السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی کی جانب سے تمام چاہنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر مبارک
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے

حیاۃ الصحابہ ؓ اللہ تبارک وتعالیٰ کا نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرام ؓ کے بارے میں فرمان

مجلس علمی 

انتظامیہ
خادم
رجسٹرڈ ممبر
کتاب: حیاۃ الصحابہ ؓ
صحابۂ کرام کے بارے میں قرآنی آیات
عنوان
اللہ تبارک وتعالیٰ کا نبی کریم ﷺ کے صحابۂ کرام ؓ کے بارے میں فرمان

۔ {لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ فِیْ سَاعَۃِ الْعُسْرَۃِ مِنمْ بَعْدِ مَا کَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْہُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْط اِنَّہُ بِہِمْ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ O وَّعَلَی الثَّلٰـثَۃِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْاط حَتّٰی اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْْہِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَیْْہِمْ اَنْفُسُہُمْ وَظَنُّوْا اَنْ لاَّ مَلْجَاَ مِنَ اللّٰہِِ اِلاَّ اِلَیْْہِط ثُمَّ تَابَ عَلَیْْہِمْ لِیَتُوْبُوْا ط اِنَّ اللّٰہََ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُO}
اللہ مہربان ہوا نبی پر، اور مہاجرین اور انصار پر جو ساتھ رہے نبی کے مشکل کی گھڑی میں بعد اس کے کہ قریب تھا کہ دل پھر جائیں بعضوں کے ان میں سے، پھر مہربان ہوا ان پر، بے شک وہ ان پر مہربان ہے رحم کرنے والا۔ اور ان تین شخصوں پر جن کو پیچھے رکھا تھا، یہاں تک کہ جب تنگ ہوگئی اُن پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے اور تنگ ہوگئیں اُن پر اُن کی جانیں اور سمجھ گئے کہ کہیں پناہ نہیں اللہ سے مگر اسی کی طرف ، پھر مہربان ہوا ان پر تاکہ وہ پھر آئیں ،بے شک اللہ ہی ہے مہربان رحم والا۔
۔ {لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ فَاَنْزَلَ السَّکِیْنَۃَ عَلَیْْہِمْ وَاَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِیْبًا O وَمَغَانِمَ کَثِیْرَۃً یَّاْخُذُوْنَہَا ط وَکَانَ اللّٰہُ عَزِیْزًا حَکِیْمًا O}
تحقیق اللہ خوش ہوا ایمان والوں سے جب بیعت کرنے لگے تجھ سے اس درخت کے نیچے، پھر معلوم کیا جو اُن کے جِی میں تھا، پھر اتارا ان پر اطمینان اور انعام دیا ان کو ایک فتح نزدیک اور بہت غنیمتیں جن کو وہ لیں گے، اور ہے اللہ زبردست حکمت والا۔
۔ { وَالسّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُہٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ لا رَّضِیَ اللّٰہُُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ وَاَعَدَّ لَہُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَہَا الْاَنْہٰرُخٰلِدِیْنَ فِیْہَا اَبَدًا ط ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ O}
اور جو لوگ قدیم ہیں سب سے پہلے ہجرت کرنے والے اور مدد کرنے والے اور جو ان کے پیرو ہوئے نیکی کے ساتھ، اللہ راضی ہوا ان سے اورو ہ راضی ہوئے اس سے، اور تیار کر رکھے ہیں واسطے ان کے باغ کہ بہتی ہیں نیچے ان کے نہریں ، رہا کریں ان ہی میں ہمیشہ ، یہ ہے بڑی کامیابی۔
۔ {لِلْفُقَرآئِ الْمُہٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِہِمْ وَاَمْوَالِہِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانًا وَّیَنْصُرُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَO وَالَّذِیْنَ تَبَوَّؤُالدَّارَ وَالْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِہِمْ یُحِبُّوْنَ مَنْ ہَاجَرَ اِلَیْْہِمْ وَلَا یَجِدُوْنَ فِیْ صُدُوْرِہِمْ حَاجَۃً مِّمَّا اُوْتُوْا وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰی اَنْفُسِہِمْ وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ O}
واسطے ان مفلسوں وطن چھوڑنے والوں کے جو نکالے ہوئے آئے ہیں اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے، ڈھونڈتے آئے ہیں اللہ کا فضل اور اس کی رضامندی، اور مدد کرنے کو اللہ کی اور اس کے رسول کی، وہ لوگ وہی ہیں سچے ۔اور جو لوگ جگہ پکڑ رہے ہیں اس گھر میں اور ایمان میں اُن سے پہلے سے وہ محبت کرتے ہیں اس سے جو وطن چھوڑ کر آئے اُن کے پاس، اور نہیں پاتے اپنے دل میں تنگی اس چیز سے جو مہاجرین کو دی جائے، اور مقدم رکھتے ہیں اُن کو اپنی جان سے اور اگر چہ ہو اپنے اوپر فاقہ، اور جو بچایا گیا اپنے جِی کے لالچ سے تو وہی لوگ ہیں مرا دپانے والے۔
۔ {اَللّٰہُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ کِتٰـبًا مُّتَشَابِہًا مَّثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْہُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّہُمْج ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُہُمْ وَقُلُوْبُہُمْ اِلٰی ذِکْرِ اللّٰہِط ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنْ ہَادٍ O}
اللہ نے اتاری بہتر بات کتاب آپس میں ملتی ، دھرائی ہوئی ، بال کھڑے ہوتے ہیں اس سے کھال پر اُن لوگوں کے جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے، پھر نرم ہوتی ہیں ان کی کھالیں اور ان کے دل اللہ کی یاد پر۔ یہ ہے راہ دینا اللہ کا، اس طرح راہ دیتا ہے جس کو چاہے، اور جس کو راہ بھلائے اللہ اس کو کوئی نہیں سجھانے والا۔
۔ {اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰ ٰیـتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِہَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَہُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَO تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًاز وَّمِمَّا رَزَقْنٰـہُمْ یُنْفِقُوْنَO فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَہُمْ مِّن قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ج جَزَآئًم بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَO}
ہماری باتوں کو وہی مانتے ہیں کہ جب اُن کو سمجھائے اِن سے، گر پڑیں سجدہ کرکر، اور پاک ذات کو یاد کریں اپنے رب کی خوبیوں کے ساتھ اور وہ بڑائی نہیں کرتے۔ جدا رہتی ہیں ان کی کروٹیں اپنے سونے کی جگہ سے، پکارتے ہیں اپنے رب کو ڈرسے اور لالچ سے ،اور ہمارا دیا ہوا کچھ خرچ کرتے ہیں ۔ سو کسی جی کو معلوم نہیں جو چھپا دھری ہے ان کے واسطے آنکھوں کی ٹھنڈک بدلہ اس کا جو کرتے تھے۔
۔ {وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ خَیْْرٌ وَّاَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَO وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَا غَضِبُوْا ہُمْ یَغْفِرُوْنَO وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّہِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَاَمْرُہُمْ شُورٰی بَیْْنَہُمْص وَمِمَّا رَزَقْنٰـہُمْ یُنْفِقُوْنَ O وَالَّذِیْنَ اِذَا اَصَابَہُمُ الْبَغْیُ ہُمْ یَنْتَصِرُوْنَ O}
اور جو کچھ اللہ کے یہاں ہے بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے واسطے ایمان والوں کے، جو اپنے ربّ پر بھروسہ رکھتے ہیں ۔اور جو لوگ کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بے حیائی سے اور جب غصہ آوے تو وہ معاف کردیتے ہیں ۔ اور جنہوں نے حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورہ سے آپس کے، اور ہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں اور وہ لوگ کہ جب ان پر ہووے چڑھائی تو وہ بدلہ لیتے ہیں ۔
۔ { مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْْہِ ج فَمِنْہُمْ مَّنْ قَضٰی نَحْبَہٗ وَمِنْہُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُج وَمَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلاًO لِّیَجْزِیَ اللّٰہُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِہِمْ وَیُعَذِّبَ الْمُنٰـفِقِیْنَ اِنْ شَآئَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْْہِمْط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا O}
ایمان والوں میں کتنے مرد ہیں کہ سچ کر دکھلایا جس بات کا عہد کیا تھا اللہ سے، پھر کوئی تو اُن میں پورا کرچکا اپنا ذمہ اور کوئی ہے اُن میں راہ دیکھ رہا، اور بدلا نہیں ایک ذرّہ۔ تاکہ بدلہ دے اللہ سچوں کو ان کے سچ کا، اور عذاب کرے منافقوں پر اگر چاہے، یا توبہ ڈالے اُن کے دل پر، بے شک اللہ ہے بخشنے والا مہربان۔
۔ {اَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ اٰنَآئَ الَّیْْلِ سَاجِدًا وَّقَـآئِمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْا رَحْمَۃَ رَبِّہٖ ط قُلْ ہَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ}
بھلا ایک جو بندگی میں لگا ہوا ہے رات کی گھڑیوں میں سجدے کرتا ہوا اور کھڑا ہوا، خطرہ رکھتا ہے آخرت کا، امید رکھتا ہے اپنے رب کی مہربانی کی، تو کہہ کوئی برابر ہوتے ہیں سمجھ والے اور بے سمجھ ؟
 
Top