ یہ کہتے ہیں کہ پیسے پھر کمائے جا سکتے ہیں، ابھی نیکیاں کماؤ اور بیوی کے لئے بھی آسانی پیدا کرو ،اسی وجہ سے ہم نے یہ معمول بنا رکھا ہے -"ماریہ نے جونہی بات ختم کی تو آصفہ نے حامد کی طرف دیکھا -اس کی آنکھوں میں عمل کا جذبہ تھا اور وہ بزبان حال ماریہ کی باتوں کی تائید کر رہا تھا -اب حامد اور آصفہ نے بھی بابر کے گھر جیسا معمول بنانے کا ارادہ کرلیا تھے -
 
Top