السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

ہم اپنے قارئین کی آرا کی بہت قدر کرتے ہیں ـ امید ہے کہ آپ ماضی کی طرح اب بھی ہمیں اپنی قیمتی رائے سے نوازتے رہیں گے۔
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

🛕ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے.....علامہ مسعود الرحمن عثمانی شہید....

”الوداع اے عثمانی شہید!....ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے.....!“ (پیکر صدق و وفا،حق سچ کی نشانی،پیکر اخلاص،ثانی اعظم طارق،وکیل صحابہ،جبل استقامت،خطیب بے بدل،حضرت علامہ مسعود الرحمن عثمانی شہید رحمہ اللہ) علامہ عثمانی شہید رحمہ اللہ!وہ عظیم انسان کہ جس کا حوصلہ ہمالیہ کی طرح بلند،جس کا دل آب زم زم سے زیادہ پاک و صاف،جس کا ذہن چراغوں کی طرح نور افروز،رزم میں مجاہد میدان،آنکھوں میں ایمان کا نور،پیشانی پر تقوی کا نور،کمر میں صبر کی تلوار،روش پر تسلیم رضا کی عبا،ہاتھ میں استقامت کا عصا،پاؤں میں ثبات کے موزے،آواز مردانہ وجاہت و وقار کی گونجتی صدا،الفاظ کا جوہری،مطالب کا شناور... اس کی جدائی کا صدمہ اتنا بڑا ہے کہ غم میں سورج بھی سیاہی کی چادر اوڑھ لے...چاند اپنی روشنی کھودے تو بھی کم ہے....محفل اجڑ گئی،بہار خزاں میں بدل گئی،ہر طرف سکوت طاری ہے،آنکھوں پر اختیار ختم ہوچکا،دل بے تاب ہوا،،یوں دھڑکا جیسے قیامت آگئی،سسکیوں نے تسلسل اختیار کیا،آہوں نے بنجر دل میں ڈیرہ ڈال دیا،کرب اتنا شدید ہے کہ دل سنبھالے نہیں سنبھل رہا.... رخصتیاں تو اور بھی ہوتی ہیں مگر اس کی رخصتی کچھ ایسی تھی کہ گمان ہوا اپنے ساتھ اہل جہاں کے دل بھی ساتھ لے گئی،سب کے جگر شق کر گئی،لگتا ہے کہ اب عمر بھر کے لئے یہ کلیجہ کٹتا رہے گا.....آنکھیں اب جلسوں اور کانفرنس کے اشتہاروں میں اس کا نام دیکھنے کو ترس گئیں،سماعت اسکی آواز کی متلاشی.....ان للہ ما اخذ و لہ ما اعطی،و کل شئی عندہ باجل مسمی....! علامہ عثمانی شہید!آپ تو کامیاب ہو کر اپنے رب کے پاس پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی مزدوری لینے چلے گئے....لہو سے وضو کر کے اپنے رب کے دربار میں سرخرو ٹہرے-”ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ“کی فضیلت حاصل کر کے سکوں کی نیند سو گئے.... اے جنت جانے والے!جنت کا سفر مبارک ہو....سرمدی راحتیں،ابدی نعمتیں مبارک ہوں! آپ کے لئے میں کیا لکھوں؟آپ کی زندگی تو مثل شمس و قمر تھی....آپ کی جمعے کی دن کی اور بائیس جمادی الثانی کی مبارک تاریخ کی شہادت اور آپ کے جنازے میں امڈ آئی خلقت نے بتادیا کہ آپ،اللہ رب العزت کے کتنے قریب تھے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کو کتنا پیار تھا-امام حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کئی سو سال پہلے کہ ہمارے جنازے بتائیں گے کہ کون حق پر تھا...علامہ عثمانی شہید!آپ کے جنازے نے بھی بتادیا کہ آپ صحیح رستے پر تھے کہ غلط پر..... آپ کے لئے دعا کیا کریں؟ہمیں تو اللہ سے گمان بلکہ یقین ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق آپ کے مقدس خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی آپ کی مغفرت کردی گئی ہوگی-جنت کی خوشبو نے آپ کے قدم مبارک چومے ہوں گے -آپ تو ان شاء اللہ بخشے بخشائے جنت کی طرف کوچ کر گئے،دعا کی ضرورت ہے تو آپ کی جدائی سے چھلنی روحوں کو صبر اور حوصلے کی دعا کی ضرورت ہے..... جان تو سب کی جاتی ہے،سب کی ہی جانی ہے ’کل من علیھا فان‘مگر جس بہادری و محبت سے آپ صدیق رضی اللہ عنہ پر نثار ہوئے،وہ قابل تحسین و قابل رشک ہے.....ہم آپ کو اس مقام پر فائز ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں،خراج تحسین پیش کرتے ہیں -شہادت عظمت ہے،رفعت ہے،سعادت ہے،بلندی کامیابی کامرانی ہے..... علامہ عثمانی شہید!آپ کی یاد بہت آئے گی.....یہ زخم بھرنے والا نہیں ہیں......آپ کی جدائی زندگی کے ہر موڑ پر محسوس ہوگی....آپ خود تو آرام کی نیند سوگئے مگر اپنے چاہنے والوں کی نیندیں غائب کرگئے..... آپ کا لہجہ،آپ کا انداز،آپ کا گرجنا،آپ کا للکارنا.....ہمیں بہت یاد آئے گا عثمانی صاحب!بہت زیادہ...... ڈیڑھ ماہ قبل اپنے والد کے انتقال پریتیمی کے غم میں اور شفیق باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے کرب میں بلک بلک کر رونے والے عثمانی صاحب!آپ خود تو بہت ہی جلد اپنے والد سے جاملے،مگر اپنے چاہنے والوں کو یتیم کر گئے،آپ کا سایہ بھی تو آپ کے کارکنان کے لئے ایک شفیق باپ کا سا تھا،اس کو آپ بلکتا سسکتا روتا چھوڑ گئے: ''تیرے بعد ہر لمحہ جاری ہیں آنکھوں سے آنسو - یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا-'' اب کون گرجے گا تیرے انداز میں؟اب کون للکارے گا تیرے انداز میں؟اب ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے؟آپ تو لاکھوں میں نہیں اربوں میں ایک تھے...... آپ کو آج شہید کہتے اور لکھتے ہوئے قلم جھجھک رہا ہے،جسم میں جھرجھری ہے،ہاتھوں پر لرزاں طاری ہے،یقین ہی نہیں ہورہا کہ آپ آج ہمارے درمیان نہیں....مگر آہ!فیصلے کسی کے یقین کرنے نہ کرنے پر موقوف نہیں ہوا کرتے....لیکن خیر یہ بات ضرور ہے کہ اپنے مشن و نظریے کے ذریعے آپ ہمارے درمیان،ہمارے ساتھ مرتے دم تک رہیں گے...... ”زمین کے تاروں سے ایک تارہ آسماں کے تاروں سے جاملا تیری مرگ ناگہاں کا مجھے اب تک یقیں نہ ہوا“ آپ ہمیں سکھا گئے،پڑھا گئے،سمجھا گئے کہ یوں بھی زندگیاں گزرتی ہیں....آپ کو صحابہ رضی اللہ عنھم سے واقعی پیار تھا تبھی تو آپ کی زندگی انہی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی....مسکنت،سادگی،تقوی،خشیت،شجاعت،قناعت و توکل،صبر و استقامت،رضا بالقضاء،زہد،جود و سخا.....!! وہ جنتی شخص جس کی دن رات کی لاکھ مصروفیت کے باوجود ہمیشہ،جوانی سے ہی تہجد،اشراق،اوابین و چاشت کی پابندی رہی-وہ متقی کہ جوانی سے ہی شمائل طیبہ اور خصائص حمیدہ کا حامل....وہ سادگی کا پیکر،جو مسکینی اور اخلاص سے بھری زندگی گزار گیا.....بس اس درویش کی ہر بات صحابہ سے شروع ہو کر صحابہ رضی اللہ عنھم پر ختم ہوتی تھی-اور پھر زندگی بھی جب ختم ہوئی تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر ختم ہوئی!... وہ کہ جب بولتا تھا تو صحابہ رضی اللہ عنھم کی تعریف کے موتی اس کے دہن سے جھڑتے تھے.....وہ جسے اگر دلچسپی تھی تو صرف صحابہ رضی اللہ عنھم سے تھی...وہ کہ اگر اسے خوشی ملتی تھی تو اپنے صدیق و عمر رضی اللہ عنھما کا ذکر کر کے ملتی تھی- وہ جسے عشق و محبت تھا تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی تھا-اسے سکوں اگر ملتا تھا تو صحابہ کے لئے مشقتیں برداشت کر کے ملتا تھا..... اسکی روح تو نفس المطمئنہ تھی....وہ تو بڑے یقین سے کہا کرتا تھا کہ ہم اگر صحابہ کے لئے جیل چلے گئے تو کیا ہوگیا؟خوشی سے چلے جایئں گے کہ صحابہ کے لئے ہی تو گئے ہیں نا!.....آخر میں بھی اس نفس المطمئنہ کو صدیق رضی اللہ عنہ کے نام پر قربان ہو کر ہی سکوں ملا: ”عشق کا بیمار تیرا نام لے کر سوگیا مدت کے بے قرار کو قرار آگیا“ وہ تو ایسا عاشق تھا جس کی صبح صحابہ،جس کی شام صحابہ،جس کی رات صحابہ،جس کی خاموشی صحابہ،جس کی گویائی صحابہ،جس کی زندگی صحابہ،جس کی موت صحابہ!!رضی اللہ عنھم اجمعین...... دنیا سے اسے کوئی محبت نہ تھی-بس صحابہ رضی اللہ عنھم سے تھی-تبھی تو وہ ساری زندگی دربدر رہا.....کبھی ایک جگہ کرائے کے مکان پر،کبھی دوسری جگہ کرائے کے مکان پر،کس چیز نے اسے مجبور کیا کہ وہ عیش و عشرت ترک کر کے تکلیفوں میں رہے؟کیا چیز تھی کہ اسے ان تکلیفوں میں ہی سکوں ملتا تھا؟؟کیوں وہ اتنے عرصے عرصے اپنی ماں کی ممتا سے محروم رہا؟کیوں عرصے عرصے باپ کی زیارت و شفقت سے محروم رہا؟کیوں اپنے بچوں کو یتیم کرگیا؟یہ اس کا عشق ہی تو تھا صحابہ سے.....وہ تو دیوانہ تھا صحابہ کا....!! جو اس دعا کی عملی تصویر تھا''اللھم احینی مسکینا و امتنی مسکینا''اور''اللھم لا عیش الا عیش الاخرہ''- وہ تقوی کا پیکر جس نے ساری زندگی اسمارٹ فون کے فتنے اور فوٹو گرافی سے خود کو بچایا....اتنی مقبولیت کے باوجود اسے کوئی نشہ نہ تھا فوٹو گرافی کا،تصویریں نکالنے کا بلکہ اس نے تو بہت پہلے ہی صاف کہہ دیا تھا کہ”تصویر قطعی طور پر حرام ہے،میں کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ میری تصویر نکالے یا چلائے،آج کے بعد جو میری تصویر لے گا اس کا گناہ،اس کے سر ہوگا،تصویری کام کے بجائے تعمیری کام پر توجہ دیں“ سیاست کے مرکز اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی سیاست سے کوسوں دوربلکہ اس کا کہنا تو تھا کہ میں سیاست پر لعنت بھیجتا ہوں،نہ ٹکٹوں کی چھینا جھپٹی میں شامل،نہ گاڑی نہ بنگلہ،نہ ڈالر....... اسلام آباد کا ترقی یافتہ جدید ماحول اور دنیا کی کشش و رنگینیاں اس کے قلب سلیم پر کچھ اثر نہ کرسکیں.....کچھ مرعوب نہ کرسکیں،اپنے رنگ میں کوئی نہ رنگ سکیں......دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے الگ تھلگ،اپنی دنیا کے لئے اس نے کچھ نہ کیا،کچھ نہ رکھا،بس اپنی آخرت سنوار کر،صحابہ رضی اللہ عنھم کی محبت سے بھرا دل لے کر چلا گیا-ان شاء اللہ آج وہ’فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘ہوگا!! اسے نہ دولت سے محبت تھی،نہ عزت سے،نہ شہرت سے،نہ راحت سے،نہ امارت سے،نہ سیاست سے...وہ چاہتا تو ایک بنگلہ یہاں لیتا،ایک بنگلہ وہاں لیتا،یہ گاڑی رکھتا،وہ پراڈو رکھتا....مگر نہیں نہیں...... عثمانی کے لئے بھلا یہ کیسے ممکن تھا؟؟اس کے سامنے توقرآن تھا.....نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کی زندگیاں تھیں..... ’سابقوا إلی مغفرۃ من ربکم وجنۃ‘پر عمل کرتے ہوئے وہ زندگی گزار گیا.....آج جب گیا تو متاع الحیاۃ الدنیا نہیں بلکہ صحابہ رضی اللہ عنھم کی محبت کا درس چھوڑ کر گیا ہے.....میدان کارزار میں نہیں ہوتے ہوئے بھی اس کی ساری زندگی جہاد میں گزری..... صحابہ کا دفاع کرنا اس کی روح کی غذا،دل و بدن کا سکوں،درودوں کا مداوا اور بیماریوں کی شفاء تھی.... وہ صرف کھڑے ہوکر صحابہ کی عظمت پر بات نہیں کرتا تھا بلکہ اس کی عملی،خانگی زندگی بھی صحابہ رضی اللہ عنھم کی زندگی کا نمونہ تھی..... آخری بیان میں بھی اس نے یہی پیغام دیا کہ”تمام صحابہ ہمارے ایمان کی بنیاد اور معیار ہیں،ہم نے ان کی تابعداری اور محبت کے ساتھ زندگیاں گزارنی ہیں“ وہ اصلی عاشق تھا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب سے اس کی محبت سچی تھی تبھی تو یہ بات تھی کہ اس کی زندگی نے صحابہ کی زندگیوں کی یاد کرادی-مسکنت کی زندگی نے حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کرائی جنہوں نے فرمایا تھا کہ عائشہ!ہمیں دنیا سے کیا غرض!عثمانی شہید کو بھی دنیا سے کیا غرض تھی؟! ”نہ گلوں سے مجھ کو مطلب،نہ گلوں کے رنگ و بو سے کسی اور سمت کو ہے میری زندگی کا تارہ“ اس کے اخلاص و سادگی نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی یاد کرائی،شہادت کے شوق و جرأت نو عمر رضی اللہ عنہ کی یاد کرائی،استقامت و حوصلے نے بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی یاد کرائی!...... جو عھد رب سے کیا تھا وہ اسے خوبصورتی سے نبھا گیا،”من المؤمنین رجال صدقو ما عاھدو اللہ علیہ“ ”جو عھد رب سے کیا تھا وہ نبھا گیا ہم اس کی فرقت میں رورہے ہیں وہ مسکراتا چلا گیا“ زندگی کے آخری بیان میں بھی''خلیفہ بلا فضل کون؟''کے نعرے لگانے والا خلیفہ بلافضل کی وفات کی ہی تاریخ کو ان کے قدموں میں پہنچ گیا!!کیا نصیب تھا،کیا قسمت تھی اس کی!!- علامہ مسعود الرحمن عثمانی شہید!اللہ کے جانباز شیر!! آپ کے پاکیزہ خون کا قطرہ قطرہ بہت قیمتی تھا مگر آہ!آہ!دشمن نے اسے بہت فالتو خیال کیا! کیا آپ کا خون اتنا سستا تھا کہ دن دیہاڑے سولہ گولیوں کی بوچھاڑ میں بہادیا جائے؟؟ خیر!آپ کو کیا غم،آپ کی روح تو جنتی تھی جو چون سال اپنا کام مکمل کر کے واپس اپنی اصلی جگہ جنت پہنچ گئی!!ارجعی الی ربک.....مگرآہ!آپ کے پیچھے رہ جانے والوں کا غم...... آہ!آبپارہ کی جس چوک میں اسی جگہ کھڑے ہو کر کل تک آپ شیر کی طرح گرج رہے تھے،آج اسی جگہ آپ کی جنت منتقلی کی تقریب.......! ”اے فرشتہ اجل کیا خوب تھی تیری پسند- پھول وہ چنا جو سارے گلشن کو ویران کر گیا“ آپ تو جنت الفردوس روانہ ہوگئے ان شاء اللہ....روز قیامت آپ اس حال میں اٹھیں گے کہ آپ کے زخموں سے خون شہیداں ابلتا ہوگا جسکی مہک مشک کی سی ہوگی!(مفھوم حدیث مبارکہ)ع: ”کل خون شہادت میں لتھڑا،یہ جسم انہیں دکھلائیں گے“ آپ کا وہ مشک بار لہو جس کی بوند بوند میں اللہ رب العزت،محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم،ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور دیگر چمنستان نبوت کے پھولوں کی محبت رچی بسی ہوئی تھی،وہ پاکیزہ خون اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز ضائع نہ جانے دے گا.....اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ...... آپ کے قاتلوں سے آپ کے معطر و منور خون کے قطرے قطرے کا حساب لیا جائے گا اور آپ کے خون کی بوند بوند رنگ لائے گی....ا ن شاء اللہ تعالیٰ مگر آہ!یہ تلخ حقیقت کہ: ”چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے چمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے ہمارے بعد ہی خون شہیداں رنگ لائے گا یہی سرخی بنے گی زیب عنواں ہم نہیں ہوں گے!!“
 
”الوداع اے عثمانی شہید!....ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے.....!“ (پیکر صدق و وفا،حق سچ کی نشانی،پیکر اخلاص،ثانی اعظم طارق،وکیل صحابہ،جبل استقامت،خطیب بے بدل،حضرت علامہ مسعود الرحمن عثمانی شہید رحمہ اللہ) علامہ عثمانی شہید رحمہ اللہ!وہ عظیم انسان کہ جس کا حوصلہ ہمالیہ کی طرح بلند،جس کا دل آب زم زم سے زیادہ پاک و صاف،جس کا ذہن چراغوں کی طرح نور افروز،رزم میں مجاہد میدان،آنکھوں میں ایمان کا نور،پیشانی پر تقوی کا نور،کمر میں صبر کی تلوار،روش پر تسلیم رضا کی عبا،ہاتھ میں استقامت کا عصا،پاؤں میں ثبات کے موزے،آواز مردانہ وجاہت و وقار کی گونجتی صدا،الفاظ کا جوہری،مطالب کا شناور... اس کی جدائی کا صدمہ اتنا بڑا ہے کہ غم میں سورج بھی سیاہی کی چادر اوڑھ لے...چاند اپنی روشنی کھودے تو بھی کم ہے....محفل اجڑ گئی،بہار خزاں میں بدل گئی،ہر طرف سکوت طاری ہے،آنکھوں پر اختیار ختم ہوچکا،دل بے تاب ہوا،،یوں دھڑکا جیسے قیامت آگئی،سسکیوں نے تسلسل اختیار کیا،آہوں نے بنجر دل میں ڈیرہ ڈال دیا،کرب اتنا شدید ہے کہ دل سنبھالے نہیں سنبھل رہا.... رخصتیاں تو اور بھی ہوتی ہیں مگر اس کی رخصتی کچھ ایسی تھی کہ گمان ہوا اپنے ساتھ اہل جہاں کے دل بھی ساتھ لے گئی،سب کے جگر شق کر گئی،لگتا ہے کہ اب عمر بھر کے لئے یہ کلیجہ کٹتا رہے گا.....آنکھیں اب جلسوں اور کانفرنس کے اشتہاروں میں اس کا نام دیکھنے کو ترس گئیں،سماعت اسکی آواز کی متلاشی.....ان للہ ما اخذ و لہ ما اعطی،و کل شئی عندہ باجل مسمی....! علامہ عثمانی شہید!آپ تو کامیاب ہو کر اپنے رب کے پاس پسینہ خشک ہونے سے قبل ہی مزدوری لینے چلے گئے....لہو سے وضو کر کے اپنے رب کے دربار میں سرخرو ٹہرے-”ومن الناس من یشری نفسہ ابتغاء مرضات اللہ“کی فضیلت حاصل کر کے سکوں کی نیند سو گئے.... اے جنت جانے والے!جنت کا سفر مبارک ہو....سرمدی راحتیں،ابدی نعمتیں مبارک ہوں! آپ کے لئے میں کیا لکھوں؟آپ کی زندگی تو مثل شمس و قمر تھی....آپ کی جمعے کی دن کی اور بائیس جمادی الثانی کی مبارک تاریخ کی شہادت اور آپ کے جنازے میں امڈ آئی خلقت نے بتادیا کہ آپ،اللہ رب العزت کے کتنے قریب تھے اور آپ سے اللہ تعالیٰ کو کتنا پیار تھا-امام حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کئی سو سال پہلے کہ ہمارے جنازے بتائیں گے کہ کون حق پر تھا...علامہ عثمانی شہید!آپ کے جنازے نے بھی بتادیا کہ آپ صحیح رستے پر تھے کہ غلط پر..... آپ کے لئے دعا کیا کریں؟ہمیں تو اللہ سے گمان بلکہ یقین ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کے مطابق آپ کے مقدس خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی آپ کی مغفرت کردی گئی ہوگی-جنت کی خوشبو نے آپ کے قدم مبارک چومے ہوں گے -آپ تو ان شاء اللہ بخشے بخشائے جنت کی طرف کوچ کر گئے،دعا کی ضرورت ہے تو آپ کی جدائی سے چھلنی روحوں کو صبر اور حوصلے کی دعا کی ضرورت ہے..... جان تو سب کی جاتی ہے،سب کی ہی جانی ہے ’کل من علیھا فان‘مگر جس بہادری و محبت سے آپ صدیق رضی اللہ عنہ پر نثار ہوئے،وہ قابل تحسین و قابل رشک ہے.....ہم آپ کو اس مقام پر فائز ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں،خراج تحسین پیش کرتے ہیں -شہادت عظمت ہے،رفعت ہے،سعادت ہے،بلندی کامیابی کامرانی ہے..... علامہ عثمانی شہید!آپ کی یاد بہت آئے گی.....یہ زخم بھرنے والا نہیں ہیں......آپ کی جدائی زندگی کے ہر موڑ پر محسوس ہوگی....آپ خود تو آرام کی نیند سوگئے مگر اپنے چاہنے والوں کی نیندیں غائب کرگئے..... آپ کا لہجہ،آپ کا انداز،آپ کا گرجنا،آپ کا للکارنا.....ہمیں بہت یاد آئے گا عثمانی صاحب!بہت زیادہ...... ڈیڑھ ماہ قبل اپنے والد کے انتقال پریتیمی کے غم میں اور شفیق باپ کا سایہ سر سے اٹھ جانے کے کرب میں بلک بلک کر رونے والے عثمانی صاحب!آپ خود تو بہت ہی جلد اپنے والد سے جاملے،مگر اپنے چاہنے والوں کو یتیم کر گئے،آپ کا سایہ بھی تو آپ کے کارکنان کے لئے ایک شفیق باپ کا سا تھا،اس کو آپ بلکتا سسکتا روتا چھوڑ گئے: ''تیرے بعد ہر لمحہ جاری ہیں آنکھوں سے آنسو - یہ وہ برسات ہے جس کا کوئی موسم نہیں ہوتا-'' اب کون گرجے گا تیرے انداز میں؟اب کون للکارے گا تیرے انداز میں؟اب ایسا کہاں سے لائیں تجھ سا کہیں جسے؟آپ تو لاکھوں میں نہیں اربوں میں ایک تھے...... آپ کو آج شہید کہتے اور لکھتے ہوئے قلم جھجھک رہا ہے،جسم میں جھرجھری ہے،ہاتھوں پر لرزاں طاری ہے،یقین ہی نہیں ہورہا کہ آپ آج ہمارے درمیان نہیں....مگر آہ!فیصلے کسی کے یقین کرنے نہ کرنے پر موقوف نہیں ہوا کرتے....لیکن خیر یہ بات ضرور ہے کہ اپنے مشن و نظریے کے ذریعے آپ ہمارے درمیان،ہمارے ساتھ مرتے دم تک رہیں گے...... ”زمین کے تاروں سے ایک تارہ آسماں کے تاروں سے جاملا تیری مرگ ناگہاں کا مجھے اب تک یقیں نہ ہوا“ آپ ہمیں سکھا گئے،پڑھا گئے،سمجھا گئے کہ یوں بھی زندگیاں گزرتی ہیں....آپ کو صحابہ رضی اللہ عنھم سے واقعی پیار تھا تبھی تو آپ کی زندگی انہی کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی....مسکنت،سادگی،تقوی،خشیت،شجاعت،قناعت و توکل،صبر و استقامت،رضا بالقضاء،زہد،جود و سخا.....!! وہ جنتی شخص جس کی دن رات کی لاکھ مصروفیت کے باوجود ہمیشہ،جوانی سے ہی تہجد،اشراق،اوابین و چاشت کی پابندی رہی-وہ متقی کہ جوانی سے ہی شمائل طیبہ اور خصائص حمیدہ کا حامل....وہ سادگی کا پیکر،جو مسکینی اور اخلاص سے بھری زندگی گزار گیا.....بس اس درویش کی ہر بات صحابہ سے شروع ہو کر صحابہ رضی اللہ عنھم پر ختم ہوتی تھی-اور پھر زندگی بھی جب ختم ہوئی تو صدیق اکبر رضی اللہ عنہ پر ختم ہوئی!... وہ کہ جب بولتا تھا تو صحابہ رضی اللہ عنھم کی تعریف کے موتی اس کے دہن سے جھڑتے تھے.....وہ جسے اگر دلچسپی تھی تو صرف صحابہ رضی اللہ عنھم سے تھی...وہ کہ اگر اسے خوشی ملتی تھی تو اپنے صدیق و عمر رضی اللہ عنھما کا ذکر کر کے ملتی تھی- وہ جسے عشق و محبت تھا تو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی تھا-اسے سکوں اگر ملتا تھا تو صحابہ کے لئے مشقتیں برداشت کر کے ملتا تھا..... اسکی روح تو نفس المطمئنہ تھی....وہ تو بڑے یقین سے کہا کرتا تھا کہ ہم اگر صحابہ کے لئے جیل چلے گئے تو کیا ہوگیا؟خوشی سے چلے جایئں گے کہ صحابہ کے لئے ہی تو گئے ہیں نا!.....آخر میں بھی اس نفس المطمئنہ کو صدیق رضی اللہ عنہ کے نام پر قربان ہو کر ہی سکوں ملا: ”عشق کا بیمار تیرا نام لے کر سوگیا مدت کے بے قرار کو قرار آگیا“ وہ تو ایسا عاشق تھا جس کی صبح صحابہ،جس کی شام صحابہ،جس کی رات صحابہ،جس کی خاموشی صحابہ،جس کی گویائی صحابہ،جس کی زندگی صحابہ،جس کی موت صحابہ!!رضی اللہ عنھم اجمعین...... دنیا سے اسے کوئی محبت نہ تھی-بس صحابہ رضی اللہ عنھم سے تھی-تبھی تو وہ ساری زندگی دربدر رہا.....کبھی ایک جگہ کرائے کے مکان پر،کبھی دوسری جگہ کرائے کے مکان پر،کس چیز نے اسے مجبور کیا کہ وہ عیش و عشرت ترک کر کے تکلیفوں میں رہے؟کیا چیز تھی کہ اسے ان تکلیفوں میں ہی سکوں ملتا تھا؟؟کیوں وہ اتنے عرصے عرصے اپنی ماں کی ممتا سے محروم رہا؟کیوں عرصے عرصے باپ کی زیارت و شفقت سے محروم رہا؟کیوں اپنے بچوں کو یتیم کرگیا؟یہ اس کا عشق ہی تو تھا صحابہ سے.....وہ تو دیوانہ تھا صحابہ کا....!! جو اس دعا کی عملی تصویر تھا''اللھم احینی مسکینا و امتنی مسکینا''اور''اللھم لا عیش الا عیش الاخرہ''- وہ تقوی کا پیکر جس نے ساری زندگی اسمارٹ فون کے فتنے اور فوٹو گرافی سے خود کو بچایا....اتنی مقبولیت کے باوجود اسے کوئی نشہ نہ تھا فوٹو گرافی کا،تصویریں نکالنے کا بلکہ اس نے تو بہت پہلے ہی صاف کہہ دیا تھا کہ”تصویر قطعی طور پر حرام ہے،میں کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ میری تصویر نکالے یا چلائے،آج کے بعد جو میری تصویر لے گا اس کا گناہ،اس کے سر ہوگا،تصویری کام کے بجائے تعمیری کام پر توجہ دیں“ سیاست کے مرکز اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی سیاست سے کوسوں دوربلکہ اس کا کہنا تو تھا کہ میں سیاست پر لعنت بھیجتا ہوں،نہ ٹکٹوں کی چھینا جھپٹی میں شامل،نہ گاڑی نہ بنگلہ،نہ ڈالر....... اسلام آباد کا ترقی یافتہ جدید ماحول اور دنیا کی کشش و رنگینیاں اس کے قلب سلیم پر کچھ اثر نہ کرسکیں.....کچھ مرعوب نہ کرسکیں،اپنے رنگ میں کوئی نہ رنگ سکیں......دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے الگ تھلگ،اپنی دنیا کے لئے اس نے کچھ نہ کیا،کچھ نہ رکھا،بس اپنی آخرت سنوار کر،صحابہ رضی اللہ عنھم کی محبت سے بھرا دل لے کر چلا گیا-ان شاء اللہ آج وہ’فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر‘ہوگا!! اسے نہ دولت سے محبت تھی،نہ عزت سے،نہ شہرت سے،نہ راحت سے،نہ امارت سے،نہ سیاست سے...وہ چاہتا تو ایک بنگلہ یہاں لیتا،ایک بنگلہ وہاں لیتا،یہ گاڑی رکھتا،وہ پراڈو رکھتا....مگر نہیں نہیں...... عثمانی کے لئے بھلا یہ کیسے ممکن تھا؟؟اس کے سامنے توقرآن تھا.....نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب کی زندگیاں تھیں..... ’سابقوا إلی مغفرۃ من ربکم وجنۃ‘پر عمل کرتے ہوئے وہ زندگی گزار گیا.....آج جب گیا تو متاع الحیاۃ الدنیا نہیں بلکہ صحابہ رضی اللہ عنھم کی محبت کا درس چھوڑ کر گیا ہے.....میدان کارزار میں نہیں ہوتے ہوئے بھی اس کی ساری زندگی جہاد میں گزری..... صحابہ کا دفاع کرنا اس کی روح کی غذا،دل و بدن کا سکوں،درودوں کا مداوا اور بیماریوں کی شفاء تھی.... وہ صرف کھڑے ہوکر صحابہ کی عظمت پر بات نہیں کرتا تھا بلکہ اس کی عملی،خانگی زندگی بھی صحابہ رضی اللہ عنھم کی زندگی کا نمونہ تھی..... آخری بیان میں بھی اس نے یہی پیغام دیا کہ”تمام صحابہ ہمارے ایمان کی بنیاد اور معیار ہیں،ہم نے ان کی تابعداری اور محبت کے ساتھ زندگیاں گزارنی ہیں“ وہ اصلی عاشق تھا،نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب سے اس کی محبت سچی تھی تبھی تو یہ بات تھی کہ اس کی زندگی نے صحابہ کی زندگیوں کی یاد کرادی-مسکنت کی زندگی نے حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد کرائی جنہوں نے فرمایا تھا کہ عائشہ!ہمیں دنیا سے کیا غرض!عثمانی شہید کو بھی دنیا سے کیا غرض تھی؟! ”نہ گلوں سے مجھ کو مطلب،نہ گلوں کے رنگ و بو سے کسی اور سمت کو ہے میری زندگی کا تارہ“ اس کے اخلاص و سادگی نے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی یاد کرائی،شہادت کے شوق و جرأت نو عمر رضی اللہ عنہ کی یاد کرائی،استقامت و حوصلے نے بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی یاد کرائی!...... جو عھد رب سے کیا تھا وہ اسے خوبصورتی سے نبھا گیا،”من المؤمنین رجال صدقو ما عاھدو اللہ علیہ“ ”جو عھد رب سے کیا تھا وہ نبھا گیا ہم اس کی فرقت میں رورہے ہیں وہ مسکراتا چلا گیا“ زندگی کے آخری بیان میں بھی''خلیفہ بلا فضل کون؟''کے نعرے لگانے والا خلیفہ بلافضل کی وفات کی ہی تاریخ کو ان کے قدموں میں پہنچ گیا!!کیا نصیب تھا،کیا قسمت تھی اس کی!!- علامہ مسعود الرحمن عثمانی شہید!اللہ کے جانباز شیر!! آپ کے پاکیزہ خون کا قطرہ قطرہ بہت قیمتی تھا مگر آہ!آہ!دشمن نے اسے بہت فالتو خیال کیا! کیا آپ کا خون اتنا سستا تھا کہ دن دیہاڑے سولہ گولیوں کی بوچھاڑ میں بہادیا جائے؟؟ خیر!آپ کو کیا غم،آپ کی روح تو جنتی تھی جو چون سال اپنا کام مکمل کر کے واپس اپنی اصلی جگہ جنت پہنچ گئی!!ارجعی الی ربک.....مگرآہ!آپ کے پیچھے رہ جانے والوں کا غم...... آہ!آبپارہ کی جس چوک میں اسی جگہ کھڑے ہو کر کل تک آپ شیر کی طرح گرج رہے تھے،آج اسی جگہ آپ کی جنت منتقلی کی تقریب.......! ”اے فرشتہ اجل کیا خوب تھی تیری پسند- پھول وہ چنا جو سارے گلشن کو ویران کر گیا“ آپ تو جنت الفردوس روانہ ہوگئے ان شاء اللہ....روز قیامت آپ اس حال میں اٹھیں گے کہ آپ کے زخموں سے خون شہیداں ابلتا ہوگا جسکی مہک مشک کی سی ہوگی!(مفھوم حدیث مبارکہ)ع: ”کل خون شہادت میں لتھڑا،یہ جسم انہیں دکھلائیں گے“ آپ کا وہ مشک بار لہو جس کی بوند بوند میں اللہ رب العزت،محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم،ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما اور دیگر چمنستان نبوت کے پھولوں کی محبت رچی بسی ہوئی تھی،وہ پاکیزہ خون اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز ضائع نہ جانے دے گا.....اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ...... آپ کے قاتلوں سے آپ کے معطر و منور خون کے قطرے قطرے کا حساب لیا جائے گا اور آپ کے خون کی بوند بوند رنگ لائے گی....ا ن شاء اللہ تعالیٰ مگر آہ!یہ تلخ حقیقت کہ: ”چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گے چمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گے ہمارے بعد ہی خون شہیداں رنگ لائے گا یہی سرخی بنے گی زیب عنواں ہم نہیں ہوں گے!!“
اللہ تعالیٰ مولانا مسعود الرحمن عثمانی شہید رح کی کامل مغفرت فرمائے
 
Top