السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

ہم اپنے قارئین کی آرا کی بہت قدر کرتے ہیں ـ امید ہے کہ آپ ماضی کی طرح اب بھی ہمیں اپنی قیمتی رائے سے نوازتے رہیں گے۔
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

🌸"اور اگر تم اللہ کی نعمتیں گنو توانہیں شمار نہ کر سکو گے، بیشک انسان بڑا ظالم ناشکرا ہے .......!!🌸

آج پہلی بار مجھے شعور و احساس ہوا تھا کہ میرے ہاتھ تو بڑے" بدصورت "ہیں🖐🏿🤙🏿.......میں بار بار دل میں غم کی کیفیت لیے اپنے موٹے ہاتھ جسے بھدے ،کالے کھردرے ہاتھ دیکھ رہی تھی-انگلیاں ٹھگنی موٹی کالی....ناشکری اور شکوے کے احساس نے مجھے گھیر لیا تھا-میں نے زندگی میں کبھی خوبصورت عورتیں دیکھی ہی نہیں تھیں....اور دیکھتی بھی کیسے.....ہم شروع سے ہی غریبوں کے گھر پیدا ہوئے،بڑے ہوئے،خاندان کی عورتوں کو ماسی کا کام کرتے دیکھا اور مردوں کو کبھی گاڑی دھوتے،کبھی مستری کا کام کرتے اسی طرح کے کاموں میں دیکھا-ہمارے ارد گرد کے لوگ میری ہی طرح تھے....مجھے کیا پتا کہ یہ خوبصورت عورتیں کسی ہوتی ہیں....یہ تصور جیسی نازک نین و نقوش والی....وہ تو کل میں پہلی بار کوئی نواب زادیوں کی محفل میں چلی گئی توپتا چلا...باجی کے گھر کام کرنے آئی تو کہنے لگی کہ تم مرے ساتھ دعوت میں چلو،شزی بہت تنگ کرتی ہے،بات ہی نہیں کرنے دیتی،اسے گود میں لے کر بیٹھ جانا-اففف!میں تو وہاں جا کر چکرا کہ رہ گئی-دودھ کے جسے رنگ والی سرخ و سفید لڑکیاں....میں تو ان کے درمیان قسم سے کوئلہ لگ رہی تھی....نرم و نازک پتلے بدن،پتلے پتلے سے چٹے ہاتھ....اور انگلیاں کیا بتاؤں کتنی بارک تھی....افففف.....پھر ان میں رنگا رنگ انگوٹھیوں نے ان کے ہاتھوں کی خوبصورتی اور بھی دوبالا کردی تھی.....میں تو بس شزی کو پکڑے اپنے میلے سے ،کالے موٹے ہاتھ چادر میں چھپائے بیٹھی تھی شرمندگی سے....مجھے یوں لگ رہا تھا جسے مرے ہاتھ کسی مرد کے ہوں....کوئی ہفتہ دس دن میں اسی شکوے میں قید رہی.....ان لڑکیوں نواب زادیوں کے ہاتھ اور مرے ہاتھ!!میں نے گھر جا کر اپنی انگوٹھیوں کے ڈبے کو دیکھا تو خود ہی ہنس پڑی....اپنی بیوقوفی پر....بھلا ایسا کلے کھردرے بدصورت ہاتھوں میں بھی کوئی پاگل انگوٹھیاں پہنتا ہے!!وہ جو سنہرا چھلا میری انگلی سے عرصے سے جڑا ہوا تھا،وہ بھی میں نے بددلی سے اتار کر الماری میں پھینک دیا تھا..... ہفتہ دس دن بعد...... باجی پھر کہنے لگی کہ آج ایک عزیزہ کے گھر جانا ہے،پچھلی دعوت میں تم نے شزی کو بہت اچھا سنبھالا تھا،آج بھی چلنا-میں چاہنے کے باوجود بھی انکار نہ کرسکی تھی....وہ باجی کی خالہ کا گھر تھا-ان کی بہو بھی صوفے پر بڑی سی چادر اوڑھے بیٹھی تھی-ویسی ہی تھی جیسی میں نواب زادیوں کود دیکھ کر آئی تھی....چٹی سفید،خوبصورت اور پتلی دبلی....وہ تو آرام سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی اور سارا کام بیچاری بوڑھی خالہ کر رہی تھیں-کچن کے کام،بھاگ دوڑ،ایک چھوٹا بچہ بھی تھا،یہ روتا تو بہو اشارہ کرتی،خالہ کام چھوڑ کر اسے لے کر ٹہلنے لگتی-میں حیران یہ سب مناظر دیکھ رہی تھی کہ جوان بہو ہے،خود کام کیوں نہیں کرتی،خالہ بوڑھی کر رہی ہے...پھر اسی وقت بہو اٹھ کر کسی کام سے گئی تو میں نے باجی سے سے پوچھا-باجی دبی دبی آواز میں بولی:اچھا ہوا تم اس کے سامنے نہیں بولی،اس بیچاری کے ہاتھ نہیں ہیں،بچپن میں حادثاتی طور پر کٹ گئے تھے....اسی وقت میں نے اسی لڑکی کو آتے دیکھا تو اس کے بازو مجھے چادر سے نظر آگئے تھے....وہ منظر مرے لئے لرزانے کے لیے کافی تھا-اس کے بازو کلائیوں تک تھے،ہاتھ نہیں تھے....میں کانپ کر رہ گئی....لمحوں میں میری آنکھیں نم ہوگئی تھیں..کچھ سوچ کر......یہ ہاتھ کتنی بڑی نعمت ہیں .....اگر میں بھی اس لڑکی کی طرح ہوتی تو.....میں آگے سوچ نہ سکی تھی....میں نے اپنے کالے بھدے ہاتھ جو چادر میں چھپائے ہوئے تھے...نکال کر دیکھے....مجھے آج اپنے"ہاتھی جسے موٹے.کالے ہاتھ"نجانے کیوں بہت خوبصورت نظر آرہے تھے.....کہ مرے رب نے مرے لئے بنائے ہیں....میں بڑی محبت سے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی....مجھے آج پہلی بار شعور اور احساس ہوا تھا کہ مرے ہاتھ کتنے "خوبصورت "ہیں!!!.....🤚🏻🤏🏻👍🏻
 
Top