السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

مجلس علمی کی جانب سے تمام چاہنے والوں کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید الفطر مبارک
  غیر رجسٹرڈ ممبر کو ویب سائٹ دیکھنا محدود ہے
‏میرے عمرؓ کا دور خلافت کیسا تھا۔

حضرت سعید بن مسیب ؓ کہتے ہیں: جب حضرت عمر ؓ خلیفہ بنا ئے گئے تو انھوں نے حضور ﷺ کے منبر پر (کھڑے ہو کر) بیان فرمایا۔ پہلے اللہ کی حمد وثنا بیان کی پھر فرمایا:
اے لوگو! مجھے معلوم ہے کہ تم لوگ مجھ میں سختی اور دُرشتی دیکھتے ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ ہو تا تھا۔

میں آپ کا غلام اور خاد م تھا اور (آپ کے بارے میں) اللہ تعالیٰ نے جیسے فرمایاہے
: {بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ}1 (ایمان داروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق مہربان ہیں۔)

آپ واقعی ایسے ہی (بڑے ہی شفیق اور مہر بان) تھے
۔اس لیے میں آپ کے سامنے سُتی ہوئی ننگی تلوار کی طرح رہتا تھا۔
اگر آپ مجھے نیام میں ڈال دیتے یا مجھے کسی کام سے روک دیتے تو میں رُک جاتا، ورنہ میں آپ کی نرمی کی وجہ سے لوگوں کے ساتھ سختی سے پیش آتا۔
حضور ﷺ کی زندگی میں میرا یہی طرز رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو اپنے ہاں بلا لیا اور دنیا سے جاتے وقت حضور ﷺ مجھ سے راضی تھے۔
میں اس پر اللہ کا بہت شکر ادا کرتا ہوں اور اسے اپنی بڑی سعادت سمجھتا ہوں۔ پھر حضور ﷺ کے بعد ان کے خلیفہ حضرت ابو بکر ؓ کے ساتھ میرا یہی رویہ رہا۔ آپ لوگ اُن کے کرم، تواضع اور نرم مزاجی کو جانتے ہی ہیں۔
میں اُن کا خادم تھا اور ان کے سامنے سُتی ہوئی تلوار کی
۔۔۔۔۔۔طرح رہتا تھا۔ میں اپنی سختی کو اُن کی نرمی کے ساتھ ملا دیتا تھا۔
اگر وہ کسی معاملہ میں خود پہل کرلیتے تو میں رُک جاتا ورنہ میں اِقدام کر لیتا۔ اور ان کے ساتھ میرا یہی رویہ رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا سے اُٹھا لیا اور دنیا سے جاتے وقت وہ مجھ سے راضی تھے۔

میں اس پر اللہ کا بڑا شکر ادا کرتا ہوں اور میں اسے اپنی بڑی سعادت سمجھتا ہوں۔

اور آج تمہارا مسئلہ میری طرف منتقل ہو گیا ہے (کیوںکہ میں خلیفہ بنا دیا گیا ہوں)۔ مجھے معلوم ہے کہ بعض لوگ یہ کہیں گے کہ جب خلیفہ دوسرے تھے
(عمر نہیں تھے) تو یہ ہم پر سختی کیا کرتے تھے، اب جب کہ یہ خود خلیفہ بن گئے ہیں تو اب ان کی سختی کا کیا حال ہو گا۔؟
۔ تم پر واضح ہوجانا چاہیے کہ تمہیں میرے بارے میں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تم مجھے پہچانتے بھی ہو
اور تم لوگ میرا تجر بہ بھی کر چکے ہو۔ اور اپنے نبی ﷺ کی سنت جتنی میں جانتا ہوں اتنی تم بھی جانتے ہو۔ اور حضور ﷺ سے میں نے ہر بات پوچھ رکھی ہے،
اب مجھے (ضرورت کی) کسی بات کے نہ پوچھنے پر ندا مت نہیں ہے۔
تم اچھی طرح سے سمجھ لو کہ اب جب کہ میں خلیفہ بن گیا ہوں
تو اب میری سختی جو تم دیکھتے تھے وہ کئی گنا بڑھ گئی ہے،
لیکن یہ سختی اس انسان کے خلاف ہوگی جو ظلم اور زیادتی کرے گا۔ اور یہ سختی طاقت ور مسلمان سے حق لے کر کمزور مسلمان کو دینے کے لیے ہوگی۔
اور میں اپنی اس سختی کے باوجود اپنا رُخسار تمہارے ان لوگوں کے لیے بچھا دوں گا جو پاک دامن ہوں گے اور غلط کاموں سے رکیں گے اور بات مانیں گے۔
اور مجھے اس بات سے بھی اِنکار نہیں ہے کہ اگر میرے اورتم میں سے کسی کے درمیان کسی فیصلہ کے بارے میں اختلاف ہوجائے تو تم جسے پسند کرو
میں اس کے ساتھ اس کے پاس چلا جائوں گا، اور وہ (ثالث) میرے اور اس کے درمیان جو فیصلہ کرے گا وہ مجھے منظور ہوگا۔

اے اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو اور اپنے بارے میں اس طرح میری مدد کرو کہ میرے پاس ( اِدھر اُدھر کی ساری ) باتیں نہ لائو۔ اور میرے نفس کے خلاف میری اس طرح مدد کرو کہ (جب ضرورت پیش آئے تو) مجھے نیکی کا حکم کرو اور مجھے برائی سے روکو، اور تمہارے جن اُمور کا اللہ نے مجھے والی بنا دیاہے

ان میں تم میرے ساتھ پوری خیر خواہی کرو

۔ پھر آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے۔1
حضرت محمد بن زید ؓ فرماتے ہیںکہ ایک مرتبہ حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت زُبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد ؓ جمع ہوئے۔ اور ان میں حضرت عمر ؓ کے سامنے (بات کرنے میں) سب سے زیادہ جَری حضرت عبد الرحمن بن عوف تھے۔

چناںچہ ان حضرات نے (ان سے) کہا: اے عبد الرحمن! کیا ہی اچھا ہو کہ آپ لوگوں کے بارے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں امیر المؤمنین سے بات کرلیں اور ان سے یہ کہں کہ بہت سے حاجت مند لوگ آتے ہیں
، لیکن آپ کی ہیبت کی وجہ سے آپ سے بات نہیں کر پاتے ہیں اور اپنی ضرورت پوری کیے بغیر ہی واپس چلے جاتے ہیں۔
چناںچہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے حضرت عمر کی خدمت میںحاضر ہو کر عرض کیا: اے امیر المؤمنین! آپ لوگوں کے ساتھ نرمی اختیار فرمائیں،
کیوںکہ بہت سے ضرورت مند آپ کے پاس آتے ہیں لیکن آپ کے رعب اور ہیبت کی وجہ سے آپ سے بات نہیں کر پاتے ہیں
اور آپ سے اپنی ضرورت کہے بغیر ہی واپس چلے جاتے ہیں۔
حضرت عمر نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم ۔۔۔۔
‏دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں
حضرت علی، حضرت عثمان، حضرت طلحہ، حضرت زُبیر اور حضرت سعد ؓ نے یہ بات کرنے کو کہا ہے؟
حضرت عبد الرحمن نے کہا: جی ہاں۔ حضرت عمر نے فرمایا:
اے عبد الرحمٰن! اللہ کی قسم! میں نے لوگوں کے ساتھ اتنی نرمی اختیار کی کہ اس نرمی پر اللہ سے ڈرنے لگا (کہ کہیں وہ اس نرمی پر پکڑ نہ فرما لے)۔
پھر میں نے لوگوں پراتنی سختی اختیار کی کہ اس سختی پر اللہ سے ڈرنے لگا (کہ کہیں وہ اس سختی پر میری پکڑ نہ فرمالے)۔
اب تم ہی بتا ئو کہ چھٹکا را کی کیا صورت ہے؟
حضرت عبد الرحمن وہاں سے روتے ہوئے چادر گھسیٹتے ہوئے اٹھے اور ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہہ رہے تھے: ہائے افسوس! آپ کے بعد ان کا کیا بنے گا (ہائے افسوس!آپ کے بعد ان کا کیا بنے گا)۔ 1
ابو نعیم اپنی کتاب ’’حِلیہ‘‘ میں حضرت شعبی ؓ نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا دل اللہ کے لیے اتنا نرم ہوا کہ مکھن سے بھی زیادہ نرم ہوگیا اور (اسی طرح) میرا دل اللہ کے لیے اتنا سخت ہوا کہ پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگیا۔
ابنِ عساکر حضرت ابنِ عباس ؓ سے نقل کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو ان سے ایک صاحب نے کہاکہ بعض لوگوں نے اس بات کی کوشش کی کہ یہ خلافت آپ کو نہ ملے۔
حضرت عمر نے فرمایا: یہ کس وجہ سے؟

اس نے کہا: ان کا یہ خیا ل تھا کہ آپ بہت سخت ہیں۔ حضرت عمر نے فرمایا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے میرا دل لوگوں کی شفقت سے بھر دیا اور لوگوں کے دل میں میرا رعب بھر دیا۔

سیرت الصحابہ۔۔۔۔جلد 2

فقط والسلام : حافظ محمد عبدالله عفی عنہ
 
Top