السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی کی جانب سے تمام چاہنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر مبارک
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے
رمضان سے متعلق سنہرے موتی ، حضرت مولانا شاہ حکیم محمد اختر صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا:روزہ کا مقصد روزہ کا مقصد کیا ہے ؟: اللہ پاک کا مقصد ہمیں بھوکا پیاسا رکھنا نہیں ہے ،اللہ پاک کا مقصد ہے لعلکم تتقون تاکہ تم متقی بن جاؤ،انسان کی فطرت گناہ کی طرف مائل ہوتی ہے اور اللہ پاک نے رمضان میں حلال نعمتوں سے بھی روک دیابتائیے کھانا پینا حلال ہے یا نہیں مگر رمضان المبارک میں صبح صادق سے غروب آفتاب تک حلال نعمتوں کو بھی حرام فرمادیا ،تاکہ جب اللہ پاک کے حکم سے حلال سے بچنے کی مشق ہو جاۓ گی تو حرام سے بچنا بھی آسان ہو جاۓ گا ،جب حلال سے بچنے کی قوت ہو جاۓ گی ، رمضان کے بعد حرام یعنی گناہوں سے بچنا بھی آسان ہو جاۓ گا _ ، روزہ داروں کی دعاؤں پر حاملین عرش کی دعا : دوستو !یہ مبارک مہینہ ہے اس میں ہر گناہ سے بچیں تقویٰ سے رہیں خوب تلاوت اور ذکر کیجیے اس ماہ میں عرش اعظم اٹھانے والے فرشتے روزہ داروں کی دعاؤں پر آمین کہتے ہیں افطار سے پہلے بھی دعا قبول ہوتی ہے ،اللہ پاک فرشتوں کو حکم دیتے ہیں کہ اے مرے عرش اعظم اٹھانے والے فرشتو !تم میری حمد و ثنا چھوڑ دو میری تسبیحات چھوڑ دو سبحان اللہ اللہ اکبر الحمدللہ مت پڑھوبس مرے روزہ دار بندوں کی دعاؤں پر آمین کہتے رہو پورے رمضان آپ کو عرش اعظم اٹھانے والے فرشتوں کی دعائیں ملتی رہیں گی اس لئے خوب دعائیں مانگو - ر مضان المبارک کے چار اعمال : حدیث پاک میں ہے کہ رمضان میں چار عمل زیادہ کرنے چاہیئں ،نمبر ایک لا الہ الااللہ کی کثرت،نمبر دو استغفار کی کثرت ،نمبر تین جنت کا سوال ،نمبر چار دوزخ سے پناہ مانگنا ،نیز اس ماہ میں فضول گپ شپ سے بھی احتیاط کریں بس ضرورت کی گفتگو کیجیے بیشک آرام سےسوتے رہیں مگر فضول گفتگو نہ کریں - رمضان جیسا گزرے گا پورا سال بھی ویسا گزرے گا : اس ماہ کے بارے میں بزرگوں نے لکھا ہے کہ جو اس مہینہ میں جتنی عبادت کرے گا تلاوت کرے گا گناہ سے بچے گا ،گیارہ مہینے اس کے خیریت سے گزریں گے ،جتنا اچھا رمضان گزرے گا ،پورا سال بھی اتنا اچھا گزرے گا ،سو بہت ظالم ہے وہ شخص جو اس ماہ میں بھی گناہوں سے باز نہ رہے- روزہ دار کے لئے عظیم بشارت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ الله نے بہشتی زیور حصّہ نمبرتین میں حدیث نقل فرمائی کہ جس میں روزہ داروں کی ایسی فضیلت ہے کہ جب قیامت کے دن حساب کتاب ہوگا تو روزہ داروں کے لئے اللہ پاک اپنے عرش کے سائے میں دسترخوان بچھوائیں گے اور روزہ دار لوگ میدان محشر کی گرمی اور حساب کی پریشانی سے محفوظ عرش کے سائے میں پلاؤ بریانی کھا رہے ہوں گے ،اللہ پاک کی طرف سے ان کی شاندار مہمانی ہوگی اور قیامت کے دن جن کو عرش کا سایہ مل جاۓ گا اس کا حساب نہیں ہوگا کیونکہ جہاں حساب ہوگا وہاں سایہ نہ ہوگا اور جہاں سایہ ہوگا وہاں حساب نہ ہوگا ،کیونکہ سایہ رحمت میں بلانا اور ضیافت کرنا مہمان کا اعزاز ہے اور دنیا میں کوئی بھی میزبان اپنے مہمان سے یہ سلوک نہیں کرتا کہ دعوت کے بعد حساب کتاب لے یا اس کو تکلیف دے ،اللہ پاک تو ارحم الراحمین ہیں ،ان کی رحمت سے بعید ہے کہ عرش کا سایہ دے کر پھر حساب کتاب کی پریشانی اور دوزخ کے عذاب میں مبتلا کر دیں ،؟؟اس لئے ان شاء اللہ روزہ داروں کی اور سایہ عرش پانے والوں کی جنت پکی ہے - روزہ اور قران قیامت کے دن سفارش کریں گے : حدیث شریف میں ہے کہ روزہ اور قران قیمت کے دن بندے کی سفارش کریں گے روزہ کہے گا کہ اے مرے اللہ میں نے اس کو دن بھر خانے پینے اور شہوت کےکام سے روکے رکھا تھا .قران کہے گا اے مرے رب میں نے اس کو رات سونے سے روکے رکھا تھا لہذا اس کے بارے میں میری سفارش قبول فرما اللہ پاک ان دونو کی سفارش قبول فرما لے گا -(مفہوم ) روزہ دار کے لئے دو خوشیاں : حدیث شریف میں ہے کہ روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں :(للصائم فرحتان: فرحة عند فطره، وفرحة عند لقاء ربه) ایک دنیا میں افطار کے وقت اور اور دوسری قیامت کے دن جب وہ اپنے رب سے ملاقات کریں گے (مفہوم )
 
Top