السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی کی جانب سے تمام چاہنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر مبارک
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

* ⭐حضرت سیدنا ابولعاصؓ اور دختر نبی اکرمﷺ حضرت زینبؓ کی محبت کی داستان⭐*

‏میں آج محبت کی ایک سچی پاکیزہ داستان قلمبند کرنے جارہا ہوں۔

ابوالعاصؓ نبوت سے پہلے ایک دِن رسولﷺ کے پاس آےاور کہا "میں اپنے لِیے آپکی بڑی بیٹی زینبؓ کا ھاتھ مانگنے آیا ھوں.
رسولﷺ نے فرمایا : "میں اِن کی اِجازت کے بغیر کچھ نہیں کر سکتا

گھر جا کر رسولﷺ نے زینبؓ سے کہا : "تیری خالہ کے بیٹے نے تیرا نام لِیا ھے کیا تم اِس پر راضی ھو؟
زینبؓ کا چہرہ سُرخ ھوا اور مُسکرا دیں

رسولﷺ اُٹھ کر باھر تشریف لے گئے اور ابوالعاص بن الربيع کا رِشتہ زینبؓ کیلئے قبول کِیا

یہاں سے مُحبت کی ایک آزمائش سے بھر پور داستان شروع ھوتی ھے

ابوالعاص سے زینبؓ رض کا بیٹا "علی" اور بیٹی "اِمامہ" پیدا ھوئے ، پھر آزمائش شروع ھو جاتی ھے کیونکہ ان کی شادی کے بعد نبیﷺ پر وحی نازل ھوئی آپ نے اعلان فرمایا کہ وہ اللہ کے رسولﷺ ہیں.

ابوالعاص کہیں سفر میں تھا جب واپس آیا تو بیوی اِسلام قبول کر چُکی تھی

جب گھر میں داخل ھوا تو بیوی نے کہا : "میرے پاس تمہارے لِیے ایک عظیم خبر ھے"

یہ سُن کر وہ اُٹھ کر باھر نِکل گیے اور کہا کہ تم دوسرے عقیدے کی ہو چکی ہو. دور رہو اب مجھ سے
. زینبؓ خوف زدہ ھو کر اِن کے پیچھے پیچھے باھر نِکلتی ھے اور کہتی ھے : "میرے ابو نبیؐ بنائے گئے ھیں اور میں اِسلام قبول کر چُکی ھوں"

ابوالعاص : تم نے مُجھے پہلے کیوں نہیں بتایا؟

اب دونوں کے درمیان ایک بڑا مسئلہ پیدا ھوتا ھے جو کہ عقیدے کا مسئلہ تھا

زینبؓ : میں اپنے ابوؐ کو جُھٹلا نہیں سکتی اور نہ ھی میرے ابوؐ کبھی جھوٹے تھے ، وہ تو صادق اور امین ھیں ،
میں اکیلی نہیں میری ماں اور بہنیں بھی اِسلام قبول کر چُکی ھیں ،
میرا چچازاد بھائی علی بن ابی طالبؓ بھی اِسلام قبول کر چُکے ھیں ، تیرا چچازاد عثمان بن عفانؓ بھی مُسلمان ھو چُکے ھیں ،
تمہارے دوست ابوبکرؓ بھی اِسلام قبول کر چُکے ھیں.

ابوالعاص : مگر میں نہیں چاھتا کہ لوگ یہ کہیں کہ اپنی قوم کو چھوڑ دِیا ، اپنے آباؤ اجداد کو جُھٹلایا ، تیرے ابوؐ کو ملامت نہیں کرتا ھوں بس میں اپنی قوم سے دغا نہیں کرونگا.

بہرحال ابوالعاص نے اِسلام قبول نہیں کِیا یہاں تک کہ ہِجرت کا زمانہ آ گیا اور زینب رسولﷺ کے پاس آئی اور فرمایا :
اے اللہ کے رسولﷺ کیا آپ مُجھے اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ رھنے کی اِجازت دینگے؟

رسولﷺ نے فرمایا : اپنے شوھر اور بچوں کے پاس ھی رھو.

وقت گُزرتا گیا اور دونوں اپنے بچوں کے ساتھ مکہ میں ھی رھے یہاں تک کہ غزوہِ بدر کا واقعہ پیش آیا
اور ابوالعاص قریش کی فوج کے ساتھ اپنے سُسر کے خلاف لڑنے کے لیے روانہ ھوا

، زینب خوف زدہ تھی کہ اِسکا شوھر اِسکے اباؐ کے خلاف جنگ لڑے گا اِسلیے روتی ھوئی کہتی تھی :
اے اللہ میں ایسے دِن سے ڈرتی ھوں کہ میرے بچے یتیم ھوں یا اپنے ابوؐ کو کھو دوں

ابوالعاص بن الربيع رسولﷺ کے خلاف بدر میں لڑے ، جنگ ختم ھوئی تو داماد سُسر کی قید میں تھا ، خبر مکہ پہنچ گئی کہ ابوالعاص جنگی قیدی بنائے گئے.

زینب پوچھتی رھی کہ میرے والدؐ کا کیا بنا؟

لوگوں نے بتایا کہ مسلمان تو جنگ جیت گئے جِس پر زینب نے سجدہِ شُکر ادا کِیا
پھر پوچھا : میرے شوھر کو کیا ھوا؟
لوگوں نےکہا : اِسکو اِسکے سُسر نے جنگی قیدی بنایا

زینب نے کہا : میں اپنے شوھر کا فدیہ (دیت) بھیج دونگی
شوھر کا فدیہ دینے کیلئے زینب کے پاس کوئی قیمتی چیز نہیں تھی اِسلیے اپنی والدہ ام المومنین خدیجہ کا ھار اپنے گلے سے اُتار دِیا

اور ابوالعاص بن الربيع کے بھائی کو دے کر اپنے والدﷺ کی خدمت میں روانہ کِیا ، رسولﷺ ایک ایک قیدی کا فدیہ وصول کر کے اِنکو آزاد کر رھے تھے ،
اچانک اپنی زوجہ خدیجہ کے ھار پر نظر پڑی تو پوچھا : یہ کِس کا فدیہ ھے؟
لوگوں نے کہا : یہ ابوالعاص بن الربيع کا فدیہ ھے

یہ سُن کر رسولﷺ رو پڑے اور فرمایا : یہ تو خدیجہ کا ھار ھے ، پھر کھڑے ھوگئے اور فرمایا : اے لوگو یہ شخص بُرا داماد نہیں ، کیا میں اِسکو رِہا کر دوں؟ ، اگر تم اِجازت دیتے ھو تو میں اِس کا ھار بھی اِسکو واپس کر دوں؟

لوگوں نے کہا کیوں نہیں ، اے اللہ کے رسولﷺ آپ پر ہماری نسلیں قربان. آپ جو حکم دیں گے وہ ہی ہوگا.

رسولﷺ نے ھار ابوالعاص کو تھما دِیا اور فرمایا : زینب سے کہو کہ خدیجہ کے ھار کا خیال رکھے ، پھر فرمایا : اے ابوالعاص کیا میں تم سے تنہائی میں کوئی بات کر سکتا ھوں؟ اِن کو ایک طرف لے جا کر فرمایا : اے ابوالعاص اللہ نے مُجھے کافر شوھر اور مسلمان بیوی کے درمیان جدائی کرنے کا حُکم دے دِیا ھے اِسلیے میری بیٹی کو میرے حوالے کر دو.

ابوالعاص نے کہا : جی ھاں میں واپس جاتے ہی بھجوا دونگا اسے.
‏دوسری طرف زینبؓ شوھر کے اِستقبال کے لئے گھر سے نِکل کر مکہ کے داخلی راستے پر اِنکی راہ دیکھ رھی تھی ، جب ابوالعاص کی نظر اپنی بیوی پر پڑی فوراً کہا میں جا رھا ھوں.

زینبؓ نے کہا : کہاں؟

ابوالعاص : میں نہیں تم اپنے باپؐ کے پاس جانے والی ھو

زینبؓ : کیوں؟

ابوالعاص : میری اور تمہاری جدائی کیلئے جاؤ اپنے باپؐ کے پاس جاؤ کیونکہ انہوں نے فیصلہ بتایا ہے کہ کافر شوہر کے پاس مسلمان بیوی نہیں رہ سکتی.

زینب : کیا تم میرے ساتھ جاؤ گے اور اِسلام قبول کرو گے؟.
ابوالعاص : نہیں ،

زینبؓ اپنے بیٹے اور بیٹی کو لے کر مدینہ منورہ چلی گئی. جہاں چھ سال کے دوران کئی رشتے آئے مگر زینب نے قبول نہ کِیے اور اِسی اُمید سے اِنتظار کرنے لگی کہ شاید شوھر اِسلام قبول کر کے آئے گا.

چھ سال بعد ابوالعاص ایک قافلے کے ساتھ مکہ سے شام کے سفر پر روانہ ھوا ، سفر کے دوران راستے میں صحابہ کی ایک جماعت نے اِنکو گرفتار کِیا اور ساتھ مدینہ لے گئے. مدینہ جاتے ھوئے زینب اور اِنکے گھر کے بارے میں پوچھا فجر کی اذان کے وقت زینبؓ کے دروازے پر پُہنچا ، زینب نے اِن پر نظر پڑتے ھی پوچھا : کیا اِسلام قبول کر چُکے ھو؟

ابوالعاص : نہیں

زینبؓ : ڈرنے کی ضرورت نہیں ، تم مدینے کے والی صلعم کی پناہ میں ہو. خالہ زاد کو خوش آمدید علی اور امامہ کے باپ کو خوش آمدید

رسولﷺ نے فجر کی نماز پڑھائی تو مسجد کے آخری حصے سے آواز آئی کہ

"میں ابوالعاص بن الربيع کو پناہ دیتی ھوں"

نبیﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے سُن لِیا جو میں نے سُنا ھے؟..
سب نے کہا : جی ھاں اے اللہ کے رسولﷺ

زینبؓ نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ ابوالعاص میرا خالہ زاد ھے اور میرے بچوں کا باپ ھے میں اِنکو پناہ دیتی ھوں.

رسولﷺ نے قبول کر لِیا اور فرمایا : اے لوگو یہ بُرا داماد نہیں اِس شخص نے مُجھ سے جو بات کی سچ بولا اور جو وعدہ کِیا وہ نبھایا اگر تم چاھتے ھو کہ اِسکو اِس کا مال واپس کر کے اِسکو چھوڑ دِیا جائے
اور یہ اپنے شہر چلا جائے یہ مُجھے پسند ھے ، اگر نہیں چاھتے ھو تو یہ تمہارا حق ھے اور تمہاری مرضی ھے میں تمہیں ملامت نہیں کرونگا

لوگوں نے کہا : ھم اِس کا مال واپس کر کے اِس کو جانے دینا چاھتے ھیں

رسولﷺ نے فرمایا : اے زینبؓ تم نے جِس کو پناہ دِی ھم بھی اِسکو پناہ دیتے ھیں ، اِس پر ابوالعاص زینب کے ساتھ اِن کے گھر چلے گئے اور رسولﷺ نے زینبؓ سے فرمایا : اے زینبؓ اِن کا اکرام کرو کہ یہ تیرا خالہ زاد اور بچوں کا باپ ھے مگر یہ تمہارے قریب نہ آئے
کیونکہ یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہے اب.

گھر جا کر حضرت زینبؓ نے ابوالعاص بن الربيع سے کہا : اے ابوالعاص جدائی نے تُجھے تھکا دِیا ھے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے کیا اِسلام قبول کر کے ھمارے ساتھ رھو گے؟

ابوالعاص : نہیں

اپنا مال لے کر مکہ روانہ ھو گیا جب مکہ پہنچا تو کہا : اے لوگو ، یہ لو اپنے اپنے مال ، کیا کسی کا کوئی مال میرے ذِمے ھے؟..
لوگوں نے کہا : اللہ تمہیں بدلہ دے تم نے بہتر وعدہ نبھایا

ابوالعاص نے کہا : میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ھیں

اسکے بعد مدینہ روانہ ھوا اور جب مدینہ پہنچے تو پھر فجر کا وقت تھا ، سیدھا نبیﷺ کے پاس گئے اور کہا :
کل آپﷺ نے مجھے پناہ دِی تھی اور آج میں کہنے آیا ھوں کہ "میں گواھی دیتا ھوں کہ اللہ کے سِوا کوئی معبود نہیں اور آپﷺ اللہ کے رسولؐ ھیں"

ابوالعاص نے کہا : اے اللہ کے رسولﷺ کیا زینب کے ساتھ رجوع کی اِجازت دیتے ھیں؟ میں تھک چکا ہوں اب جدائی سہتے سہتے.

نبیﷺ نے ابوالعاصؓ کا ھاتھ پکڑ کر فرمایا : آؤ میرے ساتھ..
زینب کے دروازے پر لے جا کر دروازہ کھٹکھٹایا اور زینب سے فرمایا : یہ تمہارا خالہ زاد واپس آیا ھے اسلام قبول کر چکا ہے تم سے رجوع کی اِجازت مانگ رھا ھے کیا تمہیں قبول ھے؟

زینبؓ کا چہرہ سُرخ ھوا اور مُسکرائی

عجیب بات یہ ھے کہ اِس واقعے کے صرف ایک سال بعد زینب کا اِنتقال ھوا جِس پر ابوالعاصؓ زاروقطار بچوں کی طرح رونے لگے حتی کہ بعد میں بھی لوگوں کے سامنے رو پڑتے اور رسولﷺ اِن کے سر پر ھاتھ پھیر کر تسلی دیتے تھے.

جواب میں ابوالعاص کہتے : اے اللہ کے رسولﷺ ، اللہ کی قسم زینب کے بغیر دُنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا

اور ایک سال کے بعد ھی ابوالعاصؓ بھی اِنتقال کر گئے.

*✍️ از قلم بندہ حافظ محمد عبدالله عفی عنہ*
 
آخری بار ترمیم:
Top