السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

ہم اپنے قارئین کی آرا کی بہت قدر کرتے ہیں ـ امید ہے کہ آپ ماضی کی طرح اب بھی ہمیں اپنی قیمتی رائے سے نوازتے رہیں گے۔
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

"مقام معاویہ رضی اللہ عنہ❤️(اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں)"

"مقام معاویہ رضی اللہ عنہ(اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں)" (مع آپ پر ہونے والے چند اعترضات کا جواب) (ماخوز از خطاب: علامہ مسعود الرحمن عثمانی شہید رحمہ اللہ) جلیل القدر ،مظلوم ترین صحابی پر چند معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں-میری مراد خال المسلمین،فاتح شام و قبرص،سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات گرامی ہے -حضرت معاویہ وہ عظیم ترین صحابی کہ ہیں ان کو اللہ نے مقام صحابیت سے بھی نوازا،ان کے والد ابو سفیان رضی اللہ عنہ بھی صحابی،والدہ ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا بھی صحابیہ،بھائی یزید بن ابو سفیان رضی اللہ عنہ بھی صحابی،ہمشرگان بھی صحابیات،ایک ہمشیرہ ام المومنین ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بھی ہیں جو میری ،آپ کی ہم سب کی ماں ہیں،یہ ا عزاز بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حاصل ہے-کاتب وہی ہونے کا عزاز بھی آپ کو ملا،بیت اللہ کے غلاف کا بھی آپ نے سب سے پہلے آغاز فرمایا،حدیث پاک کا مفھوم ہے کہ جو سب سے پہلے بحری رستے سے جہاد کا آغاز کرے گا اس پر جنت واجب ہے،اس کا آغاز بھی سب سے پہلے سیدنا معاویہ نے کیا،پھر نبوت کے مقاصد بیان کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا لیظھرہ علی الدین کلہ،کہ یہ دین سارے ادیان پر غالب ہوگا،اس غلبے کی تکمیل کا سبب بھی اللہ پاک نے حضرت معاویہ کو بنایا-اور بھی دیگر کئی اعزازات سے اللہ پاک نے آپ کو نوازا- جب کسی عام مسلمان سے بغض رکھنا جائز نہیں تو صحابہ کرام سے بغض رکھنا کیسے جائز ہوگا؟کسی بھی صحابی سے معمولی بغض بھی رکھنا،ذرہ برابر برائی بھی دل میں رکھنا،ایمان کی تباہی،ایمان کے سلب ہونے کا،اور نجات مشکل ہونے کا ذریعہ بن سکتا ہے-یہ معمولی بات نہیں-اس لیے جو صحابہ سے متعلق آپ کے ذہن میں شکوک و شہبات ڈالے جاتے ہیں نا،اسے علماء کی صحبت میں بیٹھ کر دور کردینا چاہیے-ایک واقعہ ہے کہ جنازہ لایا گیا،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھانے سے انکار فرمادیا،عرض کیا کہ یہ نماز بھی پڑھتا تھا،کلمہ بھی پڑھتا تھا،آپ اس کا جنازہ کیوں نہیں پڑھارہے،تو فرمایا یہ مرے صحابی عثمان سے بغض رکھتا تو اللہ نے اسے مبغوض کر دیا،اس لیے میں اس کا جنازہ نہیں پڑھارہا-(مفھوم)- جیسے آج کل تمام صحابہ کرام کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے،اسی انداز میں حضرت معاویہ کو بھی طعن و تشبیع اور تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے-فرق یہ ہے کہ باقی صحابہ کے خاص خاص کچھ معاملات کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہر ہر معاملے کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے-آپ کے صحابی ہونے پرتنقید،آپ کے کاتب وحی ہونے پرتنقید،آپ کے والدین پر،آپ کے قبیلے پر،آپ کے دور خلافت پر،یہاں تک کہ آپ کے نام مبارک اور اس کے معنی تک پر تنقید......ہر لحاظ سے آپ پر تنقید کی جاتی ہے-اسی لیے میں نے کہا کہ آپ عظیم ترین صحابی بھی ہیں اور مظلوم ترین صحابی بھی- آپ کو جھوٹے قصے گڑھ کر،فضول قسم کے شوشے چھوڑ کر بدنام کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں-اور ان بدبختوں کا انداز اس طرح کا ہوتا ہے کہ روایت پیش کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ایک بار یزید کو کندھے پر بٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاذ اللہ جہنمی پر جہنمی سوار ہو کر جارہا ہے-اس کی علمی تحقیق تو علماء بتائیں گے،عوام کی سمجھ کے لئے یہ سادہ سی بات کہتا ہوں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یزید پیدا ہی نہیں ہوا تھا-بےشک اس کی تاریخ ولادت دیکھ لیں-اور ان بکواس کرنے ولوں نے حضرت معاویہ کو بدنام کرنے کے لئے یزید کو پیدا بھی کردیا اور کندھے پر بٹھا کر نبی صلی للہ علیہ وسلم کے سامنے سے گزار بھی دیا- بڑے دکھ کی بات ہے کہ آج کل کے تو مسلمان بھی ان بدبختوں کی باتوں میں آجاتے ہیں-صحابہ کرام کی عظمت،رفعت کا پتا کچھ ہوتا نہیں ہے اور ان کی باتوں سے متاثر ہوجاتے ہیں-جہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ ہمارے ایمان کا حصہ ہیں،وہیں حضرت معاویہ بھی ہمارے ایمان کا حصّہ ہیں-جہاں تمام صحابہ کی عظمت کا پرچار ہماری ایمانی ذمہ داری ہیں،وہیں حضرت معاویہ کی عظمت کا پرچار کرنا بھی ہماری ایمانی ذمہ داری ہے-آپ کے خلاف جو پروپیگنڈا کیا جاتا ہے،فلاں کتاب کا حوالہ دے کر،فلاں تاریخ کا حوالہ دے کر تو یہ جملہ یاد رکھیں کہ صحابہ کرام تاریخی شخصیات نہیں ہیں،وہ قرآنی شخصیت ہیں-حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی قرآنی شخصیت ہیں-ان کو اگر سمجھنا پرکھنا ہے تو عوامی کتابوں سے نہیں،تاریخ سے نہیں،مورخ و محقق کی کتابوں سے نہیں،اللہ کی نظر میں دکھیے کہ مقام معاویہ کیا ہے-جیسے کہ بتایا نا کہ آج کل لوگ باتوں میں آجاتے ہیں کہ فلاں اتنا بڑا علامہ فہامہ،اتنا بڑا مورخ،محقق،وہ جو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بکواس لکھ رہا ہے ،وہ غلط نہیں ہوسکتا-تو اس پر بھی علمی نہیں ایک سادہ بات کہتا ہوں کہ مجھے بتاؤ کہ اس محقق و مورخ کا علم بڑا ہے یا میرا اور آپ کا رب بڑا ہے؟وہ بڑا ہے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بڑی ہے؟جس اللہ نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو پیدا کیا وہ معاویہ کو بہتر جانت ہے یا چودہ سو سال کے بعد کا مورخ بہتر جانتا ہے؟جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی صحابہ کی طرح حضرت معاویہ کی تربیت کی،وہ نبی اپنے صحابی کو،وہ استاد اپنے شاگرد کو،وہ پیر اپنے مرید کو بہتر جانتا ہے یا چودہ سو سال کے بعد کا قلم کار بہتر جانتا ہے؟ ...... "قرآن کی نظر میں مقام معاویہ رضی اللہ عنہ" اب قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اللہ کیا کہتے ہیں-قرآن کریم میں بارہ سو سے زیادہ مقامات شان صحابہ،مقام صحابہ،صحابہ کے مقام و تقوی،طہارت امانت،صداقت،دیانت کے بارے میں تعریف و توصیف و تذکرہ و تائید کرتے ہیں-ان سب آیات کا مصداق حضرت معاویہ کی بھی ذات گرامی ہے- قرآن کہتا ہے اولئک ھم المؤمنون حقا،محبوب کے صحابہ پکے سچے مومن ہیں،ان پکے سچے مومنوں میں سے ایک پکا سچا مومن معاویہ بھی ہے- قرآن کہتا ہے اولئک ہم المتقون،محبوب کے صحابہ متقی ہیں،ان میں سے ایک متقی معاویہ بھی ہے،قرآن کہتا ہے اولئک ہم المفلحون،محبوب کے صحابہ کامیاب ہیں،ان کامیابوں میں سے ایک کامیاب معاویہ بھی ہے-قرآن کہتا ہے اولئک حزب اللہ،یہ تمام صحابہ مجھ رب کی جماعت ہیں،اس جماعت کا ایک رکن معاویہ بھی ہے-اولئک ھم الرشدون،اولئک ھم المھتدون،محبوب کے صحابہ ہدایت یافتہ ہیں،ان میں سے ایک ہدایت یافتہ معاویہ بھی ہے- پھر قرآن ایک اصول بتاتا ہے کہ "فان امنو بمثل.....الی آخر "قیامت تک آنے والی انسانیت کے لیے صحابہ کو معیار حق و معیار ایمان و صداقت بتایا کہ ان کی طرح ایمان لاؤ گے(ان سے مراد جہاں ابو بکر و عمر و عثمان و علی اور تمام صحابہ بھی ہیں،وہاں معاویہ رضی اللہ عنھم اجمعین بھی ہیں)کہ ان کی طرح ایمان لاؤ گے،ہدایت بھی ملے گی،نجات و جنت بھی ملے گی،اللہ کی رضا بھی ملے گی!! پھر بدبخت اگر اعترض ڈالیں ذہنوں میں کہ ان آیات کا مصداق مقام معاویہ کیسے ہوگیا-یہ تو انصار اور مہاجرین صحابہ کے لئے آیات ہیں-تو یاد رکھیں صحابہ کے دو نہیں،تین طبقات ہیں-جیسے کہ قرآن کہتا ہے والذین آمنو و ھاجرو و جھدو فی سبیل اللہ،یعنی وہ صحابہ جو ایمان لائے،ہجرت کی اور جہاد کیا-اس سے مراد مہاجرین صحابہ ہیں- پھر فرمایا والذین آوو و نصرو،یعنی جو مدینہ طیبہ میں دین کی مدد،معاونت اور خدمت کرنے والے ہیں،ان سے مراد انصار صحابہ ہیں-ان دونوں طبقوں کی فضیلت بیان کی کہ اولئک ھم المؤمنون حقا،کہ وہ پکے سچے مومن ہیں،لھم مغفره،بشری تقاضوں کی بنا پر کوئی غلطی ہوگئی تو رب نے مغفرت کا علان بھی کردیا،وہ رزق کریم اور ان کے لیے رزق کریم بھی ہے-رزق سے مراد علم،فضیلت وغیرہ سب کچھ ہے-تو یہ دو طبقات کی فضیلت بیان ہوگئی- اب اس کا جواب کو دماغ خراب کرتا ہے کہ یہ مہاجرین انصار کی فضیلتوں میں حضرت معاویہ کہاں سے آگئے؟تو اس کے لئے سورے انفال کی آخری آیت پڑھ رہا ہوں جس سے پتا چلتا ہے کہ مہاجرین انصار کے علاوہ صحابہ کا ایک اور طبقہ بھی ہے-اللہ کو جو عالم ما کان وما یکون ہے،پتا تھا کہ کوئی بدبخت آئے گا،جو میرے صحابہ سے متعلق طرح طرح کے تبرے کر کے ان کو تنقید کا نشانہ بنائے گا،تو اس سورت انفال میں جہاں اللہ نے مہاجرین انصار کی فضیلت بیان کی،وہاں اس بدبخت طبقے کی بات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ بھی بتادیا: "والذین آمنو من بعد و ھاجرو و جاھدو معکم"کہ وہ صحابہ جو بعد میں ایمان لائے،بعد میں ہجرت کی،بعد میں جہاد کیا تو اللہ نے ان کا مقام بھی بیان کیا کہ"فاولئک منھم"وہ بھی ان مہاجرین انصار کے ہر معاملے میں ہر لحاظ سے شامل ہیں-ان میں حضرت معاویہ اور بھی جو صحابہ بعد میں ایمان لائے،شامل ہیں- اس اعتبار سے مقام معاویہ سمجھ آگیا؟بھر کوئی پروپیگنڈا کرتا ہے کہ بات تو ٹھیک ہے،مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو حضرت معاویہ ٹھیک تھے،مگر بعد میں انہوں نے یہ کیا وہ کیا،یہ گڑبڑ کی،جنگ صفین،معاذ اللہ اہل بیت سے ٹکر لے لی،یہ ہوگیا وہ ہوگیا....تو قرآن نے اس بدبختی کے انداز کو بھی سمجھ لیا تھا اور بیان کیا: "والسبقون الاولون من المھاجرین والانصار،والذین اتبعوھم باحسان رضی اللہ عنھم و رضو عنہ....."پہلے مہاجرین کا مقام بیان کیا،پھر انصار کا پھر فرمایا کہ جو ان کی تابعداری کرنے والے ہیں،ان میں حضرت معاویہ بھی آگئے-تو ان کا مقام کیا ہے؟اللہ کہتا ہے رضی اللہ عنھم و رضو عنہ،میں اس محبوب کے تمام صحابہ(معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت)سے راضی اور تمام صحابہ مجھ رب سے راضی- پھر کوئی بدبخت کہے کہ پہلے تو اللہ راضی ہوئے تھے،مگر پھر انہوں نے یہ کیا،وہ کیا،وہی جو تاریخ میں لکھا ہوا ہے،تو اللہ ناراض ہوگئے-اس کی سادہ بات تو یہ ہے کہ میں کہتا ہوں اس بدبخت کو کہ تمہیں کیسے پتا چلا کہ اللہ ناراض ہوگئے؟کیا اللہ نے تمھارے پاس جبریل کو بھیجا تھا کہ میں معاویہ سے ناراض ہوگیا؟دوسری ا سکی علمی بات یہ ہے کہ مفسرین نے لکھا ہے اللہ کی رضا کی صفت ، صفت حادثہ نہیں،صفت قدیمہ ہے-مطلب کہ جیسے ہم کسی سے خوش ہوتے ہیں کہ اچھا کام کرلیا،مگرتھوڑی دیربعد پھر ناراض بھی ہوجاتے ہیں،اللہ کے ہام مگر ایسا نہیں ہوتا-اس کی رضا والی صفت قدیمہ ہوتی ہے-اللہ کو معلوم تھا کہ میرے محبوب کے تمام صحابہ(معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت)ایمان،تقوی،طہارت،صداقت کے جن جذبوں پر آج فائز ہیں،مرتے دم تک رہیں گے-اسی لحاظ سے جو حضرت معاویہ اور تمام صحابہ سے رضا کا اعلان کیا،وہ عارضی نہیں بلکہ دائمی ہے- ایک اور آیت ہے سورہ حدید میں کہ "لا یستوی منکم...الی آخر"کہ جو فتہ مکہ سے قبل ایمان لائے اور جو بعد میں لائے،ان میں مراتب کا فرق ضرور ہے مگر اللہ کہتے ہیں ان سب کو یہ بھی بتادو"و کلا وعد اللہ الحسنی"معاویہ سمیت تمام صحابہ جنتی ہیں...اس لیے کہتے ہیں کہ "ہر صحابئ نبی(صلی اللہ علیہ وسلم)،جنتی جنتی"!! اللہ سورہ عبس میں فرماتے ہیں:"فی صحف مکرمہ....سے لے کر،کرام بررہ"کہ جو قرآن کی کتابت کرنے والےہاتھ ہیں،یہ اللہ کے نزدیک بڑے نیکوکار اور مبارک لوگ ہیں-پاکیزہ ہاتھوں،پاکیزہ دل و دماغ سے یہ اللہ کا کلام لکھتے ہیں-اللہ کاتبین وحی کی شان بیان کر رہا ہے جس میں سے نمایاں نام حضرت عثمان غنی،حضرت معاویہ اور حضرت زید بن حارثہ کا ہے-پھر کوئی بدبخت کہے کہ قرآن تو فتہ مکہ پر مکمل نازل ہوچکا تھا،حضرت معاویہ تو بعد میں ایمان لائے،تو نہیں وہ حجتہ الوداع پر مکمل ہوا تھا-حضرت معاویہ اس موقع پر ایمان لائے،بعدمیں بھی قرآن کریم نازل ہوا،انہوں نے اس کی کتابت بھی کی جس کو پڑھ کر آج ہم سعادت حاصل کرتے ہیں-کچھ کہتے ہیں کہ جی حضرت معاویہ نےصرف خطوط لکھے تھے،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منشی تھے،تو میں کہا کرتا ہوں کہ نبی کا منشی ہونا کیا کم مقام ہے،کم نعمت ہے؟؟اور اگر بالفرض قرآن نہیں لکھا تھا،خطوط بھی لکھے تو"وما ینطق عن الھوی،ان ھو الا وحی یوحی"مقام و صفت میں یہ خطوط بھی وحی کا درجہ رکھتے ہیں-تفصیل سے جانا چاہیں تو پھر وہ متلو غیر متلو والی بات آجاتی ہے-خیر،تو یہ ہے حضرت معاویہ کا قرآن کی نظر میں مقام و مرتبہ اور اللہ کا ان سے رضا کا علان!!(رضی اللہ عنہ و رضو عنہ)اللہ کی کروڑوں رحمتیں نازل ہوں- نبی صلی الله علیہ ووسلم کی نظر میں مقام معاویہ رضی اللہ عنہ : اب مختصرا حضرت معاویہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں مقام بتانا چاہتا ہوں-فضائل تو بہت سارے ہیں مگر مختصر بیان کروں گا-اس سے پہلے مگر ایک بات سمجھ لیجیے تاکہ آگے والی بات صحیح سے سمجھ آئے-تمام انبیاء کرام مستجاب الدعوات ہوتے ہیں یعنی وہ جو مانگتے ہیں،رب دے دیتا ہے،مگر اگر یہی کبھی ترتیب سے ہٹ کر ہو تو رب روک بھی دیتا ہے-جیسے حضرت نوح علیہ السلام نے بیٹے کے لیے دعا کی تو اللہ نے منع کردیا کہ اب مت مانگنا،یہ میں نہیں دوں گا،وہ تمہارا بیٹا نہیں ہے-اور بھی کئی مثالیں ہیں-ایک اور مثال کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چچا ابو طالب کے لیے استغفار کیا اور مغفرت کی دعا کی-اس پر بھی رب نے روک دیا مانگنے سے کہ یہ نہیں دوں گا-اب آج اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطہر،پاکیزہ،نبوت والے ہاتھ اٹھتے ہیں معاویہ کی عظمت کے لئے !اللہ نے نہیں روکا کہ یہ مت مانگنا،یہ بندہ ٹھیک نہیں ہے،معاذ اللہ اہل بیت کا دشمن ہے-اللہ نے چچا سے مانگنے کے لئے جب روکا تو یہاں بھی روک دیتے اگر بندہ ٹھیک نہیں تھا معاذ اللہ-مجھے بتاؤ کیا اللہ نے مانگنے سے روکا؟منع کیا؟اور ایک بار نہیں،کئی بار نبوت والے ہاتھ اٹھے معاویہ کے لئے،اللہ نے کبھی نہ روکا نہ منع کیا،نلکہ جو مانگا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لئے، وہ دے بھی دیا-آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ!معاویہ کو ھادی بنا،مہدی بنا اور اس کے ذریعے سے ہدایت کو عام فرما-ایک بار مانگا کہ اللہ!معاویہ کو کتاب و حساب کا علم سکھا اور اسے عذاب سے بچا-ایک بار حضرت معاویہ،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار پر سوار کہیں جارہے تھے-آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے بڑے پیار سے پوچھا کہ معاویہ!آپ کے جسم کا کون سا حصہ میرے جسم سے مس ہورہا ہے؟عرض کیا کہ میرا پیٹ آپ کی کمر سے ملا ہوا ہے-آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ ایک بار پھر اٹھے کہ اللہ!اس معاویہ کے پیٹ کو علم و حلم سے بھردے-آج حضرت معاویہ کا جو مقام و مرتبہ ہے،وہ سب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا نتیجہ ہے- ایک بار آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ معاویہ میرا رازدان ہے،جو اس سے محبت کرے گا نجات پائے گا،اور جو بغض رکھے گا ہلاک ہوگا-(مفھوم)ایک بار کوئی مسئلہ درپیش تھا-صحابہ کرام کو بلایا گیا،بات پوری نہ ہوسکی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیرے لئے معاویہ کو بلاؤ،وہ قوت والا بھی ہے اور امانت دار بھی ہے- اب بتاؤ کہ اس کے بعد کسی مورخ کی ضرورت ہے؟کسی کی بکواس کی ضرورت ہے؟کسی بدبخت کی تحقیق کی ضرورت ہے؟ان بدبختوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ جو رب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں معزز و مکرم تھے،آج چودہ سو سال کے بعدتجھے خیال آیا کہ معاذ اللہ وہ ٹھیک نہ تھے؟اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی برائی نظر نہ آئی اور تجھے نظر آگئی..... "حضرت معاویہ کے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت بھرے تعلقات" رہی بات کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ،حضرت علی کے مقابلے میں کیوں آئے؟تو یاد رکھیں کہ وہ مقابلہ نہیں،مطالبہ تھا-خون عثمان کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ-دونوں کا موقف اپنی اپنی جگہ درست تھا مگر دشمنوں نے لڑائی کردی-دو میدان لگے،میدان لگنے کے بعد ایک موقع آیا جب شہداء کی نماز جنازہ پڑھائی جانے لگی-حضرت علی کے طرفداروں کی میتیں لائی گئیں تو دو چار میتیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے طرفداروں کی بھی آگئیں-کسی کے منہ سے نکلا کہ یہ تو اس گروپ کے ہیں-حضرت علی نے فرمایا خبردار!یہ سب میرے ہیں-اور ان سب کے لیے اللہ کی طرف سے مغفرت ہے اور سارے جنتی ہیں-ایک اور موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ میرا اور معاویہ کا رب ایک ہے،میرا اور معاویہ کا نبی ایک ہے،ایک ہی کتاب قرآن پر ہمارا ایمان ہے،نہ علی ایمان میں معاویہ سے بڑھ کر ہے اور نہ معاویہ ایمان میں علی سے بڑھ کر ہے(یعنی یہ بتارہے ہیں کہ ہمارا ایمان بھی ایک جیسا ہے)فرمایا اختلاف ہمارا صرف عثمان کے قاتلوں کے بارے میں ہوا ہے،باقی ہمارا سارا معاملہ ایک ہے- حضرت علی تو یہ کہہ رہے ہیں اور بکواس کرنے والا بدبخت ،اہل بیت سے محبت کا دعوی کرنے ولا،حضرت علی کے سارے ارشادات بھلا کر،انہی کا نام لے کر حضرت معاویہ پر معاذ اللہ گالیاں نکال رہا ہے،تنقید و تبرے کر رہا ہے- اور دوسری طرف حضرت معاویہ کا بھی اختلاف کے باوجود حضرت علی پر اعتماد اور محبت دیکھ لیں-رومی بادشاہ نے پیشکش کی کہ حضرت علی کے مقابلے میں آپ کے پاس فوج بھیج دیتا ہوں-حضرت معاویہ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا: او لعنتی انسان!اگر تو اپنی عادتوں سے باز نہ آیا اور اپنے ملک واپس نہ گیا تو میں تیرے خلاف اپنے چچا زاد بھائی(علی رضی اللہ عنہ)سے صلح کرلوں گا اور تجھے یہاں سے نکال دوں گا اور زمیں کو باوجود وسعت کے تیرے اوپر تنگ کردوں گا- حضرت علی رضی اللہ عنہ کے انتقال پر ان کی باتیں سنتے ہوئے حضرت معاویہ اس قدر روئے تھے کہ داڑھی مبارک تر ہوگئی تھی-یہ تو ان کے آپس کی محبت ہے جس کی دلیل قرآن بھی دیتا ہے کہ "رحماء بینھم"-اور آج ان بدبختوں کو،بے ایمانوں کو حضرت معاویہ کا نام برداشت نہیں- توکیا حضرت معاویہ کی عظمت کا پرچار کرو گے؟ان کا مقام شان عظمت رفعت ،گھر میں،ہر جگہ عام کرو گے؟ ان کا دفاع کرو گے؟اس پر محنت کرو گے؟تو کہہ دو "معاویہ رضی اللہ عنہ ،زندہ باد" اور "معاویہ رضی اللہ عنہ کے دشمن پر لعنت،بے شمار"،اذا رایتم الذین یسبون اصحابی فقولو لعنت اللہ علی شرکم........
 
Top