السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

ہم اپنے قارئین کی آرا کی بہت قدر کرتے ہیں ـ امید ہے کہ آپ ماضی کی طرح اب بھی ہمیں اپنی قیمتی رائے سے نوازتے رہیں گے۔
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

"ہم سب کے پیارے معاویہ"❤️(آپ کے اسم پر اعترض سے متعلق چند معروضات)

بنت عبد الحق

رجسٹرڈ ممبر
(ماخوز از خطاب:علامہ مسعود الرحمن عثمانی شہید رحمہ اللہ):- --کچھ لوگ ہوتے ہیں کہ ان کو کہو کہ بچے کا نام معاویہ رکھ لو تو کہتے ہیں کہ معاذ اللہ وہ تو بڑا غلط آدمی تھا،یہ کیا وہ کیا،پھر کہتے ہیں نام کے معنی ٹھیک نہیں،پتا نہیں کیا بھونکنے کے معنی ہیں،لومڑی کے اور بھی کیا کیا....تو پہلے تو یہ بات سمجھ لیجیے کہ صحابہ کرام ،انبیاء کے نام اگر رکھنے ہوں تو معنی نہیں دیکھے جاتے،نسبت دیکھی جاتی ہے-جسے کہ عباس نام کا مطلب ہے ترش رو،برا منہ بنانے والا ،مگر ہمیں معنی سے کیا مطلب،ہم تو رکھیں گے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چچا کا نام تھا،نام معنی دیکھ کر نہیں،نسبت دیکھ کر رکھتے ہیں- دوسرا یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل تھا کہ کوئی اسلام قبول کرتا تو اگر نام غلط ہوتا،معنی غلط ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نام تبدیل فرمادیتے تھے-حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا نام عبد الکعبه تھا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نام بدل کر عبد اللہ رکھ دیا-عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی پیدا ہوئی،نام عاصیہ یعنی نافرمان رکھا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر جمیلہ رکھ دیا-فاطمہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہوا،والد نے نام حرب رکھا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدل کر حسن رکھ دیا-پھر بیٹا پیدا ہوا،نام پھر حرب رکھا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نام بدل کر حسیں رکھ دیا-ایک شخص کا نام عبد الشر تھا،بدل کر عبد الخیر رکھ دیا-اس طرح کی ڈھیروں مثالیں ہیں-بلکہ ابواب بھی موجود ہیں کتابوں میں-تو اب جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کلمہ پڑھا،مسلمان ہوئے تو اگر نام غلط ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم تبدیل کردیتے،مگر کچھ نہیں کہا کہ نام غلط ہے،بدلو....اب اس پر بکواس کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نظر انداز کردیا تھا،ٹرخا دیا تھا -تو اگر نظر انداز کر بھی دیا تو بعد میں خلفائے راشدین،صحابہ کرام کسی نے نہ روکا،نہ ٹوکا....نہ صرف یہ بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی معاویہ کو معاویہ کہہ کر پکار رہے ہیں،اے معاویہ،معاویہ ادھر آؤ اور یہ لکھو،معاویہ کو بلاؤ،معاویہ اس بات میں مشورہ دو....اللہ!معاویہ کو حساب و کتاب کا علم سکھا،تو اگر نام معنی غلط ہوتا تو اللہ ہی کہہ دیتے کہ محبوب!یہ نام اپنی زبان پر مت لائیں ،مگر کیا ہے کوئی ایسی روایت موجود جس یمی معاویہ نام کو غلط کہا گیا ہو،.....حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نام غلط نہ لگا،آج ان بکواس کرنے والوں کو غلط لگ رہا ہے...... پھر ایک اور بات کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ان کو معاذ اللہ ٹرخا بھی دیا تھا تو صحابہ میں سترہ نام معاویہ کے ہیں-کیا سب کو ٹرخا دیا؟کسی کو تو کہتے کہ بدلو.....اور نہ صرف اتنا بلکہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروالوں،اہل بیت میں دس نام معاویہ کے صحابہ ہیں....کسی کو نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا نہ صحابہ نے....مثال کے طور پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زد بھائی کا نام معاویہ،علی رضی اللہ عنہ کے داماد کا نام معاویہ جن کے نکاح میں رملہ نامی بیٹی تھی-عرب رشتہ دینے سے پہلے قبیلہ،نام نسب سب دیکھتے ہیں-حضرت علی نے نہیں کہا کہ پہلے نام بدلو،پھر بیٹی دوں گا-پھر حضرت حسین کے بھتیجے کا نام معاویہ،حضرت حسن کے پوتے کا نام معاویہ،حضرت امام جعفر کے دو شاگردوں کے نام معاویہ.....
رہی بات معاویہ نام معنی کے-وہ بتادیا کہ نسبت میں معنی کی ضرورت ہی نہیں مگر پھر بھی جن لوگوں کے ذہن میں فتور ہو،وہ نکل جائے -تو اس نام کے کئی معنی ہیں،لسان العرب میں دیکھ لیجیے،کسی چھوٹے سے کتابچے کا نہیں،بڑی کتاب کا نام لے رہا ہوں،کئی جلدوں کی ہے،اس میں معاویہ نام کے بہت مطلب ہیں،چند بتاتا ہوں-تیس سال کے کڑیل جوان کو معاویہ کہتے ہیں،سورج جہاں غروب ہوتا ہے،اس میں سے ایک منظر کا نام معاویہ ہے-دو لوگوں میں پنجہ آزمائی ہو،جو جیتے اسے معاویہ کہتے ہیں-دو لشکر ٹکرائیں،جو فاتح ہو اسے معاویہ کہتے ہیں-ایک شخص اپنی قوم کو آواز دے اور سب جمع ہوجائیں،اسے معاویہ کہتے ہیں-اس کے سوا بھی کئی معانی ہیں-اتنے خوبصورت معنی.....اہر بھی کچھ کہتے ہیں اس کا مطلب بھونکنے کے ہیں-تو یاد رکھیں اس کے معنی بھونکنے کے نہیں،بھونکانے کے ہیں-دونوں الفاظ میں بہت فرق ہے-اس کی وجہ یہ صبح ہونے سے قبل تین ستارے نکلتے ہیں-ان امین سے ایک ستارہ کا نام المعاویہ بھی ہے-پہلے زمانے میں تہجد وغیرہ کا اندازہ بھی اسی سے لگایا جاتا تھا-اب تو خیر گھڑیاں آگئیں-تو کتے جو ساری رات عیاشی میں گزارتے ہیں جب وہ دکھاتے ہیں کہ یہ ستارہ نکل آیا،اب صبح ہوجاۓ گی،ہماری عیاشی فحاشی ختم ہوجائے گی تو وہ چار ٹانگوں والا کتا ستارے کو دیکھ کر بھونکتا ہے-تو اب بتاؤ کہ ستارہ کبھی بھونکا ؟ستارے کا تو کام ہے چمکنا،تو وہ کتے کو بھونکانے کا سبب بنا-یہ ہے معاویہ کا مطلب-اب اسی انداز میں حضرت معاویہ نامی ستارہ چمکا،اسلام کی روشنی پھیلی،لیظھرہ علی الدین کلہ کی تکمیل کا سبب اللہ نے حضرت معاویہ کو بنایا،تو یہ بدبختوں کو برداشت نہ ہوا،اور اب یہ دو ٹانگوں والا کتا اس ستارے کو دیکھ کر بھونکتا ہے،تبرا کرتا ہے،بکواس کرتا ہے....تو یہ معنی ہیں بھونکانے کے-یعنی کہ اس سبب سے کتا بھونکا.....

تو نام ٹھیک،معنی ٹھیک ،اعترض کرنے والے،عظیم صحابی رسول پر بکواس کرنے والے کی نیت نہیں ٹھیک ،اس کی سوچ نہیں ٹھیک،اس کا عقیدہ نہیں ٹھیک.....الله اور اس کے رسول کو،صحابہ کو،امام جعفر صادق کو یہ نام کوئی برا نہیں لگا،کوئی اعترض نہیں ہوا اور آج یہ کہتا ہے کہ معاویہ کے یہ معنی،وہ معنی،فلاں یہ،فلاں وہ......اگر انسان کا سوچ نظریہ اچھا ہو،ٹھیک ہو تو اچھی چیزیں مل جاتی ہیں،جسے کہ میں نے کتنے خوبصورت معنی بتائے،اور اگر ذہن ہی گندا ہو پھر کیا کہا جائے.......
اس لیے اب عھد کرو کہ ہر گھر میں ایک معاویہ ضرور ہوگا-جس کا بیٹا ہو گا وہ نام معاویہ رکھے گا.....ایک خاتوں کا بھی یاد آیا کہ انہوں نے نیت کی ہوئی تھی کہ بیٹا ہوگا تو نام معاویہ رکھیں گی،مگر بیٹی ہوئی تو اسی کا نام مقدس معاویہ رکھ دیا-اسے محبت کہتے ہیں،تو مجھے یاد آیا کہ انصار کے سب سے پہلے صحابی حضرت رافع رضی اللہ عنہ،ان کی والدہ کا نام معاویہ تھا،تو بچیوں کے نام بھی اس انداز امین رکھا چاہیں تو رکھ سکتے ہیں جسے ان خاتون نہیں رکھا-
تو اس نام کو عام کریں،اس پر محنت کریں تو ان شاء اللہ،نہ صرف لوگوں کے،بلکہ مساجد،مدارس،چوراہوں،ہر کسی کا نام معاویہ نظر آئے گا....اور نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا میں جہاں دیکھیں گے معاویہ ہی معاویہ ہوں گے...ان شاء اللہ تعالیٰ!
*************** اب آخر میں معاویہ نام رکھنے پر فتوی بھی ملاحظہ فرما لیجیے جو اس تحریر کا خلاصہ بھی ہے: "واضح رہے کہ جب کوئی نام کسی صحابی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہو اور رسول اللہ ﷺ نے وہ نام سننے کے باوجود اسے تبدیل نہ کیا ہو تو اس کے معنیٰ کی طرف توجہ دینے کی ضرورت نہیں؛ کیوں کہ کسی نام کے باسعادت اور بابرکت ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ کسی صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔
بصورتِ مسئولہ ’’معاویہ‘‘جلیل القدر صحابی کا نام ہے، حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کاتبِ وحی تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں کئی صحابہ کرام کے ناموں کو تبدیل فرمایا ہے، وہیں بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ناموں کے لفظی معنیٰ سے صرفِ نظر فرماتے ہوئے انہیں تبدیل نہیں فرمایا جو ان ناموں کے درست ہونے اور ان کے استعمال کےلیے شرعی دلیل ہے؛ لہٰذا ’’معاویہ‘‘ نام رکھنا ایک جلیل القدر صحابی رضی اللہ عنہ کا نام ہونے کی بنا پر باعثِ برکت ہے، خصوصاً ایسی جگہ جہاں اس نام کو لوگ پسند نہ کریں تو ، ناحق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بغض رکھنے والوں کی تردید اوران سے براء ت کے لیے اس نام میں ثواب کی بھی امید ہے۔ فقط واللہ اعلم"
فتوی نمبر : 144106200059
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

******************
"آقا نے ان کو مہدی و ھادی کی دی دعا❤️
تا حشر جگمگاۓ گا وہ جلوۂ ھُدیٰ❤️
ہے رہبری پہ اب بھی منارِ معاویہ❤️
اللہ اور رسول کے پیارے معاویہ"
❤️(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
 
Top